رات کی ڈاءری صبح کی تحریر

دوسرے عشرے کے اختتام په مون سون کی بارشوں نے پورے ملک میں زور پکڑا هوا هے.هر طرف جل تھل هے.

کراچی کی تاریخ ماورایے عدالت قتال سے بھری هویی هے. ٩٢ میں یه روایت شروع هوءی جو که تین حکومتوں کے جانے کا سبب بنی.کراچی بد امنی کیس کی میں ڈی جی رینجرز کا غیر ذمه دارانه رویه سب نے دیکھا که بلانے په آتے نھیں آتے هیں تو رپورٹ بھول آتے هیں.کراچی کی پولیس تو ان کے سامنے ماورایے عدالت میں اغواء میں منشیات فروشی میں طفل مکتب هے.ابھی حالیه واقعات په نظر ڈالیں تو سرفراز نامی شخص کو بینظیر بھٹو پارک میں ساده لباس اھلکار دھکا دیتے هویے با وردی  رینجرز اھلکاروں کی طرف لے گیے اور اس باوردی اھلکار سے سرفراز زندگی کی بھیک مانگتا رها لیکن اسے گولیاں ماردی گییں.ویڈیو پوشیده کیمرے سے ریکارڈ هو چکی تھی .لیک هونے په دو چار بلاگس لکھے گیے اداریے چھپ گیے اور بس ٹاییں ٹاییں فش.

پهر میی ٢٠١٣ میں سٹی ریلوے کالونی صدر ٹاؤن یو سی نمبر ٤ کی مسجد سے اجمل بیگ نامی ایک سیاسی جماعت سے وابسته شخص کو رینجرز نے مسجد سے دسیوں نمازیوں اور سینکڑوں لوگوں کے بیچ سے اٹھایا اور بیھیمانه تشدد کا نشانه بنایا اور قریب المرگ حالت میں پولیس کسٹڈی میں دیا گیا جھاں اجمل بیگ نے دم توڑ دیا.اجمل بیگ اور همارے ایک مشترکه دوست بھی هیں جو اس علاقے کے ناظم بھی رهے هیں.ان سے اور ان کے توسط سے اس پورے واقعے کی نالج هم نے وهاں جاکر خود لی اور مسجد کے امام کی اور اھل محله کی گواھی اجمل بیگ کی بے گناھی ثابت کر رهی تھی.

پهر ٥ جون ٢٠١٣ شاهراء فیصل ٢٤ ساله نوجوان کو پهر رینجرز نے گولی کا نشانه بناکر لقمه اجل کیا.اس نوجوان کی ٢٥ روز قبل شادی هویی تھی اور یه بچه اپنے دوست کا ڈایا لیسز Dialysis کرا کے واپس آرها تھا.ویڈیو یهاں بھی بنی جس میں واضح هے که رکنے کا اشاره کیا گیا جس کو دیکھا نه گیا اور رینجرز اھلکاروں نے اگنورنس محسوس کرتے هویے فایر کھول دیا اور نوجوان موقع په دم توڑ گیا

ابھی حالیه واقعه گلستان جوهر میں پیش آیا جھاں افطاری کا سامان لینے ایک غریب ٹیکسی ڈرایور اپنے ٤ ساله بیٹے کے ساتھ جارها تھا اسے رکنے کا اشاره هوا وه رکا اور اس نے گاڑی ریورس کرنی شروع هی کی که لانس ناییک غلام رسول کی گولی ڈرایور کے بھیجے کو اڑا گیی.٤ ساله بچه اس ٹیکسی ڈرایور کے ساتھ تھا. پهر ابھی دو روز قبل بلال نامی شخص کو سکندر گوٹھ سے اٹھایا اور تیز دھار آلوں سے اور الیکٹرک شاکس کے ذریعے تشدد کرکے سچل تھانه پولیس کے حوالے کیا گیا.جھاں کچھ هی دیر میں وه دم توڑ گیا.

مسله یه هے که شاھزیب کا باپ پیسے والا آدمی تھا لڑ بھی لیا اور ڈیل بھی هو هی گیی.لیکن ان غریبوں کے لیے نه ٹی وی اینکر بول رهے هیں اور نه کالم نویس قرار واقعی کووریج دے رهے هیں.متحده کے علاوھ کسی کا کو یی مذمتی بیان تک نھیں آیا.میری پارلیمانی فورسز سے اور صحافی بھاییوں سے درد دل رکھنے کی التجا ء هے.

کراچی بد امنی کی اگر صحیح رپورٹ پیش کی جایے تو پته چلے گا که کراچی بد امنی کا بنیادی ذمه دار پاکستان رینجرز هے.سٹی ڈسٹرکٹ لینڈ و دفاتر میں بزور بازو ان کے قبضے هیں جسے کون خالی کرایے گا کون ان پاگل وحشی درندوں کو لگام دے گا.پارلیمنٹ،عدلیه،وفاقی ادارے،صوبه یا؟ یا ان کا انجام بھی ماضی کے ظالموں کی طرح عوامی هاتھ سے هوگا

Image

بتاریخ:21/ جولاءی/ 13 جے رضا زیدی……. @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s