رات کی ڈاءری سویرے سویرے

Image

اٹھاویسویں روزے کو علی الصبح دل لیاری دھماکے کا سن کے بیٹھ هی گیا.14کمسن بچے جن کی عمریں 6سے 15سال کے بیچ تھیں جو کسی باپ کے دلارے تھے.کسی ماں کی گود کے کمسن کم عمر نادان کھیلتے کودتے پھول اب اس دنیا میں هی نهیں رهے تھے.

Image

کیا گذری هوگی ان ماں باپ په ان خاندان والوں په اور علاقه مکینوں په. یه سوچ کے هی جسم تھرا جاتا هے اور رونگٹے کھڑے هوجاتے هیں.بے گناھ پشاور میں مریں ، کوءٹه میں شھادتیں هوں ، کراچی الیکشن کمپین دھماکے هوں یا لیاری دھماکه میڈیا کو برابر کوور کرنا چاهیے.اور تمام سیاستدانوں کو علماء حق کو کھلم کھلا ایک دوسرے کا ساتھ دیتے هویے اس قسم کی گھناؤنی و قاتل کارواءی کی بھرپور مذمت کرنی چاهیے. یهاں چینلز سے شکوه یه هے که جو لوگ نان ایشوز په سیاست کریں ان کو تو بهت سارا ٹایم، جو لیاری دھماکے کی مذمت تک نه کرسکیں ان کو تو فل کوور لیکن لیاری دھماکه جس انداز سے کوور هونا چاهیے تھا ایسا نھیں هوا.سیاسی عمایدین میں سے صرف الطاف حسین کا بھرپور مذمتی بیان پڑھنے کو ملا ورنه باقی تو سب مگن هیں مست ھاتھی بنے هویے هیں

      588173-blastlyaer-1375907813-542-640x480

شرجیل انعام میمن کو نوکری هی بولنے کی ملی هے سو وه بولیں گے لیکن بھایی نے جب بولا بے تکا بولا.جناب صوبایی وزیر اطلاعات  صاحب اب لیپا پوتی کا وقت گذر چکا هے. اب عمل کریں الزامات، تحقیقات کمیشنز یه سب ناکامیوں په پردے هوتے هیں بھادر سیاست دان بنیں ذمه داری لیں اور وزارت داخله سندھ کا آفیشل چارج جس کسی کے بھی پاس هو وه مستعفی هو. سندھ کی تاریخ میں ایک مثال ایسی بھی هے یاد کریں جب عید میلاد النبی نشتر پارک دھماکه هوا تھا تو اس وقت صوبایی وزیر داخله نے محکماتی کوتاهیوں کو مانا تھا اور استعفی دیا تھا نه که بلیم گیم کھیلا تھا.

سندھ حکومت جواب دے که کیا لیاری کی آبادی کو پیپلز پارٹی نے خرید کے رکھا هے که کبھی انھیں گینگ وار ڈکیت گروپوں کے رحم و کرم په چھوڑ دیا جاتا هے .پهر ان گروپوں کے سر کی قیمتیں لگایی جاتی هیں پهر جب الیکشن آتے هیں تو سروں په سے قیمتیں هٹادی جاتی هیں اور ان ھی لوگوں کو ایم این اے اور دو ایم پی ایز کے ٹکٹ دے دیے جاتے هیں اور پهر اسی گینگ وار یا امن کمیٹی کچھ بھی کهیں ان کو ایک وزارت بھی دے دی جاتی هے اور قرعه نکلا اس کے نام جس کے اوپر لاتعداد خون اور جس کے سر کی قیمت اسی پیپلز پارٹی نے لگایی تھی.یعنی جاوید ناگوری کے نام کیا بد نصیبی هے لیاری کی که 70سے 2013تک جب جب لٹے صرف پی پی کے ھاتھوں اور جب جب کٹے پی پی کے دور میں کٹے.

Image

لیاری کی عوام کو اپنے مفادات کا ایندھن سمجھا جاتا هے میں نے لیاری ٹاؤن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کچھ عرصه ملازمت بھی کی هے اور اینومیریشن گھر گھر جاکر کرنا میرا کام تھا میرا بھت واسطه رها هے لیاری کی عوام سے ان میں غربت و وفا دونوں چیزیں ملیں . بد نصیب قیادت ان ھیروں کو دیکھ هی نھیں سکتی .

چوھدری اسلم نے آپریشن بھلے دنیا دکھانے کو کیا تھا اور نتیجه دھشت گرد اور پاورفل هوگیے لیکن وه آخری پریس کانفرنس میں لیاری میں بلوچستان لبریشن آرمی کی اور ٹی ٹی پی کی نشاندھی کرتا رها. اس وقت بھی یهی پیپلز پارٹی تھی جس نے آپریشن بیک کیا. اس آپریشن په بھرپور سیاست کی تھی جماعت اسلامی نے جس نے حسب سابق پهر آج دھماکے کی مذمت تک نه کی.یه تو نه لکهیں گے که کچھ نه بگڑا یهاں گھر لٹ گیے ماؤں کی گودیں اجڑ چکی هیں اور ان سب کا ایک هی ازاله اور کفاره هے که آنے والے کسی بھی ناخشگوار واقعے سے نمٹنے کی نه صرف بھرپور بالکه کامیاب تدابیر کی جاییں گولی کفن اور قبر کے بدلے اب تو روٹی کپڑا اور مکان دے دو.

چلتے چلتے وسیم بادامی کے پروگرام میں فاروق ستار کو آن لاین دیکھ کر ریموٹ چلتے چلتے رک گیا.آپ بولے اور خوب بولے آپ نے ناکامیوں کا اعتراف کیا اپنے پچھلے دور کے غلط فیصلوں اور ان کے ثمرات کا اعتراف کیا.همارے سیاستدانوں کو بالخصوص تحریک انصاف کو اسی طرح کی میچورڈ اپروچ اپنانی چاهیے مشوره هے که ایک بلاگ دی نیوز میں پچھلے هفتے پڑھا تھا “BLAME GAME NAVER BRINGS CHANGE” یه بھی پڑھ کے مستفید هوا جاسکتا هے.

بتاریخ:8اگست 13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s