رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

Image

دوسرے عشرے کے اختتام په ارض پاک کو تاریخ میں پهلی بار متوسط طبقے سے صدر ملے.ممنون حسین کو واضح برتری حاصل رهی. بھت سے لوگ خوش اور بھت سوں کے منه لٹکے هویے تھے.کراچی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے یه پهلے صدر مملکت هیں . سندھ کی نمایندگی و سینٹ کی اکثریت ایم کیو ایم کی وجه سے ممکن بنی بلکه ممنون حسین کا انتخاب ایم کیو ایم کی حمایت کے بغیر lageslatory نھیں هوسکتا تھا.ورنه پھلے صدر هوتے جو سندھ ، کے پی کے ، و سینٹ کے ووٹ کے بغیر صدر منتخب هوتے . جو که سراسر غیر آءینی و غیر جمھوری عمل هوتا لیکن ایسا هوا نھیں .

شیخ رشید صاحب کو اگر کبھی نصرت جاوید شیدا بھی لکه دیں تو هم کو برا لگتا هے اور هم لڑپڑتے تھے که یه اچھا آدمی هے.لیکن آج هم نے سنا که شیخ صاحب فرماتے هیں که ھاں جی دهی بھلے بیچنے والا ملک کا صدر هوگیا . افسوس صد افسوس.ھمیں اس ماینڈ سیٹ کی نفی کرنی هوگی که مڈل کلاس آدمی ایوان میں نه جایے مڈل کلاس آدمی کے مساعل ایلییٹ کلاس حل کرے .ٹی وی ٹاک شوز میں شیخ صاحب اپنے آپ کو چھاپڑی والے کا نماینده اور غریب کا دلدادا گردنواتے هیں.لیکن مڈل کلاس کو ایوان صدر میں برداشت نھیں کر رهے.

Image

تحریک انصاف و جماعت اسلامی کا دور انصافی گذر رها هے عمران خان و پرویز خٹک کو دیکھ کر ایسا لگتا هے نیا کے پی کے میں راوی سب چین ھی چین لکھتا هے. حکومتی رٹ کے پی کے میں ختم هوتی جارهی هے، کرک باجوڑ بنوں اور اب ڈی آیی خان. ..پرویز خٹک اوون کرنے کو تیار نھیں وه اس سارے واقعے کی ذمه داری لینے کو تیار نھیں.لیکن نیے خیبر پختونخواه کی تعمیر و توسیع میں یه 250 کاریگر کتنا معاون ثابت هوتے هین یه وقت بتایے گا لیکن هم  په کرم کرتے هویے اپنے ان عزیز رشته داروں اور قرابت داروں کو اپنی گلیوں تک هی محدود رکھیں.ان کی ترسیل پنجاب اور سندھ میں نه کیجیے گا. کیونکه سنا هے که ساری تشکیلیں هوتی تو آپ کی مرضی سے هیں.

چلتے چلتے اپنی حیرت بھی رکارڈ کراتے چلیں که عمران خان صاحب پچھلے 48 گھنٹوں سے عدلیه کو متنازع بنانے کی کوشش کر رهے اور مستقل بنیادوں په توهین کے مرکتب هو رهے هیں.آج عدلیه سوموٹو کیوں نھیں لیتی ورنه کسی اور نے بولا هوتا تو کیا عزیزآباد کیا لندن اور کیا گڑھی خدا بخش. ھر طرف نوٹس هی نوٹس هوتے.

بتاریخ:30 جولایی 13 جے رضا زیدی.
 @junaid890

Advertisements

رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

Junaid Raza کراچوی

مورخه 25 جولایی آدھا رمضان گذر چکا هے.هم یه واضح کرتے رهتے هیں که جو ھم ناسمجھ کی سمجھ میں آتا هے لکه دیا جاتا هے.اور یه قابل اعتراض هوسکتا هے لیکن ٹویٹر فیس بک کے گالی بردار رضاکار اعتراض کریں بحث کریں لیکن فحش زبان سے گریز کیا جایے.هماری تحریر هماری تربیت هے چاهے عکاسی والدین کی هو یا لیڈر شپ کی.

بات گرم هے صدارتی الیکشن کی تو عدلیه نے ن لیگ کی درخواست په صدارتی انتخاب ٣٠جولایی کو کرانے کا حکم بغیر دوسرے فریق کو سنے دے دیا.اس پورے معاملے په رضا ربانی کاوقف صحافتی حلقوں میں درست جانا گیا لیکن کھل کر کهیں بھی تنقید نه هویی.ایم کیو ایم کی جانب سے ممنون حسین کی حمایت بھتر اور مثبت قدم هے. اس طرح کراچی اور پنجاب قریب آییں گے سنا هے ممنون حسین متحده کے وفد سے شاید کل ملاقات بھی کریں گے . یه بھت…

View original post 440 more words

رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

مورخه 25 جولایی آدھا رمضان گذر چکا هے.هم یه واضح کرتے رهتے هیں که جو ھم ناسمجھ کی سمجھ میں آتا هے لکه دیا جاتا هے.اور یه قابل اعتراض هوسکتا هے لیکن ٹویٹر فیس بک کے گالی بردار رضاکار اعتراض کریں بحث کریں لیکن فحش زبان سے گریز کیا جایے.هماری تحریر هماری تربیت هے چاهے عکاسی والدین کی هو یا لیڈر شپ کی.

بات گرم هے صدارتی الیکشن کی تو عدلیه نے ن لیگ کی درخواست په صدارتی انتخاب ٣٠جولایی کو کرانے کا حکم بغیر دوسرے فریق کو سنے دے دیا.اس پورے معاملے په رضا ربانی کاوقف صحافتی حلقوں میں درست جانا گیا لیکن کھل کر کهیں بھی تنقید نه هویی.ایم کیو ایم کی جانب سے ممنون حسین کی حمایت بھتر اور مثبت قدم هے. اس طرح کراچی اور پنجاب قریب آییں گے سنا هے ممنون حسین متحده کے وفد سے شاید کل ملاقات بھی کریں گے . یه بھت خوش آءیند قدم هوگا.کراچی اور ن لیگ کی قیادت کے قریب آنے سے یه ارض پاک مضبوط اور خوشحال هوگا. خوشحال کراچی خوشحال پاکستان.Image

ثمینه خاور اپنی دوسری ڈگری کو بھی تصدیقی مھر نه لگواسکیں اور آج نا اھل قرار پاییں.پچھلی پیشی میں رفاهی یونیورسٹی کی ایک ڈگری جمع کرایی جو تصدیق نه هویی پھر مسز خاور نے پرسٹن یونیورسٹی کی ڈگری جمع کرایی جو که دو نمبر ثابت هویی.سوال یه هے که عاءله ملک اور مسز ثمینه خاور دو نمبر فوجری کی گیی ڈگریوں په پانچ پانچ سال اسمبلیز میں گذار چکی هیں.صرف تنخواھ اور مراعات کروڑوں کا بجٹ اور صوابدیدی فنڈز کون حساب لےگا.عدلیه اور الیکشن کمیشن واضح لایح عمل اختیار تاکه ان دو نمبری لوگوں سے حساب هو سکے ورنه اس طرح چھوڑ دینے کا مطلب تو ریسٹ دینا هے.ویسے صوبه سندھ سے ابھی تک کویی جعلی ڈگری ھولڈر آیا نھیں. یه سوغات پنجاب میں وافر پایی جارهی هے.

Image

ریاست خیبر پختون خواھ جھاں تحریک انصاف و جماعت اسلامی کی حکومت هے وهاں کے صوبایی وزیر مواصلات شوکت یوسف زءی ایک ٹی وی چینل په بشری گوھر کے ساتھ لایو پروگرام کر رهے تھے که جب جواب نه بن پڑا تو بولے بی بی تم سر په دوپٹه لو پرده کرو اور بدتمیزی کی.یه بشری گوھر کی بات نھیں بلکه یه تحریک انصاف کی کونسی پالیسیز هیں که آپ آیے تو جماعت اسلامی آپ کی بی ٹیم بنی چلو کویی بات نھیں لیکن آپ جلسوں میں سلیو لیس کنسرٹس کرانے والے لوگ هیں اور آپ کے ایم پی اے کبھی سلمان تاثیر کے قاتل کو چھوڑنے کی بات کرتے هیں،تو کبھی زبردستی حجاب کراتے هیں، آپ کے آنے سے کرک میں پاکستانی آیین منسوخ هوچکا هے اور کویی من گھڑک پیریلل PARALLEL نظام رایج هوچکا هے.جھاں عورت بغیر برقے کے نھیں نکلتی بغیر محرم نھیں نکلتی بازار اسکول کالج سے خواتین کا کویی تعلق نھیں . ایک عجیب نظام قایم هے اور ان کے آنے سے یه مختلف جگھوں په امپلمنٹ هونا شروع هوگیا هے.

Image

آج یه لکه دینے میں کوءی مضایقه نھیں که طالبان کے پی کے اور کراچی میں ان قوتوں کے لیے گراؤنڈ بناتے رهے.جن سے طے هوگیا تھا که مذاکرات کے نام په ھمارا وضح کیا گیا نظام رایج کرو گےهمارے ایک دوست عمادالدین تو کھتے هیں که ان کی مشاورت سے ٹکٹوں کی تقسیم هویی هے.ان کے پاس اس کے ثبوت بھی ھیں.ویسے کیا طرز سیاست هے که ایک طرف خیبر پختون خواھ میں ڈنڈا بردار شریعت اور ایک طرف کراچی دھرنوں میں سلیو ؤ لیس دھرنے جھاں شیشه پانی سب چلا.خدا بچایے نام نھاد اسلام پسند تنظیموں سے دنیا بھی رسواء آخرت بھی خراب.

بتاریخ 25جولایی 13 جے رضا زیدی. @junaid890

رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

Image

24جولایی ایک المناک دن جب سکھر میں آیی ایس آیی کے ھیڈ کواٹر په خود کش حملے هویے.آخری خبریں آنے تک 5 افراد شھید اور کم و بیش 40 زخمی بتایے جارهے هیں. ایک افسوس ناک دن اور ڈوب مرنے کا مقام هے هماری لاء اینڈ فارسمنٹ ایجنسیز اور همارے حکمرانوں کے لیے.جب چند سال پهلے الطاف حسین نے سندھ بچانے کی بات کی تو خوب تمسخر اڑایا ساییں قاعم علی شاھ نے اور ان کے وزیر مواصلات شرجیل انعام میمن نے.پهر یکے بعد یگرے واقعات کے بعد ایمان لے آیے. اگر اس وقت یه حضرات سنجیدگی اختیار کرتے تو شاید سکھر بلاسٹ نه هوتے.اس خطے کی حالیه تاریخ اس بات کی شاھد هے که جب جب موڈریٹ قووتوں کا راسته روکا گیا بنیاد پرستوں کوواقع ملے اور جب انھیں مواقع ملے وه اپنا ھی قانون لے کر آیے. ..

جو لوگ زرداری کو ذهین فطین شخص مان کر اگلی باری پهر زرداری کا نعره لگایا اور لگوایا کرتے تھے وه غریب تو منه چھپایے پھر رهے هیں.هم نے زرداری صاحب کو همیشه ایک احمق پیاده تصور کیا هے اور لکھا بھی هے.ذرا سوچیے باجوڑ ، مھمند ایجنسی ، سوات و دیگر  قبایلی علاقوں سے دھشت گردوں کو بھگا کر اپنے گھر میں کویی باؤلا هی پناھ دیگا جو شخص پانچ ساله دور صدارت کے باوجود اپنے دوست اور دشمن کی تمیز نه کرسکا جو شخص صدر وزیر اعظم چیرمین سینٹ اور تین صوبوں میں حکمرانی کے باوجود اپنے گھر کی آگ نه بجھاسکا اسے سیانا تو نھیں گردانا جاسکتا. کسی کو بھی سی ایس پی افسران کی فوج دے دو ملکی ایجنسیاں اس کے ماتحت هوں اس کے اقدامات کو ملکی و غیر ملکی آقاؤں کی آشیرباد هو تو کسی بھی احمق کو اتنی عقل تو آهی جاتی هے جتنی زور کے داری صاحب کو هے.

آج کے کراچی سے شایع هونےوالے دنیا نیوز کے اخبار میں ھارون رشید کا کالم ھاتھ آیا پڑھ کر عجیب سا لگا که یه کالم نویس قوموں کی تاریخ کو جھوٹے قمقمے کیوں دیتے هیں آپ اپنے کالم میں کراچی میں تشدد کی سیاست کا ذمه دار پی پی پی ، ایم کیو ایم ، و عوامی نیشنل پارٹی کو گردانتے هیں اور لکهتے هیں که” اگر ن لیگ جماعت اسلامی و تحریک انصاف بغیر اسلحے کے اور بغیر تشدد کے سیاست کر سکتے هیں تو دیگر جماعتیں کیوں نھیں.

میں صدقے میں واری ھارون رشید صاحب کے که بڑے بزرگ هیں اور عمر کے اس حصے میں یاد داشت تو تازه رهنا چاهیے . تو حضور عالی کراچی میں ایم کیو ایم کی تاریخ 85 کے جلسے سے لکهی جاتی هے لیکن جماعت اسلامی کے تھنڈر اسکواڈ کی و البدر کی تاریخ 65 سال پرانی ھے.یه کویی سماجی تنظیمیں نھیں تھیں یه مسلح ونگ تھے کراچی یونیورسٹی هو یا نیشنل کالج ،آدم جی ھو یا ڈی جے ساینس یھاں کے طلباء اور وه اساتذه ابھی حیات هیں جو جمیعت کے مظالم کا شکار هویے شھر کراچی میں ضیا الحق کی گود میں بیٹھ کر کس نے کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا ایم کیو ایم نے یا جماعت اسلامی نے؟

اور آپ نے تحریک انصاف کا ذکر کیا تو شاید آپ اسی روزنامه دنیا اور روزنامه نیی بات لاهور کے اخبار میں تین تلوار فاءرنگ کے ملزمان کی گرفتاری کا ذکر کر کے گیے ھیں که اپنی ریلی په فاءرنگ کی اور درخشاں پولیس اسٹیشن کی موباءل نے پکڑا تو وه تحریک انصاف کے هی کارکن نکلے.اس کے علاوه پنڈی کی بھته مافیا کے بارے میں بھی آپ اپنے کالم میں ذکر کر گیے اور یه بھی لکه گیے که آپ نے ان دونوں واقعات کی شکایت پارٹی ھاءی کمان کو بھی کر چکے هیں اور اس کے علاوه گینگ وار اور تحریک انصاف کے امیدواران کا عشق کراچی میں طشت از بام هے اکثر میڈیا په تصاویر آتی رهتی هیں اور ابھی حال هی میں جو ٹارگٹ کلرز پکڑے گیے هیں ان میں سے 9تحریک انصاف کے بھی هیں.

Image  Image

تو اب بچے همارے آپکے سب کے لیگی بھایی تو یهاں تو ان کے پاس جھنڈه لگانے کو کارکن نھیں ملیٹینٹ ونگ کهاں سے آییں گے. هاں پنجاب میں ان کے تعلقات مسعود اظھر، احمد لدھیانوی ملک اسحاق سب سے ھیں اور یه سب بھی صرف اسی ماینڈ سیٹ کو سپورٹ کرتے هیں اور تشدد کی جھاں تک بات هے تو گاؤں گاؤں ریپ کیسز ، تیزاب پهینکنا اور ، پانی کی تقسیم په گولیاں چلنے کے متعدد واقعات رکارڈ هوتے رهتے هیں یه تمام واقعات کویی غریب کا بچه نھیں کر رها هوتا ان کیسز میں مڈل سٹینڈرڈ پڑھے لکھے لوگ ملوث نھیں پایے جاتے بلکه کسی جاگیردار کا خون ان مظالم میں ملوث هوتا هے اور وه جاگیردار آپ کی پاک دامن سیاسی جماعت کا کویی بڑا نام هوتا هے. ذوالفقار کھوسه اور عاءشه احد کیس تازے هیں اور تازے کیسز میں کھر صاحب کے بیٹے کا تیزاب پهینکنا بھی آپ کو یاد هوگا.

بزرگوں تشدد تشدد هوتا هے جو که غلط هے ایم کیو ایم کو بھت سخت باتیں هم بھی لکھ جاتے هیں لیکن حضور ایسا بھی کیا که لاکھ کو خاک اور خاک کو لاکھ لکھا جایے.

بتاریخ: 24/جولایی/13 جے رضا زیدی. @junaid890

رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

23 ویں روزے کے اختتام په هم بیٹھے موجوده حالات کا تانا بانا بن رهے تھے،میڈیا 5ارب 10ارب کے چکر میں کمرشلز چلارها هے.جو کچھ ھم نا سمجھ کی سمجھ میں آیا وه آپ کے ساتھ بانٹھ رهے هیں.

پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخواه ، ن لیگ کو پنجاب ، پی پی کو سندھ میں حکومت بنانے کا موقع ملا.اس طرح پاکستان میں تین سیاسی جماعتیں بر سر اقتدار هیں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آیی، اور مسلم لیگ ن (آزاد و بلوچ نیشنل پارٹی اس کے علاوه هیں لیکن بلوچستان کی حد تک). ان تمام سیاسی جماعتوں میں بڑا اتفاق هے.اک خاموش معاهده خاموش رهنے کا ان سب کے بیچ طے هے که ھماری آنکھیں اور زبان جب کھلے گی سامنے والے کی کھلے گی.جب تک وه چپ تو هم چپ.

بڑے بڑے تجزیه نگار عمران خان کو پاکستان میں حقیقی اپوزیشن مان بیٹھے تھے.لوگ تحریک انصاف سے ایشوز کی سیاست کی توقع کر رهے تھے .کیونکه یه بات تو روز اول سے عیاں ھے که پیپلز پارٹی ن لیگ کو کبھی بھی ٹف ٹایم نھیں دے گی اس کی بنیادی وجه رکارڈ کرپشن کے رکارڈڈ کیسز هیں اور رھی سھی کسر خود کش دھماکے میں بلال شیخ کی شھادت نے پوری کردی.با الفاظ بازاری زبان نکیل پڑگیی. پیپلز پارٹی کو بتادیا گیا هے که آپ کو مڈل ایسٹ جانا هے یا لاهور.فیصله آپکا.

اب لوگ عمران خان کو اپوزیشن تصور کر بیٹھے تھے یه ان کی بھول تھی.آخر عمران کو یهیں رھنا تھا اور ھاتھ ملا کے رهنا تھا. عمران خان کی پارٹی کو نیا کے پی کے بنانا تھا.ٹھیکیداری کے کرپٹ سسٹم بنانے تھے.ڈرونز په خاموشی بھی اختیار کرنی تھی.پرو ونشل لیزنگ بھی کرنی تھی. با الفاظ دیگر پورے پاکستان کے کارکنوں کی روٹی روزی کے پی کے نے پوری کرنی تھی.اب ایسے میں عمران اپوزیشن کی سیاست کریں گے تو کے پی کے میں حکومت کیسے کریں گے. ویسے بھی ایک بڑے میاں صاحب کو لیڈر ایک چھوٹے میاں صاحب کو رول ماڈل مانتا هے.

اگر کھیں اپوزیشن کی کویی صورت نظر آرهی هےتو وه صوبه سندھ ھے.یھاں ایم کیو ایم قدرے بھتر انداز میں اپوزیشن کا سا رول پلے کر رهی هے . لیکن تیسرے ھاتھ کے اشارے په کوشش یهی هورهی هے که ایم کیو ایم کو الجھا کے رکھا جایے.کبھی عمران خان سے کھبی امن کمیٹی سے کبھی کسی ٹی وی اینکر کو بک کرلیا یعنی تیسرا هاتھ اپنا کام کر رها هے.سیاست کی اس شطرنج میں عمران خان وقتی فواعد تو شاید حاصل کرلیں لیکن دور رس نتایج حاصل نھیں کیے جاسکتے.بے شک ایم کیو ایم ھمیں بجلی پانی لینڈ لاء ان آرڈر په بات کرتے هویے ملتی هے لیکن ساتھ ساتھ کسی نه محاذ په بلا وجه الجھی هویی بھی ملتی هے.لیکن بھتر اور مھذب اپوزیشن هے.

241497-mqm-1314583145-389-640x480

بات لمبی هوجاتی هے چلتے چلتے …وزیر داخله صاحب کراچی تشریف لایے اور ایر پورٹ په اک پر ھجوم پریس کانفرنس کی.امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی اور واپسی میں امن و امان کے مسلے کو صوبایی مسله قرار دے کے اسلام آباد روانه هوگیے. اگر آیین پاکستان کا باب برایے بنیادی حقوق. Chapter of fundamental rights. کا آرٹیکل 8 سے 28 تک واضح ھے که (اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی هے )وفاق ضامن هے کسی بھی شھری کی جان مال عزت آبرو جاءیداد کا اور ذمه دار هے.جواب جب بھی مانگا جایے گا state سے مانگا جایے گا. اسٹیٹ ذمه دار تھی ذمه دار هے اور رهے گی…………کیا غضب تماشے کی گھناؤنی  کھانی هے. یهاں کون بنے گا ذمه دار؟Image

بتاریخ 23/جولایی/13 جے رضا زیدی. @junaid890

رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

آج مورخه باییس جولایی موسم رنگین هے زندگی مصروف هے اور سیاست کو  روزے لگے هویے هیں.

آج کل حامد میر په سچی صحافت کا بخار چڑھا هے یا یوں سمجھیے که الله سبحانه و تعالی نے میر صاحب کے هاتھوں بھت سوں کو ایکسپوز expose کرانا هے.زید حامد کاذبی اب منه دکھانے کے لایق اس دنیا میں نھیں رهے.الله ان زلیل پاگل کتوں انجام جلد اس دنیا کو دکھایے گا.

ان کو لعنت دینا اس لیے فرض عین هے که یه رسالت کے دشمن ،یه عطرت رسول الله کے دشمن اور یه معصوم پاکستانی عوام کے دشمن هیں.ان کے لیے کسی قسم کی کویی تمیز نه رکھی جایے گی.

میر صاحب کے اس پروگرام کے پهلے بریک کے بعد جو کلپس دکھاءے گیے اس میں زید حامد انکار رسول کسی پرایویٹ میٹنگ میں بیٹھا هے اور اس کے بعد کسی کے ساتھ بیٹھا هے اور گفتگو کچھ یوں هے که ایم کیو ایم ،اے این پی غدار وطن هیں ان کے سجایے هویے الیکشن کو روکنا هوگا یه ورنه دوباره آجاییں گے.یه فاشسٹ لادین لوگ هیں ان کو طاقت کے بل په روکا جایے گا.”

اس کلپ کے ساتھ هی مجھ کو الیکشن کمپین میں کیے گیے دھماکے یاد آگیے مجھے امیدواروں کی شھادتیں اور سیاسی جماعتوں کے ورکروں کی لازوال قربانیاں یاد آییں.

اس کی اس ویڈیو کلپ کے بعد متحده و اے این پی کو اپنی اپنی مدعیت میں بم دھماکوں کی ایف آیی آر میں نامعلوم کی جگه اب زید حامد کا نام ڈلوانا   چاهیے. ھمیں یاد رکھنا چاهیے که نالج اور انداز  بیان عرب کے جھلاء کے بھی تھا سلمان رشدی اور تسنیمه نسرین کے پاس بھی ھے یه بھی گمراھ هیں اور زید حامد بھی ملعون ھے مردود هے

هماری محترم چیف جسٹس افتخار محمد چوهدری صاحب سے اس سارے معاملے په سو موٹو لینے کی درخواست ھے ھم اپیل کرتے هیں که زید حامد کو فوری طور سے حراست میں لیکر پوچھ گچھ کی جایے که بتا کون کون سی ایجنسیز کے لیے کام کرتا هے.انکاری رسول.

Image Reality-of-Zaid-Hamid zaid-hamid-telephonic-nikah

بتاریخ:22/جولایی/13 جے.رضا زیدی @junaid890