رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

Image

سندھ میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار هو اور بلدیات کا کویی معقول نظام رایج هوجایے تو یه بالکل ایسا هے جیسے اونٹ کو رکشے میں بٹھانا.حسن نثار ان کے لیے صحیح لکهتے هیں که ان سے گڈ گورننس و گڈ ایڈ منسٹریشن کی توقع رکھنا ایسا هے جیسے بھانجھ عورت سے اولاد یا بنجر زمین سے گندم کی توقع هو.ان سے کچھ نھیں هونے کا.

بات تو بری سی لگتی هے لیکن یه سچ هے که بھٹو ، بی بی ، گیلانی اور پرویز اشرف کسی نے اس ملک میں بلدیاتی انتخابات کرایے یا بلدیاتی نظام په کام کیا؟ اور کریں بھی کیوں اختیارات کسی کو منتقل کرنا کسی وڈیرے کا کبھی بھی وطیره نھیں رها. بی ڈی ممبرز کا چناؤ هوا تو ایوب نے کرایے اور دو دفعه ضیا کے دور میں اور دو دفعه مشرف کے دور میں.بلدیاتی انتخابات هویے . پیپلز پارٹی کو پچھلے دور حکومت میں تو گولڈن چانس ملا تھا لیکن پهر کو یی نظام وضح نه کر پایے بلکه بلدیات کے نام په قوم کو بیوقوف بنایا.

اس قوم نے 1979کے بلدیاتی نظام کی تباھیاں دیکهی هیں جو که کبھی اندرون سندھ سیلاب تو کبھی کراچی جیسے شھر کو کھنڈرات بنتے دیکھا.اور اس قوم نے 2002کا نظام اور اس کی ترقیاں بھی دیکهیں که شھر کراچی روشنیوں کا شھر بنا ، پلوں کا اور انڈر پاسز کا شھر کھلایا.جھاں سٹی وارڈن ھم وقت روڈز په خدمت عوام الناس کے لیے کھڑے هویے.ترقی کا اک سفر بھت برق رفتاری سے طے هوا.لیکن یه سب ساییں قاعم علی شاھ کو یا سندھ کے ڈیفیکٹو وزیر اعلی کو نه جانے کیوں نظر نھیں آتا.ساییں اگر فریال تالپر سے پوچھیں تو وه بھی بیان کردیں گی کیونکه ادی نوابشاھ کی تحصیل ناظم تھیں.

اپوزیشن بنچز سے خبر گرم ھے که ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ نئے قانون کا مسودہ آئین کے مطابق نہیں بلکہ 1979 کے بلدیاتی مسودے  کا چربہ ہے۔ سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطہ ہوا جس میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جو بلدیاتی نظام کا مسودہ تیار کیا ہے اس میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا گیا، ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ مالی، سیاسی اور انتظامی امور بلدیاتی اداروں کے پاس ہونے چاہیے، اختیارات دیئے بغیر عوامی نمائندے مسائل حل نہیں کر سکتے، ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر بلدیاتی مسودے میں ایم کیو ایم کی تجاویز شامل نہ کی گئیں تو بلدیاتی نظام مسترد کر دیں گے.

چلتے چلتے ذکر هوجاهے ضمنی انتخابات کا تو ملک کے 42حلقوں میں گھما گھمی هے کراچی میں بھی ضمنی انتخابات هیں ایم کیو ایم ایک نیشنل اور 3 پروونشیل سیٹوں په مقابله کر رهی هے.یه حلقے ایم کیو ایم کے مضبوط حلقے تصور کیے جاتے هیں.جماعت ھر دفعه کی طرح بایکاٹ پر هے اور میانوالی ایکسپریس کا حال کراچی پریس کانفرنس میں سب دیکھ چکے هیں.

بتاریخ:19اگست13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s