رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

Image

کراچی ڈھایی کروڑ کی آبادی والا شھر جو که ماضی قریب میں روشنیوں کا گھواره تھا جو که ترقی کا ایک نیا سنگ میل بنا جس شھر نے همیشه اس ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور حصه ڈالا جان سے بھی اور مال سے بھی. آج اس شھر کا حال دیکھ کے اجڑا دلی کی مثال صادق آتی هے . شھر کی اس حالت ذار کی ١٠٠٪ذمهداری پیپلز پارٹی په عاید هوتی هے.

شھر میں ایک دن کی بارش نے جھاں بلدیاتی نظام کی ناکامی په مھر ثابت کی وهیں پیپلز پارٹی کے رهنماؤں کی دماغی کیفیت بھی کھل کر سامنے آیی.وزیر بلدیات صاحب کو یاد رکھنا چاهیے که انھوں نے کھا تھا که نالوں میں شر پسندوں نے بوریاں پهنسادیں تو بھیا بارش کی پیشنگویی اب پهر هے اور 24سے 48 گھنٹوں میں بارش متوقع هے خدا کے لیے وه بوریاں نکال لیں تاکه کیر تھر کا پانی کراچی کی آبادی کے لیے تباھی کا سامان نه بنے.ویسے آپس کی بات هے ھمارے سندھ کی یه تقدیر اندرون سندھ نے خود لکهی هے.موصوف نے کل ایک پریس ریلیز دی هے که بلدیاتی اداروں میں کرپشن کی روک تھام کے لیے کمشنر ضروری هیں تو بھایی کرپشن تو سب سے زیاده وزارتوں میں هوتی هے تو کیوں نه سیکریکٹریز کو اختیار دے دیا جایے . هوسکتا هے کرپشن ختم هو جایے. بھایی آپ صرف اس وقت نالوں کی بوریاں نکال لو اور شھر میں پهیلے کچرے کے ڈھیر ٹپادو تاکه تعفن سے ھٹ کے بھی سانس لیا جاسکے.

Image

کراچی کو شاید آج واقعی لاوارث سمجھا هوا هے که بی مینڈکی کو بھی ذکام هوا یعنی کے ای ایس سی. سرکولر هے که 17 تاریخ سے 14 گھنٹے  کی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول هے اور اس کی وجه اداروں کی طرف سے عدم عداییگی هے تو اس کے ذمه دار بھی پیپلز پارٹی کیونکه 5سال جو واٹر بورڈ نے پے منٹ نھیں کی تو ذمه دار آغا سراج درانی اور آج جو ادایگیاں نھیں هورهی هیں تو ٹپی صاحب موصوف ذمه دار هیں.

خبریں هیں که آج عمران خان کراچی زھرء آپا کے گھر تعزیت کے لیے جاییں گے . همارے خیال سے یه متحده کا پریشر تھا جس کے نتیجے میں عمران کراچی آرهے هیں. پنجاب کی سیاست کا اپنا انداز هے لیکن سندھ میں نان ایشوز په سیاست اور ایشوز په نان میچورڈ اپروچ خان صاحب کا ریسنٹ رویه رها هے اور کراچی کو تو خان صاحب نے همیشه مفت کی شراب تصور کیا هے.ھماری خان صاحب سے درخواست هے که کلفٹن کے گھر کے ڈراینگ روم میں جو پریس کانفرنس کریں وه میچیورڈ اپروچ کے ساتھ کرین ورنه آپ تو بول کے کیٹی مڈلیٹن کی چٹھی کی تقریب میں چلے جاتے هیں اور آپ کے گالی بردار رضاکار ھمارا جینا حرام کرکے رکھتے هیں.

چلتے چلتے ھم شکر گذار هیں جناب اشفاق پرویز کیانی کے که صاحب نے کاکول اکیڈمی میں جشن آزادی کی تقریر قومی زبان اردو میں کی.اور یه سندھ کے موجوده حکمرانوں کو سبق هے جنھوں نے حلف تک سندھی اور انگریزی میں لیا اور دیا ھے.

بتاریخ:17اگست13
@junaid890

 

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s