رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

Image

13اگست لگ رهی هے.14اگست یوم آزادی پاکستان کی آمد آمد هے.الله کے فضل سے مملکت خداداد “پاکستان”اپنی 66ویں سالگره کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھاتے هویے.

Pakistan-Indepedence-Day-2011

ھم بھی خوب فرط جذبات میں هیں اپنے بچوں کے ساتھ خوب جھنڈیاں خریدیں ، بیجز لیے ، ھینڈ بینڈز دلایے اور گرین ٹی شرٹس کے ساتھ گھر کو واپس هویے تو بیگم نے خوب شور کیا که میرے لیے پیسے هوتے نھیں هیں اور ان کاموں کے لیے هوتے هیں.پهر هم نے سمجھایا که 65سالوں میں آج پاکستان کو همارے پیار کی جتنی ضرورت هے اتنی پهلے کبھی نه تھی اور اس نسل کو اگر گرین شرٹ کی اهمیت اور تقدس نه سمجھا پایے تو روز محشر الله تو پوچھے گا هی پوچھے گا لیکن همارے آباؤاجداد بھی همیں معاف نھیں کریں گے.یه اس وقت کی ضرورت هے که هم بچوں کے دل و دماغ میں پاکستان اور سب سے پهلے پاکستان کا جذبه بٹھاییں.ورنه ھم نے ان کو دیا هی کیا هے گولیوں کی آوازیں ، کهیں کچھ پهٹ جانے کے خوف میں اگر کھیں کویی خوشی میسر آتی هے تو اسے منانا چاهیے.

Image

میرے نانا کھا کرتے تھے که ھم زنده تاریخ هیں پوچھ لو جو پوچھنا هے.آپ آیی ایس پی آفیسر تھے اور ملک پاک کے لیے ھجرت کی ماں نے گولی کھایی ایک بھن بیوه هوگیی. هم جب نیے نیے کالج میں آیے تو 91میں نیشنل کالج سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا. ھم عجیب سے مظالم دیکھتے تھے 92 سے 97 ان مظالم کی انتھا تھی ماورایے عدالت قتل عام تھا. ماں بھنوں جن کو کبھی فرشتوں کی نظر نے نه چھوا هو وه خواتین ماییں بھنیں تھانوں میں یا انسداد دهشت گردی کی عدالتوں میں نظر آتی تھیں ایسے حالات میں 14اگست والے دن اسلامی جمیعت طلبه کے لڑکوں نے هم په بے پناھ تشدد کیا ان تمام واقعات کے بعد ایک عجیب باغیانه سوچ همارے اندر پروان چڑھ چکی تھی.چند کامریڈ دوست بھی بن گیے تھے کچھ نامناسب سے خیالات ذهن میں پروان چڑھ رهے تھے جن کا ذکر بھی مناسب نھیں.جب ھمارے نانا کو هماری باغیانه سوچ کا اندازه هوا تو ھم کو بٹھایا اور سمجھایا لیکن ھم مان کے نه دیے. ایک دن اس وقت گلشن اقبال سے ایم پی اے عارف صدیقی هواکرتے تھے ھمارے گھر آیے تو ھمارے نانا نے شکایت کی . عارف صدیقی نے اپنے طور سمجھایا اور ھماری ملاقات فاروق ستار بھایی سے اپنے بلاک 6 والے گھر میں کروایی.فاروق بھایی سے صحیح معنوں میں جھاڑ پڑی اور فاروق بھایی کی ڈانٹ واضح تھی که ھم په مظالم هو رهے هیں هم سے جیلیں بھری جارهی هیں ھم کو غدار بنانے کے لیے غدار کها گیا لیکن هم غدار نه هویے تم یه شیطانی وسوسوں کو اپنے دل و دماغ سے نکالو اور اپنے دل میں پاکستان بساؤ.پاکستان ھے تو سب گلے بھی هیں تو شکوے بھی هیں لیکن جو کچھ هے اس پاکستان  کی بدولت تھا اور پاکستان کی بدولت هے.آج  جب تنھایی میں اکیلے بیٹھ کے سوچتے هیں که ھمیں تو عارف صدیقی، فاروق ستار میسر هو هی گیے.لیکن آج کے بلوچ و پشتون بھاییوں کو یه لوگ میسر نھیں شاید  جبھی ساری اینٹی اسٹیٹ موؤمنٹس وهیں سے چلتی هیں.

چلتے چلتے ھم واضح کردیں که هم نے کل کے بلاگ میں عمران کی ایک ویڈیو کا ذکر کیا تھا لیکن 13 اور 14کو هم کویی تلخ بات لکهنا نھیں چاهتے لیکن اس ویڈیو کو پورا دیکهں آپ کو بھی 18هزار عالم اور 81ھزار مخلوقات نه سمجھ آییں تو کھنا.اس ویڈیو کو دیکھ کر یه ضرور کهیں گے که”جب بی بی مرڈر اسکاٹ لینڈ سے انویسٹیگیٹ هوسکتا هے عمران فاروق مرڈر هوسکتا هے تو زھره شاھد کا کیوں نھیں.” اب تو نوعیت یه هے که لازمی زھره آپا مرڈر اسکاٹ لینڈ سے هی انویسٹیگیٹ ھونا چاهیے.

Video link:

The Two Worlds Of PTI – Video Dailymotion – http://www.dailymotion.com/video/x12ojxs

جے.رضا زیدی. بتاریخ 13 اگست 13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

One thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s