رات کی ڈاءری صبح کی تحریر *

آج مورخه 15 جولاءی کو پانچواں روزه بھی پر لگاکے اڑچکا هے.آج کے اخبارات کے مطالعے کے دوران جنگ اخبار مورخه 15 جولاءی حامد میر صاحب کا کالم نظروں سے گذرا.
دور حاضر کی صحافی برادری میں حامد میر اک اهم مقام رکھتے هیں لیکن قلم کمان کا ھیڈر پڑھ کے کچھ ایسا لگا که کسی گهرے کنویں سے کوءی ڈوبتی آواز آیی “الطاف حسین پهر بچ جاییں گے؟”

پهلے پیرا میں آپ نے بی بی سی کی ڈاکیونٹری کے حوالے سے بات کی جس میں شھید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق  اور منی لانڈرنگ کا آپ نے ذکر کیا تو منی لانڈرنگ ایک بایی لیکٹرل قانون هے اور ابھی تک کھیں کسی برطانوی ادارے میں کویی فارمل کمپلین ابھی تک رجسٹرڈ نھیں هے.عمران فاروق بھایی شھید کی بیوه شمایله باجی کا الطاف حسین بھایی په اظھار اعتماد جو که هم نے جیو هی په سنا سازشی عناصر اور چڑی بازوں کے منه په اک چماٹ هے.

آپ نے دوسرے پیرا میں دو افراد کا ذکر کیا میرے بھت محترم جن کا آپ ذکر کر گیے ان کے هتھے اجمل صدیقی چڑھے تو اجمل پهاڑی بن گیے صولت مرزا کی جے آیی ٹیز اور اجمل صدیق کی جے آیی ٹیز کیا کیا نھیں بنا حتی که زنده ڈاکٹر عمران فاروق کے مرڈر کی جے آیی ٹیز،تک چھاپ دی گییں تو کیا ان دو کو خالو کی نشانی سمجھ کے سینک کے سینچ کے رکھا میر صاحب اگر کچھ هوتا تو کھینچ کھینچ کے بڑا کیا جاچکا هوتا لیکن کچھ هے هی نھیں کچھ هوتا تو آج تک برطانیه کے حوالے کردیا گیا هوتا.اور رحمان ملک کے حوالے سے آپ نے فیور ازم کی سپورٹ کی یا چیزیں چھپانے کی بات کی تو میر صاحب اجمل صدیقی کی جواینٹ انویسٹیگیشن رپورٹ رحمان ملک کے دور میں هی بنی اور یو ٹیوب په چلی.
اگر کچھ هوتا تو چلتا بھایی ھم عوام کے بھی کچھ مخصوص ذرایع هوتے هیں.

اب کرتے هیں مقدمات کی بات تو ان مقدمات کی کریڈیبلٹی اس کا اندازه اس بات سے لگاییں که اس میں سایکل چوری اور پولیس والے کی ٹوپی کی چوری تک کے مقدمات تھے اور قتل کے مقدمات کی کریڈیبلٹی کا اندازه اس بات سے لگاییں که زنده ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں الطاف حسین بھایی کی ایف آیی آر تک موجود تھی 
یه سیاسی مقدمات تھے .ایم کیو ایم کا 
NRO
په واضح موقف تھا که عدلیه سے انصاف ملنا چاهیے گناھگار اور بے گناھ کا فیصله غیر جانبدار عدلیه کو کرنا چاهیے.آپ هی کے پروگرام میں حیدر عباس رضوی بھایی نے اس وقت بھی ایم کیو ایم کا یهی موقف واضح کیا تھا اور میر صاحب آپ کو تو یاد هوگا.

آگے چل کے آپ اصغر خان کیس میں اسلم بیگ اور بریف کیس کا ذکر نه جانے کیوں کر گیے جب که آپ جانتے هیں یونس حبیب کی گواھی کو اور یونس حبیب کی وضاحت کو الطاف حسن قریشی اردو ڈایجسٹ والے اور الطاف حسین ایم کیو ایم والے.آپ کے اخبار عوام کی ھیڈ لاین بنی تھی که”الطاف 
حسین نے بریف کیس واپس کردیا 
” ھمیں یاد هے سب کچھ ذرا ذرا تمھیں یاد هو که نه یاد هو”
کاپی آپ کو میل کردی هے.

پنڈی اور خفیه اداروں کے حوالے سے اور کن فون کالز کا آپ نے ذکر کیا هے یه فون کالز گھمانے والی سرکار نے الطاف حسین بھایی کو سندھ کے شھروں کا جی ایم سید بنانے کی سازش کی تھی جو که ناکام هویی اور کیونکه الطاف حسین ان کے کسی گریٹ گیم کا حصه بنے کے لیے نه کل تیار تھے نه آج هیں اور نه کل هوں گے.

آخری الزام آپ نے وهی پرانا لگایا که سیاست میں تشدد تو بھایی جب جشن ایوب منایا گیا اور لیاقت آباد کی سڑکوں سے کورنگی تک جو آگ و خون کی حولی کھیلی گیی جو بربریت کا ننگا ناچ هوا وه سب نے دیکھا اور اس کے گواھ ابھی زنده هیں
الذوالفقار اور بلیک تھنڈر بھی ایم کیو ایم سے پهلے کی تخلیق بلکه بلیک تھنڈر یعنی جماعت اسلامی کی دهشت گرد تنظیم یونیورسٹی میں تشدد کی بنیاد بنی.

ابھی کھیں کویی مقدمه لگا نھیں آپ کے هم عصر پیٹی بھایی تو فرط جذمات میں 14 سال کی سزاییں سنا گیے.

میر صاحب رولنگ پارٹی سے اقتدار کی منتقلی کے بعد سیاسی جماعتوں په مختلف فیزز آتے هیں.

لوگ کهتے هیں ایم کیو ایم صحیح وقت په صحیح پتے کھیلنا جانتی هے اک اشاره کرتے چلیں که آج فیصل سبزواری بھایی کی ٹایم لاین په یه شعر موجود هے کھ
“اس لیے جفاؤں په مجھ کو مسکرانا تھا
اور  اس  ستمگر  کا  حوصله بڑھانا تھا”

J.RAZA ZAIDI
16/7/2013
Twitter handle@junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

2 thoughts on “رات کی ڈاءری صبح کی تحریر *”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s