رات کی ڈایری سویرے سویرے

Image

آج مورخه 25تاریخ کا ڈاءری پیج لکهنے بیٹھے تو موضوعات بھت سارے اور باتیں بھی بھت سی هیں لیکن سب سے پهلےذکر اول بناییں گے ملک میں جاری دھشت گردی کی پرانی لهر جسے لاء اینڈ فارسمنٹ ایجنسیز هر نیے وقوعے کے بعد دھشت گردی کی نیی لھر بنادیتے هیں.بھکر ،اسلام آباد ، کویٹه ، پشین ، کراچی تمام شھر دھشت گردوں کے هاتھوں یرغمال هیں. کهیں شیعاؤں کے جنازے هیں تو کهیں قوم پرستوں کی مسخ شده لاشیں کهیں کسی کو الله نے چار پیسے دے دیے تو اسے طالبان کی پرچی اور آخر میں اس مل اونر کا یا اس انویسٹر کا اغواء هوجاتا هے.یهاں شھباز تاثیر اور علی حیدر گیلانی کا آج تک پتا نه چل سکا تو ایک عام کارخانے دار کا ایک مل اونر کا یا کسی کاروباری آدمی کا کیا خاک پتا چلے گا.

 

کراچی میں پچھلے پانچ دنوں میں اوسطا 10افراد روز قتل کیے گیے.یعنی مختلف اخباری رپوٹوں کی روشنی میں کل 50افراد مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کے واقعات میں مارے گیے.اس قوم سے جینے کا حق بھی ھمارے حاکم اور ھمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے چھینتے جارهے هیں.حیدر عباس رضوی کا کینڈا میں کها گیا اک شعر هے که

 

“میرا حاکم مجھے محکوم لگتا هے
اتنا ظالم هے که مظلوم   لگتا هے..”

 

ھم ٹیکس دیتے هیں تو ان آیی جیز ڈی آیی جیز کو تنخواهیں ملتی هیں.یه پبلک سرونٹ هوا کرتے هیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمه داری عوام کے جان ومال کا تحفظ هے اور اپنی اس بنیادی ذمه داری میں یه ادارے صد فیصد ناکام هیں اور عرصے سے ناکام ھیں.

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کون باز پرس کرے گا کون هے اس ملک میں جس کی یه سن لیں جس کی بات ان موٹی عقل والوں کی سمجھ میں آجایے.عدلیه ان کے سامنے ناکام هےمیڈیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رعب سے ھی باھر نھیں آرها.
(آج تک میڈیا نے انسپکٹر لیول تک کی کرپشن اور جرم ایکسپوز کیے اس سے اوپر سب اچھا هے)
یه رینجرز ، ایف سی، سی آیی ڈی ، سی آیی اے، ایف آیی اے یه مختلف ایجنسیز کے لوگ کس بات کی تنخواھ لیتے هیں . معصوم شھریوں کے خون کے پیسے لیتے هیں ، شھریوں کی لاشوں کو اٹھانے کے پیسے لیتے هیں یه کس چیز کے پیسے مراعات گھر گاڑی بنگله گارڈ ان حرام خوروں کو موٹی گردن اور لٹکی توند والوں کو کس بات کی تنخواھ دی جاتی هے.لفظ پیسه پیسه بار بار اس لیے استعمال کیاجارها هے که اور کویی لفظ یا اور کویی زبان ان کی سمجھ میں آتی نھیں هے.اس ملک په جو چندمحکمے بوجھ ھیں جن کا کویی مقصد نھیں هے ان میں سر فھرست رینجرز،ایف سی، اور پولیس هے.ان کا مقصد اس لیے آج تک سمجھ نه آسکا کیونکه یه ھر چوراهے میں سینه تان کر معصوم لوگوں کو روکتے رهتے هیں اور اپنے خرچے پورے کرتے رهتے هیں اور اسی چوراهے په ایک گاڑی شاور کرتے هویے گذرجاتی هے یا اسی چوک په ایک بلاسٹ هوجاتا هے.ان درج بالا ذکر کیے گیے اداروں کا وجود آج پورے ملک بالخصوص کراچی اور کویٹه میں اک سوالیه نشان بن چکا هے.
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 

اے آر وایی نیوز کے پروگرام میں ڈاکٹر دانش نے عمران خان کو بلوایا هواتھا هم نے همیشه عمران کی تربیت کی بات کی عمران کی اپروچ پاکستانی پولٹکس میں بھت نان میچیورڈ رهی هے آج تو حد هوگیی باڈی لینگیویج بالکل fussسوال هوا کهیت کا تو جواب آیا کھلیان کا بات هویی پشاور کے 90000ووٹوں کی اور خان صاحب میانوالی کی دھاندلی کا ذکر لے بیٹھے.عمران اور تحریک انصاف کے دوستوں کو چاهیے که سر جوڑ کے بیٹھیں اور یه دامادوں ، بھتیجوں کو دیے گیے ٹکٹوں کی اور یه جعلی ڈگری هولڈرز دینے په قوم سےمعافی مانگیں ان نام نھاد رضاکاروں کو چاهیے که اپنے رویوں میں تبدیلی لاییں ورنه اب صورتحال یه هے که فارورڈ بلاک کهیں بنے یا نه بنےکے پی کے میں تو شروعات کا بیج بھی بودیا گیا هے.

 

چلتے چلتے ذکر کرتے چلیں که هماری ایک بھن امریکه سے آیی هویی هیں ضمنی انتخبات میں والے دن کراچی کے راؤنڈ په نکلیں واپسی میں کهنے لگیں که “..بھایی یه ملک تو خود بخود چل رها هے سیکیورٹی کا انتظام پرایویٹ گارڈز اور بیریرز کی صورت میں الیکٹریسٹی و گیس کے لوگوں کے اپنے کنڈے هیں حکومت نام کی کویی چیز اس ملک میں مجھے تو نظر نھیں آیی.یه ملک یهاں کی حکومت نھیں چلارهی یه تو خود بخود چل رها هے”
ھم کل پرسوں میں هی انشاءالله نظام تعلیم اور وزارت تعلیم میں غضب کرپشن په بات کریں گے که صوبه سندھ میں شعبه تعلیم کس طرح پٹے په پٹواریوں کو دے دیا گیا هے تعلیمی پٹواریوں کو.آج ذرا مواد مکمل هوجایے.

 

جنید رضا زیدی
25اگست2013
Twitter handle:junaid890

 

رات کی ڈایری سویرے سویرے.

518f6616dbadc Par7555698_r

آج کھیں انتخابات کا جشن کهیں سوگ کھیں دیپ جلے کهیں کهں دیپ بجھے. جن کے دیپ بجھے ان کی وجوھات تو دنیا بیان کر هی رهی هے اور گذشته کالم میں نتایج په ایک سرسری کا تجزیه هم بھی دے چکے هیں.لیکن لطف آیا جب آج پروگرام آپس کی بات میں نجم سیٹھی اپنے هی تجزیوں کو غلط کهتے پایے گیے.3 منٹ جو اس پروگرام میں کراچی کو ملے ،یه تین منٹ در حقیقت مبشر لقمان ، جیسمین منظور ،اور خود نجم سیٹھی کے دیپ بجھانے کو بھت تھے. خود نجم سیٹھی کی آواز بھی کهیں دور کسی گھرے کوییں کی کھایی سے آتی محسوس هوءی.

1174934_198663586975872_1432182043_n  Image

اس تمام گھماگھمی میں 20 سے 23اگست تین دن میں کراچی میں 33 افراد قتل هویے. اور 24کی رات 12بجےسے صبح 10بجے تک7افراد مختلف علاقوں میں قتل کیے گیے.یه افراد کیوں مارے گیے یه کون تھے ابھی تک کهیں سے کویی واضح اشاره نھیں ملا لیکن اس میں تعداد اردو بولنے والوں کی زیاده هے.اور زیاده تر لوگ کاروباری افراد هیں.ھماری معلومات کے تحت 80فیصد واقعات اولڈ سٹی ایریا سے لنک رکھتے هیں.کاروباری چپقلش کا نام دے کر پولیس جو ایف آیی آرز کاٹ رهی هے اس ایف آیی آر میں پرچی کا ذکر کهیں نھیں ملتا جب که جب گراؤنڈ په اتر کر معلومات حاصل کی جاییں تو صورتحال مختلف بنتی هے.

Khi10Killing_8-23-2013_115009_l karachi-killings-firing-target_8-24-2013_115042_l

کراچی دھشت گردی کے اس بازار میں اک نیا اتحاد معرض وجود میں آرها هے جو که گینگ وار(امن کمیٹی) ، تحریک انصاف ، لشکر طیبه سمیت دیگر کلعدم تنظیموں په مشتمل هے یه لوگ کراچی کے وایٹ کالر ڈکیت ھیں. اگر سی ایم سندھ یا موجوده رحمان ملک یعنی چوهدری صاحب اگر صدر، برنس روڈ،  کھارادر کا ایک عوامی دوره کریں یا کاروباری افراد سےملاقاتیں کریں تو اندازه هوگا یه علاقے حکومت پاکستان و سندھ حکومت کی رٹ کے تحت نھیں بلکه گینگ وار اتحاد کی رٹ کے تحت چلتے هیں.

 چلتے چلتے ذکر هوجایے میاں صاحب کے ٹیلی گراف کو دیے گیے انٹرویو کیا که اسلام آباد نیا ایر پورٹ ، ٹنلز ، بلٹ ٹرین، کراچی حیدر آباد موٹر وے جتنے پروجکٹس کا ذکر کیا وه سب بھت اچھے هیں الله پورا کرایے لیکن قوم سے خطاب ھو یا کویی انٹرویو کهیں په بھی کسی تعلیمی پالیسی کا ذکر نھیں ملا.شعبه تعلیم میں کیا پروجکٹس ھیں کچھ نھیں پتا. هماری درخواست ھے که اس قوم کو تعلیم کا زیور دے دیں یه قوم تمام پروجکٹس بغیر چین امریکه و روس کے مکمل کر لے گی.یه قوم آج جن اندھروں میں گھری هے ان اندھیروں کا علاج دوھرے تعلیمی نظام کے خاتمے میں اور اعلی تعلیمی معیار میں پوشیده هے.کل اتوار کی تعطیل کے بعد انشاءالله پیر کو ھم تعلیمی نظام اور تعلیمی معیار په بات کرنے کی کوشش کریں گے.

رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

ImageImage

 آج همارے ملک میں تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات پایه تکمیل تک پھنچے. یه ضمنی انتخاب پاکستان کی سیاسی و جمھوری تاریخ میں ایک اھم سنگ میل کی حیثیت رکھے جاییں گے که واحد انتخابات هویے که کسی نے ابھی تک کویی دھاندلی کا رونا نھیں رویا.لیکن دکھ اور افسوس کا مقام اس وقت آیا جب نوشھره ، میانوالی ، اور لکی مروت کے حلقوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے په پابندی کی نیوز آیی اس نیوز کا بریک یه تھا که تحریک انصاف کے عمایدین بھی خواتین ووٹروں کو قید کرنے والوں میںشامل هیں یعنی اس سازش میں شریک هیں

Image

پاکستان کی عوام نے جس سیاسی پختگی اور دلیری کا مظاھره ان انتخابات میں کیا هے اس په جتنی داد دی جایے وه کم هے.ضمنی انتخابات کے نتایج کے بارے میں بفضل تعالی هماری پیشنگوییاں سھی ثابت هویی هیں.سیاست کا مزه آیا هوگا عمران خان کو حلقه این اے 71 اور این اے 1 پشاور میں که خود عمران خان کی چھوڑی سیٹس په تحرک انصاف کے اپنے امیدوار ھارگیے. وه نشستیں جن په 75000 کی برتری تھی ان نشستوں په انصافی کینڈیڈیٹ کو 15000 سے شکست هویی.عمران خان کے لیے شرمناک مقام اس وقت آیا جب 90000 حاصل کرده ووٹوں میں سے اب پڑے کل 25000 واقعی شرمناک اور تو اور خان صاحب نے دو دن پهلے کی پریس کانفرنس میں  فرمایا تھا که مجھے میانوالی والے نھیں چھوڑیں گے

Image****یه کیا هوا میانوالی تو اپنا گاؤں تھا یهاں بھی شکست یه تو هوگیا بھت زیاده شرمناک.اور خان صاحب اور میرے تحریک انصاف کے دوستوں کو برداشت کرنا پڑے گا کیونکه یھاں وهی کاٹا جاتا هے جو بویا گیا هو.

کراچوی یعنی کراچی والا هونے کی وجه سے ھماری تمام توجه کا مرکز اپنے شھر کے ضمنی انتخابات تھے . یهاں جو نتایج آیے وه حیران کن قطعی نھیں تھے لیکن بھایی منافقت آتی نھیں سیدھی بات هے دل جھوم اٹھا که فوج پولنگ بوتھ کے اندر اور باھر دونوں اطراف تھی سختی کا عالم یه تھا که رینجرز و فوج EXPIREDشناختی کارڈ په بھی ووٹ ڈالنے نھیں دے رهے تھے. ایسے ماحول میں جب نجم سیٹھی جیسے امریکی چڑی باز متحده کو اپنے طور په پیک کرچکے هوں. عمران فاروق منی لانڈرنگ میڈیا ٹرایل حال هی میں ھوا ھو اندرونی اور بیرونی سازشیں چل رهی هوں ایسے میں متحده کا نه صرف جیتنا بلکه واضح برتری لینا کسی معجزے سے کم نھیں.اور یه معجزه ممکن ھوا رابطه کمیٹی و کارکان کے خلوص کے صدقے.میں ذاتی طور سے ان تمام مشکلات کو جانتا هوں جن کا سامنا پچھلے تین ماه میں ایم کیو ایم اور اس کی اعلی قیادت نے کیا.لیکن ان مسایل کا حل جس بردباری اور سمجھداری سے متحده نے کیا وه قابل تحسین هے.

در حقیقت پاکستانی عوام نے ووٹ اینٹی طالبان قو توں   کو دیا هے دھشت گردی کو رد کیا هے میاں صاحب کو بھی جو ووٹ پڑا تو اس کی وجه ان کی حالیه تقریر تھی جس میں دھشت گردی اور انتھا پسندوں کے خلاف جناب وزیر اعظم نے واضح پالیسی دی اور دھشت گردوں کو پوری قوت سے کچلنے کا عندیه دیا . لیکن صاحب بلور صاحب کو الله حیاتی دے آپ کی جیت 11may
والے پیڈ فرشتے ضرور دکھا گیی.  حلقه این اے 1 پشاور میں جب 90000ووٹ کاسٹ هوا تھا تو فیفن کے سربراھ مدثر اصغر نے اس وقت بھی رگنگ کے ثبوت دیے تھے لیکن سونامی کا جھاگ نیا نیا تھا بات آیی گیی هوگیی تھی.

یهاں خوشیوں کو همیشه هی دهشت گردوں کی نظر لگی هے کل آرمی ٹرک کے قریب هونے والا دھماکه بھی کسی مردود کی کاوش تھی جس کی بھرپور مذمت هونی چاهیے. ھماری فوج ھماری محافظ اور ھماری آخری امید کو بھی دھشت گردوں نے نشانه بنایا ..اس دھماکے سے پهلے تحریک انصاف کی پریس ریلیز آیی تھی جس میں آرمی کو الیکشن کے حوالے سے متنازع بنانے کی کوشش کی گیی.الزام نھیں لیکن ایک بات هے که کهیں یه دھماکه یه دھشت گردی اس بیان کا نتیجه تو نھیں.قانون نافذ کرنے والے اپنی سی تحقیق پوری کریں.اور حکومت فوج مخالف بیانات په پابندی لگوایے.

23اگست2013
جنیدرضازیدی

@junaid890

رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخبات هونے جارهے هیں ھم بھی مختلف پولنگ اسٹیشنز په نظر آییں گے.ملک کے 42حلقوں میں ووٹر اپنا حق رایے دهی استعمال کریں گے . الله سبحانه و تعالی سب کی حفاظت فرمایے اور ھر قسم کی دھشت گردی سے تمام پاکستانیوں کو محفوظ رکهے.پیشن گویی کھلم کھلا هم کرچکے هیں که 4 نشستیں تحریک انصاف کی کم هوجاییں گی.لیکن اس کو خواهش یا خبر کا درجه نه دیا جایے.

Image

خیبر پختونخواه کی غیور ، مجبور، اور بے کس عوام کی باگ ڈور جب سے تحریک انصاف کے سپرد هویی هے لگتا هے که اینٹی اسٹیٹ قوتوں کو تقویت مل رهی هے.اسفند یار ولی نے سچ کها که پهلے کویی مرتا تھا تو افتخار حسین ، بشیر بلور ، امیر حیدر هوتی کندھا دیا کرتے تھے لیکن نیے پاکستان میں حکمران جماعت اپنے ایم پی ایز کو کندھا نھیں دے پارهے. اور بات تو سچ هے که بڑی قربانیاں هیں کے پی کے میں دھشت گردی کے خلاف اے این پی کی.اور هر چھوٹے بڑے مسلے میں قیادت آتی تھی کھڑی هوتی تھی لیکن نیا پاکستان بلکه عجیب پاکستان که جشن آزادی کی تقریب بھی بغیر وزیر اعلی کے هی هو گیی.اپنے کارکن سے ووٹ نوٹ تو ھماری یه قیادت مانگتی هے اور لیتی هے لیکن یه اپنے کارکنان کی تدفین و تعزیت په بھی جانا گواره نھیں کرتے.آج نو شھره میں مملکت خان نامی سابق ٹاؤن ناظم اور تحریک انصاف کے موجوده ورکر کی گاڑی په فاءریبگ کی گیی جس میں وه شھید هویے.اس وقوعے کی جتنی مذمت کی جایے وه کم هے.لیکن حیرت کی بات یه هے که کیی گھنٹے گذر گیے لیکن عمران نے ابھی تک کسی کا نام نھیں لیا کسی په الزام نھیں دیا.

Image

بالآخر میاں صاحب کا خطاب هوا
غیر سرکاری طور پر خطاب میں تاخیر کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے سامنے متعدد مسائل موجود ہیں، جن میں سرِ فہرست دہشتگردی کامسئلہ اور بجلی کا بحران ہے۔ وہ آستیں چڑھا کر ان کی دلدل میں اتر چکے تھے تاکہ جب قوم کے سامنے آئیں تو مسائل کے ٹھوس حل اورعمل کے ساتھ خطاب کرسکیں۔

حکومت سے باہرمختلف حلقوں کی جانب سے یہ شبہ بھی ظاہرکیا جارہا تھا کہ جناب نواز شریف اور ان کی کابینہ، موجود مسائل سے تو آگاہ تھے لیکن ان کی وسعت اور گہرائی کتنی ہے، اس سے متعلق ان کی معلومات بہت ہی کم تھیں۔

پیر کو قوم کے نام اپنے خطاب میں جناب شریف نے ان شکوک و شبہات کی تصدیق کردی: بطور وزیراعظم وہ خود یہ کہہ رہے تھے کہ جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی انہیں مسائل کی شدت کا درست اندازہ ہوا تھا۔

 یہ بات مایوس کُن ہے کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم اور سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اُن مسائل کی شدت سے بے خبر تھے، جن کا ملک کو سامنا ہے۔

بالآخر میاں صاحب کا خطاب هوا
غیر سرکاری طور پر خطاب میں تاخیر کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے سامنے متعدد مسائل موجود ہیں، جن میں سرِ فہرست دہشتگردی کامسئلہ اور بجلی کا بحران ہے۔ وہ آستیں چڑھا کر ان کی دلدل میں اتر چکے تھے تاکہ جب قوم کے سامنے آئیں تو مسائل کے ٹھوس حل اورعمل کے ساتھ خطاب کرسکیں۔

حکومت سے باہرمختلف حلقوں کی جانب سے یہ شبہ بھی ظاہرکیا جارہا تھا کہ جناب نواز شریف اور ان کی کابینہ، موجود مسائل سے تو آگاہ تھے لیکن ان کی وسعت اور گہرائی کتنی ہے، اس سے متعلق ان کی معلومات بہت ہی کم تھیں۔

پیر کو قوم کے نام اپنے خطاب میں جناب شریف نے ان شکوک و شبہات کی تصدیق کردی: بطور وزیراعظم وہ خود یہ کہہ رہے تھے کہ جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی انہیں مسائل کی شدت کا درست اندازہ ہوا تھا۔

 یہ بات مایوس کُن ہے کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم اور سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اُن مسائل کی شدت سے بے خبر تھے، جن کا ملک کو سامنا ہے۔

 شاید ایک دہائی تک غیر سویلین حکومت کے ختم ہونے  کے فوری بعد یہ بات کہنا ناگزیر ہوتا مگر یہ تو وہ پانی ہے جو اس وقت پلوں کے نیچے سے بہ رهاهے.

جے رضا زیدی
2٢اگست 2013

@junaid890

رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

پاکستان بھر  کے 42 حلقوں میں کل ضمنی انتخابات کی تیاری هے. کراچی سمیت کیی شھروں کے حساس پولنگ اسٹیشنز په فوج تعینات هے.الله ضمنی انتخابات ساتھ خیریت کے گذار دے. ویسے کهنا نھیں چاهیے لیکن کیا بدنصیبی هے که هم اپنی جمهوری قیادت بھی فوجی تعاون کے بغیر نھیں چن سکتے.بظاھر ایسا نظر آتا هے که مسلم لیگ ن ضمنی انتخابات میں واضح برتری حاصل کرے گی اور تحریک انصاف اپنی تین سے چار نشستیں لوز کرے گی. اور هر دفعه کی طرح ھارنے والے دھاندلی کا رونا روییں گے جیتنے والے حلف لیں گے.

پاکستان کو چند لوگوں نے پاکستان کمرشل لمیٹڈ بنانے میں کویی کسر نه چھوڑی هے.میڈیا عدلیه فوج پارلیمنٹ سب جگھوں په تطھیری عمل کی اشد ضرورت هے. اور بعض صحافیوں نے تو زرد صحافت کے علم کو تھامے رکھنے کی قسم کھایی ھے.ان افراد کو جب پروگرام کی ریٹنگ بڑھانی هوتی هے تو یه سیاستدانوں کے اوپر ایک دوسرے سے گھناؤنے الزامات لگواتے هیں. جب لفافوں کا وزن بڑھوانا هوتا هے تو فوج و پارلیمنٹ کو گالی نکالتے هیں اور اپنے کمرشل ازم کے چکر میں قوم کو گمراھ کرتے هیں.

1

ایسے هی لوگوں میں سر فھرست نام هے نجم سیٹھی کا. نجم سیٹھی کی کراچی اور کراچی کی قیادت سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نھیں.موصوف 92سے آج تک کراچی کی معصوم لاشوں کا لطیفه بناتے رهے هیں.نجم سیٹھی کے اپنے پیٹی بند بھایی ان کے بارے میں کیا کهتے هیں وه تفصیل بھی آپ سے آگے shareھوگی لیکن ابھی ان کی ایک عجیب و غریب خواهش کا ذکر هوجایے که موصوف 92سے ایم کیو ایم کو مختلف گروپس میں ٹوٹتا دیکھ رهے هیں.قبله 92 سے جب رات سوتے هیں تو صرف یهی خواب آتا هے که ایم کیو ایم ٹوٹ گیی ایم کیو ایم کے حصے بخرے هوگیے.اپنی اس خواهش کا اکثر اظھار آپ اپنے مختلف پروگرامز میں کرتے رهتے هیں.

اکتوبر 96 فرایڈے ٹایمز میں بھی آپ کچھ ایسا هی لکھتے گیے آپ نے 92سے 98تک صرف فوج اور میڈیا کو گمراھ کرنے میں بڑا رول پلے کیا هے اس وقت کے لنکس تو میسر نھیں لیکن شجاع نواز جنجوعه اپنی کتاب میں نجم سیٹھی کے اکتوبر 28 تاریخ سال 96کے فرایڈے ٹایمز کا حواله دیتے هیں که کس طرح آپ بے فوج کی تعریفیں کیں که ایک بریگیڈ فوج نے ایم کیو ایم کا صفایا کردیا اب ایم کیو ایم کا نیا گروپ معرض وجود میں آیے گا….اسکرین شاٹ ذیل هے.

2

3

4

پهر کبھی عظیم طارق کبھی اشتیاق اظھر کبھی کویی تو کبھی کویی. جناب مختلف ادوار میں مختلف سپنے دیکھتے رهے لیکن پورے کبھی نه هویے. اور هوتے بھی کیسے . ان کے سپنوں کا کیا هے ان کو ملک ریاض کے علاوه کون پورا کر پایا ھے.ان کے سپنوں کی تعبیر کیسے پوری هویی ملاحظه کیجیے.

LIst1-1

چلتے چلتے یاد دلاتے چلیں که مشرف دور میں آپ بھی ایک این آر او کے تحت ھی جیل سے باھر آیے تھے ورنه سیٹھی صاحب سے وطن     غداری اور اینڈین ایجنسیز سے پیسے لینے کا الزام تھا.اگر امریکی سفیر آپ کی رهایی کا مطالبه نه کرتی اور کلنٹن دوره اس وقت کی ضرورت کا نه هوتا تو شاید آج تک اڈھیاله کی چکی پیس رهے هوتے.

جے رضا زیدی
21اگست2013
@junaid890

رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

  Garbage-dumped-on-street-in-Karachikarachi-in-2020-fake

19اگست 2013 سندھ کی تاریخ کا ایک اور سیاھ دن جب حکومتی وڈیره شاھی نے سندھ کی پڑھی لکهی سوچ په شب خون مارا.شرم آنی چاهیے ان حکمرانوں کو جو مارشل لاء کو گالی دیتے هیں کیونکه مارشل لاء تو سندھ میں پیپلز پارٹی نے خود لگادیا.

مارشل لاء کو یا کسی بھی ڈکٹیٹر شپ کو اس لیے برا کها جاتا هے که کسی کا کویی مطالبه نھیں مانا جاتا.کسی بھی ڈکٹیٹر شپ میں بحث برایے مثبت نتیجه نھیں هوا کرتی.اب ذرا موجوده سندھ میں پیپلز پارٹی کے رویے په غور کریں که سندھ کی اکثریت بالخصوص پڑھے لکهے لوگوں کی آواز کو دبایا جارها هے اور چند وڈیروں کی ذاتی خواهش کی بناء پر لوکل سسٹم 79 چربه فورم میں سندھ میں آج رایج کردیا گیا.

سندھ کے شھروں نے سندھ کی پڑھے لکهے نوجوانوں کے هاتھوں ترقی کا اک لازوال برق رفتار سفر دیکھا هے تو دوسری طرف کمشنری نظام کی براییاں اور کمشنری نظام کی اندھی کرپشن بھی دیکھی.اس شھر نے جھاں پارکنگ پلازه دیکھے اوور ھیڈ انڈر پاسز دیکھے وهیں کمشنری نظام کے تحت کچھی آبادکاری دیکھی ، کمشنری نظام کے تحت پهلتے پهولتے کچرے کے ڈھیر دیکهے.یه سب نه دکهایی دیا تو پیپلز پارٹی کو نھیں دکھایی دیا آنکھ والے اندھے بنے هویے هیں همارے موجوده حکمران. پیپلز پارٹی آج صرف چند عیاش وڈیروں کا ٹوله بن کے ره گیی هے جو کسی بھی صورت میں اختیار اپنے ووٹر کو اپنے ھاری کو دینے په تیار نھیں هے.

پیپلز پارٹی کی تاریخ هے کبھی کراچی کے ووٹ ان کا مقدر ھی نھیں بنے 70سے 13تک کا پیپلز پارٹی کا اک سفر ھے لیکن کبھی بھی سندھ کی پڑھی لکهی عوام نے پی پی کو ووٹ نھیں دیا. صرف لیاری کی نشست ان کا مقدر بنی جب بنی اور وجه یهی منافقت په مبنی سیاست ھے که باشعور لوگوں کی آواز کو پیپلز  پارٹی نے ھمیشه دبایا.اور تاریخ گواھ هے که جب جب اور جھاں جھاں پڑھی لکهی آواز دبایی گیی تب تب وهاں وھاں انقلابی صداییں گونجی اور انقلاب کی راهیں هموار هوییں.

1000089_549653428414116_754222025_n    KMC-Logo-Karachi-Metropolitan-Corporation

کل سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فیصل سبزواری نے ایک مدلل تقریر کی هے جس میں دو نظاموں کا تقابلی جایزه لیا گیا هے لیکن یه اسپیچ بھی اسپیکر و سی ایم نے شاید کانوں میں رویی ڈال کر سنی. آج قاعد متحده نے بھی پیپلز پارٹی کو آڑے ھاتھوں لیا اور پی پی کے ٹکڑے ٹکڑے هونے کی پیشن گویی کی اور اس 79کے فرسوده بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا.

چلتے چلتے مصری ھمدردوں سے عرض هے که آپ نے 2000سے 2004تک سٹی ڈسٹرکٹ گورمنٹ کی نظامت سنبھالی هے آپ نے لیکن موجوده سینیریو میں لبوں کو جنبش نه دی . کراچی همارا همارا کا نعره مارنے والے رضاکار بھی شھری خواهشات کے قتل میں حصه دار بنے. لیکن وجه کیا بنی بغض کراچی یا حب لاڑکانه فیصله آپ کا؟….

19اگست13 @junaid890