رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

  Garbage-dumped-on-street-in-Karachikarachi-in-2020-fake

19اگست 2013 سندھ کی تاریخ کا ایک اور سیاھ دن جب حکومتی وڈیره شاھی نے سندھ کی پڑھی لکهی سوچ په شب خون مارا.شرم آنی چاهیے ان حکمرانوں کو جو مارشل لاء کو گالی دیتے هیں کیونکه مارشل لاء تو سندھ میں پیپلز پارٹی نے خود لگادیا.

مارشل لاء کو یا کسی بھی ڈکٹیٹر شپ کو اس لیے برا کها جاتا هے که کسی کا کویی مطالبه نھیں مانا جاتا.کسی بھی ڈکٹیٹر شپ میں بحث برایے مثبت نتیجه نھیں هوا کرتی.اب ذرا موجوده سندھ میں پیپلز پارٹی کے رویے په غور کریں که سندھ کی اکثریت بالخصوص پڑھے لکهے لوگوں کی آواز کو دبایا جارها هے اور چند وڈیروں کی ذاتی خواهش کی بناء پر لوکل سسٹم 79 چربه فورم میں سندھ میں آج رایج کردیا گیا.

سندھ کے شھروں نے سندھ کی پڑھے لکهے نوجوانوں کے هاتھوں ترقی کا اک لازوال برق رفتار سفر دیکھا هے تو دوسری طرف کمشنری نظام کی براییاں اور کمشنری نظام کی اندھی کرپشن بھی دیکھی.اس شھر نے جھاں پارکنگ پلازه دیکھے اوور ھیڈ انڈر پاسز دیکھے وهیں کمشنری نظام کے تحت کچھی آبادکاری دیکھی ، کمشنری نظام کے تحت پهلتے پهولتے کچرے کے ڈھیر دیکهے.یه سب نه دکهایی دیا تو پیپلز پارٹی کو نھیں دکھایی دیا آنکھ والے اندھے بنے هویے هیں همارے موجوده حکمران. پیپلز پارٹی آج صرف چند عیاش وڈیروں کا ٹوله بن کے ره گیی هے جو کسی بھی صورت میں اختیار اپنے ووٹر کو اپنے ھاری کو دینے په تیار نھیں هے.

پیپلز پارٹی کی تاریخ هے کبھی کراچی کے ووٹ ان کا مقدر ھی نھیں بنے 70سے 13تک کا پیپلز پارٹی کا اک سفر ھے لیکن کبھی بھی سندھ کی پڑھی لکهی عوام نے پی پی کو ووٹ نھیں دیا. صرف لیاری کی نشست ان کا مقدر بنی جب بنی اور وجه یهی منافقت په مبنی سیاست ھے که باشعور لوگوں کی آواز کو پیپلز  پارٹی نے ھمیشه دبایا.اور تاریخ گواھ هے که جب جب اور جھاں جھاں پڑھی لکهی آواز دبایی گیی تب تب وهاں وھاں انقلابی صداییں گونجی اور انقلاب کی راهیں هموار هوییں.

1000089_549653428414116_754222025_n    KMC-Logo-Karachi-Metropolitan-Corporation

کل سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فیصل سبزواری نے ایک مدلل تقریر کی هے جس میں دو نظاموں کا تقابلی جایزه لیا گیا هے لیکن یه اسپیچ بھی اسپیکر و سی ایم نے شاید کانوں میں رویی ڈال کر سنی. آج قاعد متحده نے بھی پیپلز پارٹی کو آڑے ھاتھوں لیا اور پی پی کے ٹکڑے ٹکڑے هونے کی پیشن گویی کی اور اس 79کے فرسوده بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا.

چلتے چلتے مصری ھمدردوں سے عرض هے که آپ نے 2000سے 2004تک سٹی ڈسٹرکٹ گورمنٹ کی نظامت سنبھالی هے آپ نے لیکن موجوده سینیریو میں لبوں کو جنبش نه دی . کراچی همارا همارا کا نعره مارنے والے رضاکار بھی شھری خواهشات کے قتل میں حصه دار بنے. لیکن وجه کیا بنی بغض کراچی یا حب لاڑکانه فیصله آپ کا؟….

19اگست13 @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s