رات کی ڈاءری سویرے سویرے.

آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخبات هونے جارهے هیں ھم بھی مختلف پولنگ اسٹیشنز په نظر آییں گے.ملک کے 42حلقوں میں ووٹر اپنا حق رایے دهی استعمال کریں گے . الله سبحانه و تعالی سب کی حفاظت فرمایے اور ھر قسم کی دھشت گردی سے تمام پاکستانیوں کو محفوظ رکهے.پیشن گویی کھلم کھلا هم کرچکے هیں که 4 نشستیں تحریک انصاف کی کم هوجاییں گی.لیکن اس کو خواهش یا خبر کا درجه نه دیا جایے.

Image

خیبر پختونخواه کی غیور ، مجبور، اور بے کس عوام کی باگ ڈور جب سے تحریک انصاف کے سپرد هویی هے لگتا هے که اینٹی اسٹیٹ قوتوں کو تقویت مل رهی هے.اسفند یار ولی نے سچ کها که پهلے کویی مرتا تھا تو افتخار حسین ، بشیر بلور ، امیر حیدر هوتی کندھا دیا کرتے تھے لیکن نیے پاکستان میں حکمران جماعت اپنے ایم پی ایز کو کندھا نھیں دے پارهے. اور بات تو سچ هے که بڑی قربانیاں هیں کے پی کے میں دھشت گردی کے خلاف اے این پی کی.اور هر چھوٹے بڑے مسلے میں قیادت آتی تھی کھڑی هوتی تھی لیکن نیا پاکستان بلکه عجیب پاکستان که جشن آزادی کی تقریب بھی بغیر وزیر اعلی کے هی هو گیی.اپنے کارکن سے ووٹ نوٹ تو ھماری یه قیادت مانگتی هے اور لیتی هے لیکن یه اپنے کارکنان کی تدفین و تعزیت په بھی جانا گواره نھیں کرتے.آج نو شھره میں مملکت خان نامی سابق ٹاؤن ناظم اور تحریک انصاف کے موجوده ورکر کی گاڑی په فاءریبگ کی گیی جس میں وه شھید هویے.اس وقوعے کی جتنی مذمت کی جایے وه کم هے.لیکن حیرت کی بات یه هے که کیی گھنٹے گذر گیے لیکن عمران نے ابھی تک کسی کا نام نھیں لیا کسی په الزام نھیں دیا.

Image

بالآخر میاں صاحب کا خطاب هوا
غیر سرکاری طور پر خطاب میں تاخیر کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے سامنے متعدد مسائل موجود ہیں، جن میں سرِ فہرست دہشتگردی کامسئلہ اور بجلی کا بحران ہے۔ وہ آستیں چڑھا کر ان کی دلدل میں اتر چکے تھے تاکہ جب قوم کے سامنے آئیں تو مسائل کے ٹھوس حل اورعمل کے ساتھ خطاب کرسکیں۔

حکومت سے باہرمختلف حلقوں کی جانب سے یہ شبہ بھی ظاہرکیا جارہا تھا کہ جناب نواز شریف اور ان کی کابینہ، موجود مسائل سے تو آگاہ تھے لیکن ان کی وسعت اور گہرائی کتنی ہے، اس سے متعلق ان کی معلومات بہت ہی کم تھیں۔

پیر کو قوم کے نام اپنے خطاب میں جناب شریف نے ان شکوک و شبہات کی تصدیق کردی: بطور وزیراعظم وہ خود یہ کہہ رہے تھے کہ جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی انہیں مسائل کی شدت کا درست اندازہ ہوا تھا۔

 یہ بات مایوس کُن ہے کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم اور سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اُن مسائل کی شدت سے بے خبر تھے، جن کا ملک کو سامنا ہے۔

بالآخر میاں صاحب کا خطاب هوا
غیر سرکاری طور پر خطاب میں تاخیر کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے سامنے متعدد مسائل موجود ہیں، جن میں سرِ فہرست دہشتگردی کامسئلہ اور بجلی کا بحران ہے۔ وہ آستیں چڑھا کر ان کی دلدل میں اتر چکے تھے تاکہ جب قوم کے سامنے آئیں تو مسائل کے ٹھوس حل اورعمل کے ساتھ خطاب کرسکیں۔

حکومت سے باہرمختلف حلقوں کی جانب سے یہ شبہ بھی ظاہرکیا جارہا تھا کہ جناب نواز شریف اور ان کی کابینہ، موجود مسائل سے تو آگاہ تھے لیکن ان کی وسعت اور گہرائی کتنی ہے، اس سے متعلق ان کی معلومات بہت ہی کم تھیں۔

پیر کو قوم کے نام اپنے خطاب میں جناب شریف نے ان شکوک و شبہات کی تصدیق کردی: بطور وزیراعظم وہ خود یہ کہہ رہے تھے کہ جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی انہیں مسائل کی شدت کا درست اندازہ ہوا تھا۔

 یہ بات مایوس کُن ہے کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم اور سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اُن مسائل کی شدت سے بے خبر تھے، جن کا ملک کو سامنا ہے۔

 شاید ایک دہائی تک غیر سویلین حکومت کے ختم ہونے  کے فوری بعد یہ بات کہنا ناگزیر ہوتا مگر یہ تو وہ پانی ہے جو اس وقت پلوں کے نیچے سے بہ رهاهے.

جے رضا زیدی
2٢اگست 2013

@junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈاءری سویرے سویرے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s