پاکستانی نظام تعلیم یا تباھی کے دھانے.

 1372996061392

دنیا کی تاریخ شاھد هے که صرف ان اقوام نے ترقی کی منازل طے کیں جنھوں نے تعلیم کو زیور بنایا.اور یه زیور نظر آتا هے جب که نظام تعلیم معیاری هو. جو نظام تعلیم معیاری نه هو تو ریسرچ کا ارتقایی عمل بھی حالت سکوت میں آجاتا هے.

مملکت پاکستان میں کراچی سے خیبر تک چار مختلف اقسام کے یکساں معیار تعلیم هیں.پنجاب کے نظام تعلیم و معیار تعلیم کے بارے میں جو ھماری خام خیالی تھی وه بھی اب رفو چکر هو چکی هے . کراچی هو یا لاڑکانه ، صادق آباد هو یا لاهور، کویٹه هو یا پشاور سب جگه کم و بیش ایک جیسا هی حال هے.

یه دنیا کا واحد ملک هے جھاں ایک هی ملک میں چار مختلف نظام تعلیم رایج هیں پهلا نظام تعلیم وه نظام هے جس میں بچه مدرسے جاتا هے اور پهر کافر قرار دینے والی فیکٹری بن جاتا هے عموما گاؤں دیھاتوں میں یا غرباء وقت کے یهاں یه نظام رایج هے.صبح بچه مدرسے جاتا هے پهلے استادوں کے رات کے بچے برتن دھوتا هے اترے کپڑے دھوتا هے پهر کھیں جاکر استاد حلقه لگاتے هیں جھاں جھوم جھوم کے وه نورانی ، رحمانی ، آسمانی تو پتا نھیں کون کون سے قاعدے پڑھتا هے. تلفظ کے نام پر دوسے مسلک کا مذاق اڑاتا هے اس کا استاد اس کی وفا کو ڈنڈوں میں تولتا هے تو کبھی استاد کے حقوق کا احساس دلاتا رهتا هے اور جب اس بچے کی عمر 20سال تک هوتی هے تو اسے موٹے موٹے مسلے سمجھ آچکتے هیں . قرآن اس کا ختم هوچکا هوتا هے که ایک پروقار تقریب هوتی هے جس میں کویی مفتی کراچوی کویی مفتی پاکستان اس کی دستار بندی کرتے هیں اور وه عالم قرار پاتا هے.

images-3

 ایک نظام تعلیم وه هے جو سرکاری پیلے اسکولوں په محیط هے ھم نے بھی پیلے اسکول سے میٹرک کیا هے.پیلے کپڑے جنھیں دیکھ کے هی افسردگی چھاجایے.جھاں استاد کبھی کبھار کلاس میں آجایے تو بھت تھک جاتا هے اور مانیٹر چایے پانی کے انتظام میں لگ جاتا هے.کراچی کے گھوسٹ اساتذه  هوں یا سندھ ، پنجاب یا دیگر صوبوں کے اساتذه هوں اسکول آنا اکثر شان کے خلاف سمجھتے هیں.

Pakistan_06_02_09_Stuteville_InsidePoorGovtSchool_EDIT

تیسرے نمبر په 100روپے سے 500روپے ماھوار په تعلیم بکتی هے گلی کوچوں میں کھلے یه اسکول جن کے باھر انگلش میڈیم کا بورڈ لگا هوتا هے کتابیں ان کی آکسفورڈ کی هوتی هیں جنھیں دیکھ دیکھ کر ماں باپ خوش هوتے رهتے هیں که بچه عالم فاضل بن رها هے لیکن ان کتابوں کے معلم نان میٹرک یا میٹرک بچیاں هوتی هے جن کی شادی کی تاریخ بیچ سال میں آجاتی هے اور وه اس پروفیشن کو همیشه کے لیے خیرباد که دیتی هیں.اس نظام تعلیم میں کچھ آیے یانھیں بچے کو لاسٹک والی ٹایی باندھنا ضرور آجاتی هے.images-2

 اس ملک کا سب سے بڑا المیه چھوتے نمبر کا نظام تعلیم هے جو که ایلیٹ کا نظام هے اس نظام میں کیمبرج کے نام په جدید نظام کے نام په 3سے 6لاکھ روپے سال کے لیے جاتے هیں.ان کی کلاسز اییر کنڈیشنڈ هوتی هیں ان کی کلاس میں دوسو بیس نھیں صرف بیس بچے هوتے هیں . یهاں بچے میں انگریزی بولنے کی خداداد صلاحیتیں ٹھونسی جاتی هیں جب تحقیق کی تو پته چلا ان اسکولوں کے کیفے ٹیریا معاشرتی برایوں کی جڑ هیں . لیکن جب یه بچه معاشرے میں قدم رکھتا هے تو سفارش اور پیسے کے بل پر ڈگری اس کے پاس هوتی هے اس کے پاس بھت بڑی chain of school کا سرٹیفیکیٹ هوتا اور وه جس فرم کا پریزیڈنٹ لگتا هے اسی فرم میں ریگولر بورڈ کا گولڈ میڈلسٹ کویی جونیر کلرک کی نوکری کررها هوتا هے.

Image

افسوس اس بات په هے که تمام سیاسی جماعتیں نان ایشوز په سیاست کررهی هیں ایشوز کی بات اس ملک میں کون کررها هے کون صحت ، تعلیم ، حقوق نسواں کے وعدے جو منشور میں کیے گیے ان کی بات کررها هے بلکه یهاں تو صرف تسلط کی سیاست کو فروغ دیا جارها هے.

جے. رضا. زیدی 21 sept 13

Advertisements

الطاف عظیم رهنما

Junaid Raza Zaidi

  … 17ستمبر 1953 محترم نذیر حسین و محترمه خورشید بیگم کے یهاں ولادت بالسعادت هویی.کسی کو بھی اندازه نه تھا که یه بچه جس کا نام الطاف حسین رکھا جارها هے ایک دن مملکت خداداد پاکستان کے 98٪ کی آواز بنے گا کس کو پتا تھا که وڈیروں و جاگیرداروں کے تابوت کی پهلی اور آخری کیل یهی بچه ثابت هوگا.

الطاف حسین 17ستمبر 1953 کراچی کے متوسط طبقے کے دین دار گھرانے میں پیدا هویے.آپ کے دادا مفتی رمضان ایک جید عالم دین و جامع مسجد آگره کے خطیب گذرے اور نانا حافظ عبد الرحیم سلسله قادریه کے عظیم بزرگ اور وقت کے ولی گذرے.آپ کے معتقدین کی ایک تعداد ملتی هے.والدین نے ھجرت کی 
تھی اپنا گھر بار ، مال و متاع تحریک پاکستان اور نام پاکستان په قربان کرکے آیے تھے. والدین کی اول رهایش جھانگیر روڈ گورنمنٹ کواٹرز ٹھری.گھر میں چھوٹے هونے کی بدولت لاڈلے تھے بالخصوص…

View original post 1,077 more words

حاصل زیست لمحات حیات

Junaid Raza Zaidi

زندگی میں میں کچھ ایام کویی وقت کویی سفر یاد گار ٹھرتا هے اور بعض لمحات حیات تو حاصل حیات کا سا درجه رکھ جاتے هیں.ایسے هی کچھ لمحات ھماری زندگی کا حصه بنے جنھیں آپ سے SHARE کر رهے هیں.

1991میں فرسٹ ایر نیشنل کالج کا اسٹوڈنٹ تھا اور اسٹوڈنٹ پولیٹکس میں نو وارد تھا اے پی ایم ایس او کا نیا نیا کارکن تھا. همارے ذمهدار نے همیں بتایا که کل 16ستمبر آپ کو ٹی گراؤنڈ عزیزآباد جانا هے جهاں 17ستمبر کے پروگرام کی تیاری هے.هم کالج کے بعد ٹی گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا کا رخ کیا تھوڑے بھت گھڈھے کهودے اسٹیج کی ٹیبلیں سیدھی کیں اور همیں اگلے دن صبح کا شیڈول دے دیا گیا. اگلے دن صبح ھم ٹی گراؤنڈ پهنچے تو ھمیں معلوم هوا که ھماری ڈیوٹی الطاف بھایی کے گھر 90 په لگی هے . مجھے یاد هے که صبح اے پی ایم ایس…

View original post 794 more words

الطاف عظیم رهنما

  … 17ستمبر 1953 محترم نذیر حسین و محترمه خورشید بیگم کے یهاں ولادت بالسعادت هویی.کسی کو بھی اندازه نه تھا که یه بچه جس کا نام الطاف حسین رکھا جارها هے ایک دن مملکت خداداد پاکستان کے 98٪ کی آواز بنے گا کس کو پتا تھا که وڈیروں و جاگیرداروں کے تابوت کی پهلی اور آخری کیل یهی بچه ثابت هوگا.

الطاف حسین 17ستمبر 1953 کراچی کے متوسط طبقے کے دین دار گھرانے میں پیدا هویے.آپ کے دادا مفتی رمضان ایک جید عالم دین و جامع مسجد آگره کے خطیب گذرے اور نانا حافظ عبد الرحیم سلسله قادریه کے عظیم بزرگ اور وقت کے ولی گذرے.آپ کے معتقدین کی ایک تعداد ملتی هے.والدین نے ھجرت کی 
تھی اپنا گھر بار ، مال و متاع تحریک پاکستان اور نام پاکستان په قربان کرکے آیے تھے. والدین کی اول رهایش جھانگیر روڈ گورنمنٹ کواٹرز ٹھری.گھر میں چھوٹے هونے کی بدولت لاڈلے تھے بالخصوص والده اور بڑے بھایی اقبال بھایی کے خصوصی چهیتے ٹھرے.

Image

الطاف حسین کی ابتدایی تعلیم کمپریهنسیو Comprehensive اسکول عزیز آباد 8نمبر میں مکمل هویی اور آپ نے میٹرک گورنمنٹ بوایز سیکنڈری اسکول جیل روڈ سے 1969میں پاس آؤٹ کیا.فرسٹ ایر کی تعلیم نیشنل کالج سے پایی جبکه سیکنڈ ایر پری میڈیکل کیلیے سٹی کالج میں ٹرانسفر کرایا.71میں انٹر میڈیٹ مکمل هوا اور آپ نے بی ایس سی تعلیم اسلامیه کالج سے حاصل کی اور بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد بی فارمیسی کراچی یونیورسٹی میں داخله لیا.

آپ بچپن سے سوشل سنجیده اور بردبار سے لڑکے تھے.سایره باجی آپ کی همشیره آپ کے بارے میں بتاتی هیں که کم عمری سے هی جوشیلے مقرر تو تھے لیکن عام زندگی میں بھت معامله فھم اور دور اندیش سوچ کے حامل تھے.

آپ نے نوجوانی سے مھاجر قوم کے دکھ اور کرب کو محسوس کیا.که وه قوم جو لٹ پٹ کے بیس لاکه جانوں کا نذرانه پیش کرکے قاعد اعظم کے ایک اشارے په پاکستان بسانے اٹھ کھڑی هویی تھی آج اس قوم کو مکڑ ، مٹروے ، پناھ گذیر ومھاجر کها جاتا تھا. ھندوستان سے آیے مسلمانوں په عرصه حیات تنگ هوچکا تھا جب مرحوم حاکم یهاں تک بک گیے که اردو بولنے والوں کے لیے سمندر هے.ایسے میں الطاف حسین نے مقامیوں کے دیے گیے ناموں مختلف ناموں میں سے لفظ مھاجر چنا اور سب سے پهلے اردو بولنے والے طلبه کے لیے آل پاکستان مھاجر اImageسٹوڈنٹس آرگنایزیشن کی بنیاد 11جون 1978کو رکھی.اس طلبه تنظیم کا بنیادی مقصد مھاجر طلبه کے تعلیمی مسایل کا حل تھا.

مھاجر طلبه تنظیم کیا بنی پاکستان میں سیاست کے میدانوں میں جیسے بھونچال سا آگیا کویی کهے یه غدار هے کویی کهے یه دھرتی کا سپوت نھیں.مارشل لاء کا دور تھا کراچی کی سیاست میں ضیا الحق کے کی نماینده جماعت اسلامی نے تو ایک سازش تک کی جس کے تحت الطاف حسین کو کراچی یونیورسٹی سے بے دخل کردیا گیا اور آپ کی ایم فارمیسی کی تعلیم ادھوری چھوٹی.لیکن الطاف حسین نے همت نه ھاری جیل بھی گیے مارشل لاء کے کوڑے کھایے سزا پایی لیکن ھندوستان سے آیے مسلمانوں کے هجوم کو اب ایک قوم بننا تھا اور اب ضرورت تھی که جب اس ملک میں پنجابی ایک قوم تھے ، سندھی ایک قوم جانے جاتے تھے بلوچ قوم کو تسلیم کیا جاتا تھا اور پشتونوں کو باچا خان نے بحیثیت قوم پهچنوادیا تھا که اردو بولنے والوں کو بھی اب قوم تصور کیا جایے جو حقوق پنجاب کے جوان کے هوں وهی حقوق اردو بولنے والے کو بھی ملیں اب ضرورت بھت بڑھ چکی تھی که اردو بولنے والوں کو ایک پلیٹ فارم ملے تاکه اردو و اردو بولنے والے بچ سکیں.اور عزت کی زندگی جی سکیں.سو صعبتیں ، عزیتیں ، جیلیں ، مشقتیں جھیلی گییں اور الطاف حسین نے 18مارچ 1984 کو مھاجر قومی موؤمنٹ کی بنیاد رکھی.

Image

 

اس پڑھی لکهی باشعور قوم کو نسبت رسول سے فکر الطاف نے ایک نام دیا ایک شناخت دی. اور شاباش هے اس قوم کو که جس نے لبیک کها. نوجوان اور پڑھی لکهی قیادت کا نعره بلند هوا تو نوجوان جوگ در جوگ مھاجر قومی موؤمنٹ کا حصه بنے تاریخ شاھد هے که پاکستان بناتے وقت جو جذبه اجداد کا تھا وه اولاد کا مھاجر قوم کی بقاء کا ضامن بنا.

85کے بلدیاتی انتخابات هوں یا 88 کے جنرل الیکشن هوں ، یا 90 کے انتخابات اگر الطاف حسین نے کھمبے کا کها تو کراچی حیدر آباد نے کھمبے کو ووٹ دیا لیکن سلام کو الطاف حسین پر که جس نے ایک عام پاکستانی کو ٹکٹ دیا، عام رکشه ڈرایور کو عام کاروباری کو چھوٹے اخبار کے صحافیوں کو ٹکٹ دیا . یه تھی وه حقیقی تبدیلی که جس نے پاکستان میں پهلی بار نوجوانوں کو ان ایوانوں میں پهنچایا که جھاں تک کا سفر ان کے لیے کسی خواب سے کم نه تھا.

اس تبدیلی کی هوا سے ایوانوں میں بیٹتھے آیے سیاسی بازیگر جھاں ھمیشه کے لیے غایب هویے وهیں سے سازشوںکا اب باب رقم هونا شروع هوا.کبھی جھنڈے جلانے کے مقدمے بنے تو کبھی سایکل چوری کی ایف آیی آر کٹی حتی که پولیس والے کی ٹوپی چوری کرنے کی ایف آیی آر تک کاٹی گیی.92میں الطاف حسین کے کارکنوں کے خلاف آپ کے چاهنے والوں کے خلاف بد ترین ریاستی آپریشن کا آغاز کردیا گیا.الطاف حسین کو ملک چھوڑنے په مجبور کیا گیا. وه چیختے رهے که میرا قصور بتاؤ . جان سے مال سے ھمیں انکار نھیں پهر بھی تم کهتے هو که ھم وفادار نھیں لیکن اندھے بھروں کا دور دوره تھا سو مجبورا آپ لندن جلا وطن هویے.کراچی اور اردو بولنے والے الطاف حسین کو ایک رهنما و پیشواء مان چکے تھے حالت جلاوطنی میں 93 کے انتخابات  هوں یا 96 کے جنرل الیکشن کراچی حیدر آباد کے اردو بولنے والوں کی کامیابی نے دنیا جھان میں ثابت کیا که جبر و ظلم کی سیاست کی سیاست کا میدان کراچی میں نھیں لگ سکتا.

جب اس بات تو پاکستان کی دیگر اقوام نے محسوس کیا که متوسط طبقے سے قیادت کے چناؤ کا فلسفه الطاف هی کار آمد هے تو مختلف اقوام کے مختلف لوگ الطاف بھایی کے پاس درخواست لے کر پهنچے که مھاجر قوم کو جو فلسفه حیات آپ نے دیا هے وه ملک بھر میں عام کریں.98٪ کی ضرورت کو قاعد مھاجر قومی موؤمنٹ نے محسوس کیا اور 26جولایی  1997 کو ایم کیو ایم کو مھاجر قومی موؤمنٹ سے متحده قومی موؤمنٹ میں تبدیل کردیا.

اس طرح ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی سوچ اب ایک نظریے کا روپ دھارچکی تھی جس کا عملی مظاهره هر اس وقت دیکھنے کو ملا که جب جب متحده کو اختیار ملا.

Image

الطاف حسین کی فکر هی تھی که جس نے نوجوانوں کو نام دیا آپ وه واحد سیاسی قاعد هیں که  جس کبھی کویی الیکشن خود نھیں لڑا کبھی خود ایم این اے نه بنے کبھی الطاف حسین کا کویی بھانجه بھن بھایی کبھی کویی وزیر تو دور کی بات کبھی ممبر اسمبلی تک نه بنا.الطاف حسین کو عموما جاننے والے فقیر منش آدمی گردانتے هیں.آپ کی سادگی کے اور ساده مزاجی کے بے شمار واقعات هیں.الطاف حسین سے سیاسی اختلافات رکھنے کا حق سب کو هے لیکن آپ کی کاوشوں کو اور کامیابیوں کو نه ماننا غلط هے.چلتے چلتے ایک بات کهتے چلیں که اگر الطاف حسین کی جگه کسی اور کے ساتھ اتنا هوا هوتا اور اس کے ماننے والوں کی تعداد یه هوتی تو نه جانے کتنے جغرافیے تبدیل هوچکتے.لیکن الطاف حسین کو سلام که جب لگایا پاکستان زنده آباد کا نعره لگایا.

جنید رضا زیدی

An Agents Story – Declan Walsh on MQM

The Last Blog

Finally the lord has spoken, the bible of journalism industry The New York times has taken its empirical attempt, slinging mud shots at Mr. Altaf Hussain.  The story titled “Pakistani’s Iron Grip, Wielded in Opulent Exile, Begins to Slip” has been the topic of discussions in press clubs and news channels of Pakistan. The story is by Declan Walsh, yes, do the name rings a bell?

After reading the story early in the morning, I felt a wave of utmost disappointment and regret. I have been reading the Newyork times since six years but I never felt such despair.

I was thinking such baseless story on such credible paper, even a boy can rip this sheet of lies apart. So I start from the reporter, Mr, Declan Walsh. He was working in Pakistan since 2004, until recently he was expelled.  Yes, in 2013, Mr. Walsh has been placed in list…

View original post 595 more words

حاصل زیست لمحات حیات

زندگی میں میں کچھ ایام کویی وقت کویی سفر یاد گار ٹھرتا هے اور بعض لمحات حیات تو حاصل حیات کا سا درجه رکھ جاتے هیں.ایسے هی کچھ لمحات ھماری زندگی کا حصه بنے جنھیں آپ سے SHARE کر رهے هیں.

1991میں فرسٹ ایر نیشنل کالج کا اسٹوڈنٹ تھا اور اسٹوڈنٹ پولیٹکس میں نو وارد تھا اے پی ایم ایس او کا نیا نیا کارکن تھا. همارے ذمهدار نے همیں بتایا که کل 16ستمبر آپ کو ٹی گراؤنڈ عزیزآباد جانا هے جهاں 17ستمبر کے پروگرام کی تیاری هے.هم کالج کے بعد ٹی گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا کا رخ کیا تھوڑے بھت گھڈھے کهودے اسٹیج کی ٹیبلیں سیدھی کیں اور همیں اگلے دن صبح کا شیڈول دے دیا گیا. اگلے دن صبح ھم ٹی گراؤنڈ پهنچے تو ھمیں معلوم هوا که ھماری ڈیوٹی الطاف بھایی کے گھر 90 په لگی هے . مجھے یاد هے که صبح اے پی ایم ایس او کا پروگرام تھا اور شام لیبر ڈیویژن کا پروگرام تھا اور اس کے بعد ایک ورایٹی شو تھا.

هم عزیز آباد پهنچے الطاف حسین بھایی کا 120گز کے مکان کے دروازے سے اندر داخل هویے تو ارشدسبیل بھایی نے مخصوص ھدایات دیں که کویی شکایت نه آیے.یاد رکهیں احساس ذمهداری پیدا کریں وغیره وغیره.هم نے الطاف حسین بھایی کو اپنا رھنما اپنا پیشواء مانا تھا اور آج خوش نصیبی سے اے پی ایم ایس او  سیکٹر A کے نمایندے کی حیثیت سے میں اپنے قاعد کو اپنے پیشواء کو اپنے رهنما کو اپنے سامنے پاء رها تھا.میری خوشی و وارفتگی کا عالم یه تھا که سامنے آنے پر هم سلام تک کرنا بھول گیے تھے.الطاف حسین بھایی کرتا پاجامه کریم کلر کی واسکٹ ھلکے سنھرے سلیم شاھی زیب تن کیے
Image

جلسه گاه میں هماری ڈیوٹی بھت اهم تھی.ھم اسٹیج انتظامیه کا حصه تھے.الطاف بھایی کی گاڑی ٹی گراؤنڈ کے استقبالیه کیمپ په رکی لیکن هماری گاڑی سیدھی اسٹیج کی طرف بڑھی.ھمیں سیکیورٹی انچارج سے ھدایات ملی هویی تھیں. ھم دوڑتے هویے اسٹیج په چڑھ گیے ھماری ڈیوٹی تھی که هم مقرر کی ڈایس کی باییں جانب مقرر کو کور Cover کریں گے.اسٹیج الطاف بھایی اور ان کے رفقاء کے لیے سج چکا تھا هم سب اپنی اپنی ڈیوٹیز په موجود تھے گل پاشی کرنے والے طلباء و طالبات بھی تیار تھے.که الطاف حسین بھایی مھاجر قومی موؤمنٹ کی مرکزی قیادت کے ساتھ اسٹیج په تشریف لے آیے.بھت عمده گل پاشی هویی اور پهر پروگرام کا باقاعده آغاز کیا گیا.چیرمین اے پی ایم ایس او نے بات کی اور دوران گفتکو چند ساتھی کیی منزله جھاز سایز کیک لیے اسٹیج په رکھ گیے.ڈایس سے مبارک سلامت کا شور بلند هوا اور اعلان هوا که اب ھم سب کے محبوب قاعد محترم الطاف حسین بھایی خطاب کریں گے.بس پهر کیا تھا کان پڑی آواز سنایی نه دے رهی تھی هر طرف نعره مھاجر و نعره الطاف کی صداییں تھیں.طلباء دیوانه وار هاتھ ھلاتے جارهے تھے اور الطاف حسین بھایی سب کے نعروں کا جواب ھاتھ اٹھا کر ھاتھ لهراکے دیے جارهے تھے.اسٹیج سیکریکٹری پهلے پهل چپ کرانے کی کوشش کرتا رها لیکن پهر خود بھی نعرے مارنے لگا که الطاف بھایی نے سب کو “شششششششششش” که کر چپ کرادیا اور بات کا آغاز کیا.ھم نے ذکر کیا هے که هماری ڈیوٹی ڈایس کے باییں جانب کور دینا تھا. منه همارا عوام کی طرف اور پیٹھ ڈایس کی طرف تھی. جن لوگوں کو میرے کھڑے هونے کی وجه سے اپنا رهبر نظر نھیں آرها تھا وه مجھے نیچے سے هٹ جانے کے اشارے کرتے رهے کبھی ھمیں لعنت دکهایی جاتی که ھٹ سامنے سے لیکن کیا کرتے هٹتے کیسے یه سوچ ھی مسحور کن تھی که میں اپنے قاعد کے اپنے رول ماڈل کے اتنے قریب هوں.

Image

الطاف بھایی نے خطاب کے دوران تعلیم اور اعلی تعلیم کے حصول په زور دیا آپ تعلیم نسواں کے سب سے بڑے حامی رهے هیں سو دوران خطاب خواتین کی اعلی تعلیم په بھت زور دیا. آپ نے دوران خطاب طلباء کو مثبت سرگرمیوں کی تلقین کی والدین کے حوالے سے کها که اگر والدین راضی نه رکھے تو تم لوگوں کا بھایی تم سے ناراض هوجایے گا.سگریٹ نوشی کی ممانعت کی گیی. اساتذه کی طرف سے کچھ شکایات قاعد تحریک کو موصول هویی تھیں جس په که الطاف بھایی ناراض بھی هویے.اور پهر ایک تلوار سے وھ قد آور کیک کاٹا گیا.هر طرف شادیانے تھے نعرے تھے مبارک سلامت کا ایسا شور تھا که لطف آگیا تھا.مجھے یاد هے اسٹیج په اس وقت مسکراتے چھرے کے ساتھ عظیم احمد طارق بھایی ، ڈاکٹر عمران فاروق بھایی ، طارق جاوید بھایی ،سلیم شھزاد بھایی اور جو یاد آرهے هیں ان میں صفدر باقری بھایی ،اور شعیب بخاری بھایی شامل تھے.

مجھے یاد هے که سیکٹر اے کی طرف سے ستار بھایی نے تاج بھی پهنایا اور کراچی کے بے تاج بادشاھ کو تاج ور کیا تھا.

الطاف بھایی کے اٹھتے کے ساتھ هم راسته بناتے ھاتھوں کی زنجیر بناتے هویے بھایی کی گاڑی نکلواتے هویے دیوانه وار پیدل هی گاڑی کے پیچھے بھاگ کھڑے هویے.مزمل اظھار صدیقی و بابر بھایی نے پیچھے سے آکر باییک په بٹھایا اور الطاف بھایی کے قافلے کے ساتھ هم بھی 90 چل پڑے.

ImageImage

90پهنچنے په پتا چلا که چند سیاست دان تشریف لایے هویے تھے اور انتظار کررهے تھے. هم کو بھی کها گیا که گھر جاؤ لیکن هم ملنے الطاف بھایی سے هاتھ ملاکے جانا چاهتے تھے.رش بے تحاشا تھا ھماری یه خواهش تو پوری نه هوسکی لیکن یه چند گھنٹے بھت بڑے استاد ثابت هویے. الطاف بھایی کچھ نه کهتے هویے وه سب کچھ سکها گیے جو آج بڑے بڑے تھنک ٹینکس نه سمجھا سکے.

ھماری زیست کا حاصل یه چند گھنٹے تھے.اس دن اندر کے انسان نے قسم کھایی تھی که ایم کیو ایم چھوڑسکتے هیں الطاف بھایی کو نھیں.

بقلم.کارکن