رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

Image4اگست 13 موسم خشگوار هے بارشوں نے جھاں تباھی پهیلایی وهیں بھت سوں کے عجیب و غریب چھرے بھی سامنے آیے.حماقتوں کی اک تاریخ اس دفعه پیپلز پارٹی کے ھاتھوں رونمایی پا رهی هے.

دنیا کے احمق ترین لوگ اگر ایک جگه جمع کیے جاییں تو یقینا سندھ کابینه کے بیشتر وزیر اس اجتماع کو لیڈ کریں گے.جناب محترم مظفر اویس ٹپی سے جب کچھ نه بن پڑا تو که گیے که پچھلوں کا گند هے ھم بلدیاتی معاملات کی انکوایری کریں گے..کاش الله کچھ عقل سلیم بھی عطا کردیتا که صاحب بھول گیے که پچھلی حکومت بھی پی پی پی کی تھی اور وزارت بھی موجوده اسپیکر آغا سراج درانی کے پاس تھی . هاں لیکن آپ اس وقت بھی ڈی فیکٹو وزیر اعلی تھے اور آج بھی ڈیفیکٹو وزیر اعلی هیں.

جناب کا زرداری سے کیا رشته هے الله جانے لیکن کویی منه بولا بھایی اور کویی دودھ شریک بھایی کهتا هے. جتنے منه اتنی باتیں هم تو اتنا جانتے هیں که 84 سے 94 تک آپ گلشن اقبال 13بی معمار گارڈن میں کرایے کے فلیٹ میں رها کرتے تھے .یه اور ان کے دو بھایی بڑے برگر سے بچے هوا کرتے تھے . پهر بی بی کی دوسری سرکار میں ان کی چاندی هونا شروع هویی. یه ان مخصوص لوگوں میں سے هیں جو بی بی کی شھادت کے بعد منظر عام په آیے اور چھایے.پچھلے دور حکومت میں حضور زمینوں کے معاملے میں بھت زیاده انوالو رهے اکثر حلقے ٹپی کو چاینا شاھ بھی کهتے هیں.آپ کے دیگر ایکسایز و ریونیو بورڈ کے کارناموں کی ایک فھرست هے جو که جلد تحقیقی مرحلے سے گذار کر گوشگذار کی جایے گی.

وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن فرماتے هیں سسٹم کویی سا بھی هو نیت صحیح هونی چاهیے.تو بھایی نیت تو ایوب کی بھی ٹھیک تھی، نیت تو ضیاء اور مشرف کی بھی بری نهیں تهی لیکن سسٹم هی تو صحیح نھیں تھا.جمھوری نھیں تھا.آپ قبول کرلیتے .کیوں نه کیا؟ وزیر صاحب نیتوں په فیصلے روز محشر هوا کرتے هیں دنیا میں تو ظاهر په رایے اور فتوی هے. اور عوامی رایے یه که فوری طور سے 2002کا لوکل باڈی ایکٹ بحال کیا جایے اور تیس دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرایے جاییں.ورنه پیپلز پارٹی اپنے هاتھوں اپنے تابوت بھی آخری کیل ٹھونکے گی.اور فتوی یه هے که جس طرح الماس بابی کے یهاں اولاد نھیں هوسکتی اسی طرح آپ لوگوں سے بھی کچھ ڈیلیور نھیں هونے والا. صرف بلیم گیم کهیلنا آپ کا وطیره هے.

چلتے چلتے اک سوال هے جو پاکستانی قوانین کے تحت سمجھ نه آسکا وه هے”آزادی اظھار رایے”freedom of speech.
یه فریڈم یه آزادی کس کے لیے هے اور کیا ادارے اور ان کے سربراھان کویی مقدس گایے هیں که انھیں کچھ نه کھا جایے. ساری گالی سارے سوال صرف سیاستدانوں کے لیے هیں میڈیا عدلیه اور آرمی کھاں کی مقدس گایے هیں.هم مسلمان هونے کے دعویدار بھول جاتے هیں که بحیثیت مسلمان کلمه حق کهنا فرض هے چاهے ادارے کےخلاف جایے یا قاضی وقت کے.آخر میں ٹیم ایم کیو ایم مبارک باد کی مستحق هے که جن کے هاتھوں میں آیی پیڈز هوتے هیں که اچانک متحده رین ایمرجنسی ڈکلیر کرتی هے اور وه لوگ آیی پیڈز چھوڑ پاینچے چڑھاکے روڈ په ٹریفک رواں کرانے پانی کا رسته کھدالوں سے بنانے میں لگ جاتے هیں. یه جذبه اور یه تربیت اگر دیگر جماعتیں اپنی پریکٹس میں لاییں تو اس ارض پاک کا نقشه هی بدل جایے.

بتاریخ.5اگست 13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

One thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s