پاکستانی نظام تعلیم یا تباھی کے دھانے.

 1372996061392

دنیا کی تاریخ شاھد هے که صرف ان اقوام نے ترقی کی منازل طے کیں جنھوں نے تعلیم کو زیور بنایا.اور یه زیور نظر آتا هے جب که نظام تعلیم معیاری هو. جو نظام تعلیم معیاری نه هو تو ریسرچ کا ارتقایی عمل بھی حالت سکوت میں آجاتا هے.

مملکت پاکستان میں کراچی سے خیبر تک چار مختلف اقسام کے یکساں معیار تعلیم هیں.پنجاب کے نظام تعلیم و معیار تعلیم کے بارے میں جو ھماری خام خیالی تھی وه بھی اب رفو چکر هو چکی هے . کراچی هو یا لاڑکانه ، صادق آباد هو یا لاهور، کویٹه هو یا پشاور سب جگه کم و بیش ایک جیسا هی حال هے.

یه دنیا کا واحد ملک هے جھاں ایک هی ملک میں چار مختلف نظام تعلیم رایج هیں پهلا نظام تعلیم وه نظام هے جس میں بچه مدرسے جاتا هے اور پهر کافر قرار دینے والی فیکٹری بن جاتا هے عموما گاؤں دیھاتوں میں یا غرباء وقت کے یهاں یه نظام رایج هے.صبح بچه مدرسے جاتا هے پهلے استادوں کے رات کے بچے برتن دھوتا هے اترے کپڑے دھوتا هے پهر کھیں جاکر استاد حلقه لگاتے هیں جھاں جھوم جھوم کے وه نورانی ، رحمانی ، آسمانی تو پتا نھیں کون کون سے قاعدے پڑھتا هے. تلفظ کے نام پر دوسے مسلک کا مذاق اڑاتا هے اس کا استاد اس کی وفا کو ڈنڈوں میں تولتا هے تو کبھی استاد کے حقوق کا احساس دلاتا رهتا هے اور جب اس بچے کی عمر 20سال تک هوتی هے تو اسے موٹے موٹے مسلے سمجھ آچکتے هیں . قرآن اس کا ختم هوچکا هوتا هے که ایک پروقار تقریب هوتی هے جس میں کویی مفتی کراچوی کویی مفتی پاکستان اس کی دستار بندی کرتے هیں اور وه عالم قرار پاتا هے.

images-3

 ایک نظام تعلیم وه هے جو سرکاری پیلے اسکولوں په محیط هے ھم نے بھی پیلے اسکول سے میٹرک کیا هے.پیلے کپڑے جنھیں دیکھ کے هی افسردگی چھاجایے.جھاں استاد کبھی کبھار کلاس میں آجایے تو بھت تھک جاتا هے اور مانیٹر چایے پانی کے انتظام میں لگ جاتا هے.کراچی کے گھوسٹ اساتذه  هوں یا سندھ ، پنجاب یا دیگر صوبوں کے اساتذه هوں اسکول آنا اکثر شان کے خلاف سمجھتے هیں.

Pakistan_06_02_09_Stuteville_InsidePoorGovtSchool_EDIT

تیسرے نمبر په 100روپے سے 500روپے ماھوار په تعلیم بکتی هے گلی کوچوں میں کھلے یه اسکول جن کے باھر انگلش میڈیم کا بورڈ لگا هوتا هے کتابیں ان کی آکسفورڈ کی هوتی هیں جنھیں دیکھ دیکھ کر ماں باپ خوش هوتے رهتے هیں که بچه عالم فاضل بن رها هے لیکن ان کتابوں کے معلم نان میٹرک یا میٹرک بچیاں هوتی هے جن کی شادی کی تاریخ بیچ سال میں آجاتی هے اور وه اس پروفیشن کو همیشه کے لیے خیرباد که دیتی هیں.اس نظام تعلیم میں کچھ آیے یانھیں بچے کو لاسٹک والی ٹایی باندھنا ضرور آجاتی هے.images-2

 اس ملک کا سب سے بڑا المیه چھوتے نمبر کا نظام تعلیم هے جو که ایلیٹ کا نظام هے اس نظام میں کیمبرج کے نام په جدید نظام کے نام په 3سے 6لاکھ روپے سال کے لیے جاتے هیں.ان کی کلاسز اییر کنڈیشنڈ هوتی هیں ان کی کلاس میں دوسو بیس نھیں صرف بیس بچے هوتے هیں . یهاں بچے میں انگریزی بولنے کی خداداد صلاحیتیں ٹھونسی جاتی هیں جب تحقیق کی تو پته چلا ان اسکولوں کے کیفے ٹیریا معاشرتی برایوں کی جڑ هیں . لیکن جب یه بچه معاشرے میں قدم رکھتا هے تو سفارش اور پیسے کے بل پر ڈگری اس کے پاس هوتی هے اس کے پاس بھت بڑی chain of school کا سرٹیفیکیٹ هوتا اور وه جس فرم کا پریزیڈنٹ لگتا هے اسی فرم میں ریگولر بورڈ کا گولڈ میڈلسٹ کویی جونیر کلرک کی نوکری کررها هوتا هے.

Image

افسوس اس بات په هے که تمام سیاسی جماعتیں نان ایشوز په سیاست کررهی هیں ایشوز کی بات اس ملک میں کون کررها هے کون صحت ، تعلیم ، حقوق نسواں کے وعدے جو منشور میں کیے گیے ان کی بات کررها هے بلکه یهاں تو صرف تسلط کی سیاست کو فروغ دیا جارها هے.

جے. رضا. زیدی 21 sept 13

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

2 thoughts on “پاکستانی نظام تعلیم یا تباھی کے دھانے.”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s