رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

23 ویں روزے کے اختتام په هم بیٹھے موجوده حالات کا تانا بانا بن رهے تھے،میڈیا 5ارب 10ارب کے چکر میں کمرشلز چلارها هے.جو کچھ ھم نا سمجھ کی سمجھ میں آیا وه آپ کے ساتھ بانٹھ رهے هیں.

پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخواه ، ن لیگ کو پنجاب ، پی پی کو سندھ میں حکومت بنانے کا موقع ملا.اس طرح پاکستان میں تین سیاسی جماعتیں بر سر اقتدار هیں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آیی، اور مسلم لیگ ن (آزاد و بلوچ نیشنل پارٹی اس کے علاوه هیں لیکن بلوچستان کی حد تک). ان تمام سیاسی جماعتوں میں بڑا اتفاق هے.اک خاموش معاهده خاموش رهنے کا ان سب کے بیچ طے هے که ھماری آنکھیں اور زبان جب کھلے گی سامنے والے کی کھلے گی.جب تک وه چپ تو هم چپ.

بڑے بڑے تجزیه نگار عمران خان کو پاکستان میں حقیقی اپوزیشن مان بیٹھے تھے.لوگ تحریک انصاف سے ایشوز کی سیاست کی توقع کر رهے تھے .کیونکه یه بات تو روز اول سے عیاں ھے که پیپلز پارٹی ن لیگ کو کبھی بھی ٹف ٹایم نھیں دے گی اس کی بنیادی وجه رکارڈ کرپشن کے رکارڈڈ کیسز هیں اور رھی سھی کسر خود کش دھماکے میں بلال شیخ کی شھادت نے پوری کردی.با الفاظ بازاری زبان نکیل پڑگیی. پیپلز پارٹی کو بتادیا گیا هے که آپ کو مڈل ایسٹ جانا هے یا لاهور.فیصله آپکا.

اب لوگ عمران خان کو اپوزیشن تصور کر بیٹھے تھے یه ان کی بھول تھی.آخر عمران کو یهیں رھنا تھا اور ھاتھ ملا کے رهنا تھا. عمران خان کی پارٹی کو نیا کے پی کے بنانا تھا.ٹھیکیداری کے کرپٹ سسٹم بنانے تھے.ڈرونز په خاموشی بھی اختیار کرنی تھی.پرو ونشل لیزنگ بھی کرنی تھی. با الفاظ دیگر پورے پاکستان کے کارکنوں کی روٹی روزی کے پی کے نے پوری کرنی تھی.اب ایسے میں عمران اپوزیشن کی سیاست کریں گے تو کے پی کے میں حکومت کیسے کریں گے. ویسے بھی ایک بڑے میاں صاحب کو لیڈر ایک چھوٹے میاں صاحب کو رول ماڈل مانتا هے.

اگر کھیں اپوزیشن کی کویی صورت نظر آرهی هےتو وه صوبه سندھ ھے.یھاں ایم کیو ایم قدرے بھتر انداز میں اپوزیشن کا سا رول پلے کر رهی هے . لیکن تیسرے ھاتھ کے اشارے په کوشش یهی هورهی هے که ایم کیو ایم کو الجھا کے رکھا جایے.کبھی عمران خان سے کھبی امن کمیٹی سے کبھی کسی ٹی وی اینکر کو بک کرلیا یعنی تیسرا هاتھ اپنا کام کر رها هے.سیاست کی اس شطرنج میں عمران خان وقتی فواعد تو شاید حاصل کرلیں لیکن دور رس نتایج حاصل نھیں کیے جاسکتے.بے شک ایم کیو ایم ھمیں بجلی پانی لینڈ لاء ان آرڈر په بات کرتے هویے ملتی هے لیکن ساتھ ساتھ کسی نه محاذ په بلا وجه الجھی هویی بھی ملتی هے.لیکن بھتر اور مھذب اپوزیشن هے.

241497-mqm-1314583145-389-640x480

بات لمبی هوجاتی هے چلتے چلتے …وزیر داخله صاحب کراچی تشریف لایے اور ایر پورٹ په اک پر ھجوم پریس کانفرنس کی.امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی اور واپسی میں امن و امان کے مسلے کو صوبایی مسله قرار دے کے اسلام آباد روانه هوگیے. اگر آیین پاکستان کا باب برایے بنیادی حقوق. Chapter of fundamental rights. کا آرٹیکل 8 سے 28 تک واضح ھے که (اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی هے )وفاق ضامن هے کسی بھی شھری کی جان مال عزت آبرو جاءیداد کا اور ذمه دار هے.جواب جب بھی مانگا جایے گا state سے مانگا جایے گا. اسٹیٹ ذمه دار تھی ذمه دار هے اور رهے گی…………کیا غضب تماشے کی گھناؤنی  کھانی هے. یهاں کون بنے گا ذمه دار؟Image

بتاریخ 23/جولایی/13 جے رضا زیدی. @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s