رات کی ڈاءری سویرے سویرے*

makka_madina

ستایسویں شب رمضان کی نورانیت اور روحانیت کو عروج دیتے هویے اپنے اختتام کو هے.همارا معاشره بھی ٹایی ٹینک جھاز بن چکا هے جھاں طبقات کی جنگ روزمره کے معمولات سے نکل کر اب دین تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی هے.یه یاد رهے که ٹایی ٹینک اس لیے ڈوبا که ایلیٹ کلاس کو پهلے اچھی بوٹ میں بٹھانے کی کوششیں هوییں.کسی طرح ایلیٹ بچ جایے.نتیجه سب مرے.

همارے معاشرے میں غریب کی عبادت اور امیر کی عبادات تک میں فرق آتا جارها هے.غریب محلے کی مسجد میں کیچڑ کھبے سے گذر کر عبادت کرتا هے اور امیر شھر کو ھماری ایلیٹ کلاس کو یا ساڈے حکماء نو جب احساس هوتا هے که نو سو پورے هوچکے تو حضرات ٹکٹ کٹاتے هیں عمره کر آتے هیں.

nawaz-sharif-is-giving-iftari-in-masjid-nabvi18-8-12 sabeenn-news-for-yousaf-raza-gilani-umrah-gif

ایک زمانے کی نھیں آج کی بات لکهتے هیں که وه لوگ بھی اسی کراچی لاهور پشاور اور اسلام آباد میں رهتے هیں جو تحجد میں اٹھ کر رو رو کر اپنے رب سے روضه رسول کی حاضری مانگتے هیں لیکن جب ٹکٹ کے پیسے هوجاتے هیں تو بیٹی جوان هوچکتی هے اب اس کی شادی کریں یا حج عمره اس سوچ میں هوتی هے عمر تمام .لیکن امیر وقت و حاکم وقت کا وطیره اس ملک میں همیشه سے یه رها هے سیلاب زلزلے یا کسی بھی آفت کے وقت عمرے شروع ھوجاتے هیں اور وه بھی بمع اھل و عیال ایک میاں صاحب کو کیا تنقید کا نشانه بنانا زرداری صاحب دو سال پهلے قوم کو سیلابی ریلوں میں بهتا چھوڑ کر یورپ کے ٹور په تھے اور کایره صاحب نے صحافیوں کو جواب دیا تھا که سیلاب کے متاثرین کے لیے پیسه مانگنے گیے تھے. ویسے علماء حق کو چاهیے که لوگوں میں شعور بخشیں که یه نوٹوں کے بل په کیے گیے حج و عمروں سے افضل بھوکے کے پیٹ میں روٹی ڈالنا هے کسی غریب کا گھر بسانا هے ویسے کهنا نھیں چاهیے لیکن خدا کی قسم اگر میں وزیر مذهبی امور هوجاؤں تو دوسرے حج په اور دوسری بار عمره کی ادایگی په پابندی لگادوں.یه نام نھاد منافقت سے بھرپور عبادات کرنے والے ھی تو مسجد ضرار کےامام تھے.

لگتاهے مولانا فضل الرحمن اس بار بڑی انویسٹمنٹ لے کر میدان میں اترے هیں.اور عید کے بعد اس بار راج نیتی کی لڑایی پشاور کے کے میدانوں میں سجے گی اور خوب سجے گی.عمران سے اختلاف هر آدمی کا حق هے لیکن یھودی ایجنٹ انڈین ایجنٹ یه سب غلط اور غلیظ هے مولانا نے ساری عمر مفتی محمود کا بویا کھایا هے. اب اگر یهود اور یهود کی داڑهی کے بارے میں کچھ لکه گیے تو اپنے بھی ناراض اور پرایے تو رهتے هی هر وقت هیں تیار گالی بردار.

چلتے چلتے هم تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے هیں که thoughts creations پے کام کیا جایے هم چھ ماھ میں پولٹکل کلچر میں تبدیلیاں لاسکتے هیں.صرف ایم کیو ایم کے مرکز 90په خورشید بیگم میموریل ھال میں thoughts creation  کا شعبه نظر آیا اور اس کے اثرات بھی ایم کیو ایم کی طرف سے مثبت تبدیلی کی صورت میں نظر آنا شروع هوگیے هیں.

بتاریخ:6اگست 13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s