رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.

Image

24جولایی ایک المناک دن جب سکھر میں آیی ایس آیی کے ھیڈ کواٹر په خود کش حملے هویے.آخری خبریں آنے تک 5 افراد شھید اور کم و بیش 40 زخمی بتایے جارهے هیں. ایک افسوس ناک دن اور ڈوب مرنے کا مقام هے هماری لاء اینڈ فارسمنٹ ایجنسیز اور همارے حکمرانوں کے لیے.جب چند سال پهلے الطاف حسین نے سندھ بچانے کی بات کی تو خوب تمسخر اڑایا ساییں قاعم علی شاھ نے اور ان کے وزیر مواصلات شرجیل انعام میمن نے.پهر یکے بعد یگرے واقعات کے بعد ایمان لے آیے. اگر اس وقت یه حضرات سنجیدگی اختیار کرتے تو شاید سکھر بلاسٹ نه هوتے.اس خطے کی حالیه تاریخ اس بات کی شاھد هے که جب جب موڈریٹ قووتوں کا راسته روکا گیا بنیاد پرستوں کوواقع ملے اور جب انھیں مواقع ملے وه اپنا ھی قانون لے کر آیے. ..

جو لوگ زرداری کو ذهین فطین شخص مان کر اگلی باری پهر زرداری کا نعره لگایا اور لگوایا کرتے تھے وه غریب تو منه چھپایے پھر رهے هیں.هم نے زرداری صاحب کو همیشه ایک احمق پیاده تصور کیا هے اور لکھا بھی هے.ذرا سوچیے باجوڑ ، مھمند ایجنسی ، سوات و دیگر  قبایلی علاقوں سے دھشت گردوں کو بھگا کر اپنے گھر میں کویی باؤلا هی پناھ دیگا جو شخص پانچ ساله دور صدارت کے باوجود اپنے دوست اور دشمن کی تمیز نه کرسکا جو شخص صدر وزیر اعظم چیرمین سینٹ اور تین صوبوں میں حکمرانی کے باوجود اپنے گھر کی آگ نه بجھاسکا اسے سیانا تو نھیں گردانا جاسکتا. کسی کو بھی سی ایس پی افسران کی فوج دے دو ملکی ایجنسیاں اس کے ماتحت هوں اس کے اقدامات کو ملکی و غیر ملکی آقاؤں کی آشیرباد هو تو کسی بھی احمق کو اتنی عقل تو آهی جاتی هے جتنی زور کے داری صاحب کو هے.

آج کے کراچی سے شایع هونےوالے دنیا نیوز کے اخبار میں ھارون رشید کا کالم ھاتھ آیا پڑھ کر عجیب سا لگا که یه کالم نویس قوموں کی تاریخ کو جھوٹے قمقمے کیوں دیتے هیں آپ اپنے کالم میں کراچی میں تشدد کی سیاست کا ذمه دار پی پی پی ، ایم کیو ایم ، و عوامی نیشنل پارٹی کو گردانتے هیں اور لکهتے هیں که” اگر ن لیگ جماعت اسلامی و تحریک انصاف بغیر اسلحے کے اور بغیر تشدد کے سیاست کر سکتے هیں تو دیگر جماعتیں کیوں نھیں.

میں صدقے میں واری ھارون رشید صاحب کے که بڑے بزرگ هیں اور عمر کے اس حصے میں یاد داشت تو تازه رهنا چاهیے . تو حضور عالی کراچی میں ایم کیو ایم کی تاریخ 85 کے جلسے سے لکهی جاتی هے لیکن جماعت اسلامی کے تھنڈر اسکواڈ کی و البدر کی تاریخ 65 سال پرانی ھے.یه کویی سماجی تنظیمیں نھیں تھیں یه مسلح ونگ تھے کراچی یونیورسٹی هو یا نیشنل کالج ،آدم جی ھو یا ڈی جے ساینس یھاں کے طلباء اور وه اساتذه ابھی حیات هیں جو جمیعت کے مظالم کا شکار هویے شھر کراچی میں ضیا الحق کی گود میں بیٹھ کر کس نے کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا ایم کیو ایم نے یا جماعت اسلامی نے؟

اور آپ نے تحریک انصاف کا ذکر کیا تو شاید آپ اسی روزنامه دنیا اور روزنامه نیی بات لاهور کے اخبار میں تین تلوار فاءرنگ کے ملزمان کی گرفتاری کا ذکر کر کے گیے ھیں که اپنی ریلی په فاءرنگ کی اور درخشاں پولیس اسٹیشن کی موباءل نے پکڑا تو وه تحریک انصاف کے هی کارکن نکلے.اس کے علاوه پنڈی کی بھته مافیا کے بارے میں بھی آپ اپنے کالم میں ذکر کر گیے اور یه بھی لکه گیے که آپ نے ان دونوں واقعات کی شکایت پارٹی ھاءی کمان کو بھی کر چکے هیں اور اس کے علاوه گینگ وار اور تحریک انصاف کے امیدواران کا عشق کراچی میں طشت از بام هے اکثر میڈیا په تصاویر آتی رهتی هیں اور ابھی حال هی میں جو ٹارگٹ کلرز پکڑے گیے هیں ان میں سے 9تحریک انصاف کے بھی هیں.

Image  Image

تو اب بچے همارے آپکے سب کے لیگی بھایی تو یهاں تو ان کے پاس جھنڈه لگانے کو کارکن نھیں ملیٹینٹ ونگ کهاں سے آییں گے. هاں پنجاب میں ان کے تعلقات مسعود اظھر، احمد لدھیانوی ملک اسحاق سب سے ھیں اور یه سب بھی صرف اسی ماینڈ سیٹ کو سپورٹ کرتے هیں اور تشدد کی جھاں تک بات هے تو گاؤں گاؤں ریپ کیسز ، تیزاب پهینکنا اور ، پانی کی تقسیم په گولیاں چلنے کے متعدد واقعات رکارڈ هوتے رهتے هیں یه تمام واقعات کویی غریب کا بچه نھیں کر رها هوتا ان کیسز میں مڈل سٹینڈرڈ پڑھے لکھے لوگ ملوث نھیں پایے جاتے بلکه کسی جاگیردار کا خون ان مظالم میں ملوث هوتا هے اور وه جاگیردار آپ کی پاک دامن سیاسی جماعت کا کویی بڑا نام هوتا هے. ذوالفقار کھوسه اور عاءشه احد کیس تازے هیں اور تازے کیسز میں کھر صاحب کے بیٹے کا تیزاب پهینکنا بھی آپ کو یاد هوگا.

بزرگوں تشدد تشدد هوتا هے جو که غلط هے ایم کیو ایم کو بھت سخت باتیں هم بھی لکھ جاتے هیں لیکن حضور ایسا بھی کیا که لاکھ کو خاک اور خاک کو لاکھ لکھا جایے.

بتاریخ: 24/جولایی/13 جے رضا زیدی. @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

2 thoughts on “رات کی ڈاءری صبح کی تحریر.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s