رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

KESC-SAD-420x252  موسم کی رنگینی اپنی جگه هے .عید کا جوبن اور 14اگست کا جنون بھی محسوس هوا لیکن طبیعت کی اداسی اور مزاج کی تلخی کو کهاں لے جاییں که دل کڑھتا هے اور هم لکھنا شروع کردیتے هیں. خیر آج ذکر هوگی کراچی الیکٹرک سپلایی کارپوریشن کی عوام دشمنی پهر هوگا لطیفه آف دی ڈے.

کے ای ایس سی ، انکم ٹیکس ، پولیس ، عدلیه یه اس ملک میں کرپشن کے دیوتا هیں.یهاں عدلیه سے مراد لویر کورٹس هیں ڈسٹرکٹ کورٹس.کیونکه مجھے نوٹس نھیں چاهیے.کراچی کی بجلی کیا سونے کے پانی سے بنتی هے که اس کے سلیب کا کم سے کم ریٹ بھی 12 روپے 99 پیسے کا اور پورے ملک میں 11 روپے چا لیس پیسے کا.یه تو بات هے ملکی سطح کی یهاں شھر کراچی میں بھی دهرا معیار هے.شانتی نگر ، خمیسو گوٹھ ، لیاری ،ڈالمیا ، اولڈ سبزی منڈی یه وه علاقے هیں جھاں کے ای ایس سی کا عمله بل دینے کا روادار بھی نھیں بلکه 500 فی گھر طے هے جو که بیٹر کلیکٹ کرکے دفتر پهنچادیتا هے کویی بلنگ نھیں بلکه 40٪ آبادی کنڈا مافیا بنی هویی هے.اور بجلی کے مزے پورے اٹھارهے هیں اور دوسری طرف کے ای ایس سی نے کلفٹن ،ڈیفینس ، سوسایٹی گلشن عزیز آباد اور دیگر سویلایزڈ علاقوں میں بدمعاشی مچایی هویی هے جو گھر دو منزله یا تین منزله هے چاهے اور اس کے تین فلورز کے تین مختلف مالکان ھوں اور سب نے اپنا الگ الگ میٹر اپنی اپنی سیکورٹی کے عیوض لگوایا هے اور لاکه لاکه روپے کی ریزیڈینشل سیکیو رٹیز هیں جن کی رشوتیں بھی لاکه لاکه دی هوتی هیں که اچانک چند مھینوں کے بعد ایک ٹیم آتی هے اور سلیب پالیسی کے نام اس گھر سے سارے میٹر اترتے هیں اور ایک میٹر لگا دیتے هیں. یه اوپن کرپشن هے جس کی کویی ایڈجسٹمنٹ بھی نھیں هے ابھی تک. مجھے اچھی طرح یاد هے که ایک قرارداد اسی سلیب پالیسی کے حوالے سے مزمل قریشی نے سندھ اسمبلی میں پیش کی تھی جو که بعد میں مفاهمتی ردی بن گیی.اور اب تو سونے په سھاگا یه هے که اگر میں اپنے جنر یٹر سے کسی کو کنکشن دیتا هوں که لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں میرے پڑوس میں بھی بجلی چل جایے تو اس کا جرمانه کے ای ایس سی دونوں صارفین په ڈالتی هے جو که لاکهوں کی صورت میں هوتا هے. ارے بے غیرتوں جنریٹر ایک پرایویٹ پراپرٹی هے اور اونر کی مرضی وه کچھ بھی کرے آپ نے تو دو گھنٹے لایٹ بند کردی اب پرایویٹ جنریشن پروسس ھے اس په آپ کا کیا زور.اور اگر آپ اس کرپشن کو روکیں اور ان کے دفتر جاییں یا ان سے بات کرنے کی کوشش کی جایے تو یه لوگ ایم پی ایز اور اس علاقے کی سیاسی جماعت کے دفتر میں اس کے علاقایی ذمه داروں کے گٹوں میں بیٹھ جاتے هیں اور ان کو لولی پاپ دے کر اپنی کرپشن گرم رکھتے هیں.

میری ممبران سندھ اسمبلی بالخصوص عدنان احمد ، محمود عبد الرزاق ، افتخار احمد اور فیصل سبزواری سے درخواست هے که اس عجیب و غریب کرپشن کے خلاف اپنے علاقوں میں اور سندھ اسمبلی میں پرزور آواز اٹھاییں.اور بھایی هم ووٹروں کی محبت کا بھرم رکھ جاییں مھربانی ھوگی.درج بالاممبران سے صرف اس لیے درخواست کی گیی که یه مسله خالصتا ان مخصوص حلقوں کا هے.

1376598099763-1

اب لطیفه سکندری کا ذکر نه هو اور امرود خان معاف کیجیے گا زمرود خان کی مضحکه خیز ایکٹ هو یا سکندر کی ٹانگوں میں لیٹنا هو اس سارے معاملے میں کسی نے یه نھیں کیا که آیی جی ، ڈی آیی جی سے جواب طلب هوتا که یه مجاھد دو عدد خود کار رایفلوں سے 5 گھنٹے ھیرو بنا رها کس کی وجه سے ؟ اس سارے وقوعے کا ذمه دار کون اور ؟ چلو کچھ نه ملے ٹویٹر ٹرینڈ تو ملا.

چلتے چلتے کل اپنے برادر نسبتی  کے ساتھ نذیر حسین ھسپتال فیڈرل بی ایریا جانا هوا.انتھایی اکنامیکل اور بھترین  انتظام صحت هے طبیعت خوش هوگیی جو لوگ یه کهتے هیں که ایم کیو ایم نے شعبه صحت میں کام نھیں کیا وه آییں اور دیکهیں لیکن یه ضرور هے که ایم کیو ایم نے اس کی معلومات اس طرح نه پهنچاییں جیسا اس عظیم منصوبے کا حق تھا.اور اتنا شکوه تو بنتا هے.

بتاریخ:16اگست13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s