رات کی ڈایری سویرے سویرے

Image

بڑا دل چاهتا هے که جب لکهنے بیٹھیں تو کچھ ھلکها پهلکا بھی لکها جایے.انور مقصود و مشتاق یوسفی کو موضوع گفتگو بنایا جایے.اسد شفیق کی سنچری اور گورے کی بال ٹمپرنگ په بات هونی چاهیے لیکن خدا غرق کرے ارباب اختیار کو  جو مسکرانے کے بھانے تک چھینے جاتے هیں.جس شھر میں شھری سارا دن لاشوں کی گنتی گنتے رهتے هوں جهاں پرخوف فضا هو وردی و ساده لباس دونوں صورتوں میں احساس عدم تحفظ جنم لے اس شھر میں کیا مسکراییں گے اور کیا جی پاییں گے.

جب سے عدلیه نے لیاری کو چھیڑا هے اور ڈی جی کو بلا کر باز پرس کرنے کی سعی کی هے جب سے کراچی کا علاقه لیاری میدان جنگ بن چکا هے.ڈی جی رینجرز سے جب پوچھا جاتا هے که لیاری کی صورتحال کیا هے تو وه فرماتے هیں که لیاری ایک پرامن ترین علاقه هے اور عدلیه کو جھوٹے لولی پاپس سے بھلایا جاتا هے اور شاباش هے عدلیه کو جو اتنی آسانی سے یه لولی پاپس چوس لیتی هے.

1382872332203

عدلیه جب سے نام نھاد آزاد هویی هے وه کون سا کام هے جو مکمل کیا هو جس ایشو کو عدلیه نے اٹھایا اس ایشو کو ادھورا هی چھوڑا بلکه بیچ میں نیچ نظریه ضرورت کے تحت  کمپرومایس کیا یا عمومی بازاری زبان میں بک گیے سالے.(یهاں وضاحت کرتے چلیں که عدلیه سے هماری مراد RO’s نھیں بلکه ھایی کورٹس اور سپریم کورٹ هے)
راجه رینٹل هوں یا سویس کیس هو ، این آر او هو یا ججز ایمپلایمنٹ کیس هر دفعه نتیجه منفی هی نکلا.کراچی بدامنی کیس کے بھانے سیاست دانوں کو منفی سیاست کا موقع دیا گیا تصویریں کھینچ گییں اداروں ، سیاست دانوں اور عوام کو لڑوایا گیا اور اسلام آباد بیٹھ کے مسکرایا گیا.

Image

پرامن کراچی یهاں کے مکینوں کا خواب بن کے رهگیا هے. جو غیر قانونی آبادیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تلاشی کی اجازت تک نه دیں تو ان سے کویی زور زبردستی نھیں هوتی جبکه اس کے برخلاف جو معززین اپنے گھروں کے دروازے کھول دیتے هیں جن علاقوں میں معاشرے کی معاشرت نظر آتی هے وهاں عجیب و غریب درندگی کی مثالیں قایم کی جارهی هیں.واضح مثالیں موجود هیں که اورنگی ٹاؤن ، لانڈھی ، شاھ فیصل ، برنس روڈ کے علاقوں میں کس طرز کا آپریشن جاری هے اور منگھو پیر ، کنواری کالونی ، افغان کیمپ ، کوچی کیمپ الآصف میں کتنا با ادب آپریشن جاری هے.کیا اصول اپنایا گیا هے که جو باپ بنے اسے بلاوجه باپ مان لو اور جو عزت دے سر متھے تے بٹھایے اسے چیر ڈالو.اسکے دلشاد کو بھی ماردو اسکے اکرام کو بھی ماردو اسکے ندیم کو اٹھالو اور اسکے جنید کو بھی پهنک دو.

Image

دوسری طرف جھاں دو گروپوں میں راکٹ فایر هوں وهاں داخل هونے سے پهلے اعلان کیا جاتا هے هم آرهے هیں هم نکل رهے هیں هم نکل گیے هیں هم پهنچ گیے هیں.نتیجا کویی هاتھ نھیں آتا کویی گواه نھیں بنتا اور کٹھرے میں کھڑے هوکے ایسے علاقوں کو پرامن علاقه گردانا جاتا هے.

“دستور یهاں بھی گونگے هیں
فرمان یهاں بھی اندھے هیں
اے دوست خدا کا نام نه لے
ایمان یهاں بھی اندھے هیں”

ارباب اختیار و نوکر شاھی کو ھارون رشید سے سبق حاصل کرنا چاهیے اور جھوٹی گواهی کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناھ گرداننا چاهیے.یه سچ هے که کفر کے ساتھ معاشره چل سکتا هے لیکن ظلم کے ساتھ نھیں.

جے.رضا.زیدی
28.اکتوبر2013

رات کی ڈایری سویرے سویرے

بات هے 1986کی پرسکون لیاری میں چھوٹی سی دودھ کی دکان هوا کرتی تھی مالک کو اھل محله بابو کها کرتے تھے بابو نشه پانی کیا کرتا تھا.بابو پیپلز پارٹی کا کارکن تھا.سیاست میں هونے کی وجه سے کیی بار پولیس گردی کا شکار بھی هوا اور جیل بھی گیا.پهر جیسا که سنتے هیں که جیل جرایم کی یونیورسٹی هے تو اس یونیورسٹی میں اس کی ملاقات مختلف لوگوں سے هویی جیل سے واپسی په بابو کے اندر کا درنده مکمل طور سے جاگ چکا تھا.

جیل سے واپسی په بابو نے چند لڑکوں کے ساتھ مل کے لیاری کے ھوٹلوں کو ، دکانوں لوٹنا شروع کیا.پیپلز پارٹی کی الیکشن کمپین میں لوگ بابو کو دیکھ چکے تھے کاروایی هوتی تو کیسے هوتی بابو کی ڈکیتیاں بڑھتے بڑھتے بنک ڈکیتیوں تک آچکی تھیں. بابو کا پارٹنر بابو کا دست راست حاجی لالو تھا.حاجی لالو کا بیٹا ارشد و رشتے دار رحمان بابو کے چھیتے تھے.بابو کی دھاگ لیاری و اطراف میں بابو ڈکیت کے نام سے تھی.بابو ڈکیت کے تعلقات اس وقت کے الیکٹیبلز کے ساتھ تھے.

بابو نے لیاری میں منظم پیمانے پر اپنے ڈکیت گروپ میں ماھانه وظیفے په لوگوں کو ملازمت دینا شروع کردی اور ساتھ ساتھ لیاری میں منشیات کے اڈے بنایے جھاں سے یه زهر پورے شھر میں بکتا تھا. پیسے کی فراوانی هو تو دشمن خود بخود پیدا هوجاتے هیں ٩٠ کی دھایی تھی جب پی پی کی حکومت گیی تو بابو ڈکیت کے لیے پریشانیاں کھڑی هوییں. خود گروھ کے اندر اختلافات هوچلے تھے . جھگڑے جتنے تھے پیسے کی بانٹ کے تھے که بابو کی کرسی کے طالب خود بابو کے گروھ میں سر اٹھارهے تھے که ایک دن اچانک بابو ڈکیت کے لاڈلے عبدالرحمن نے بابو ڈکیت کا قتل کردیا اور عبدالرحمن رحمن ڈکیت کے نام سے جانا جانے لگا.

local01

رحمن ڈکیت اور ارشد عرف پپو رشته دار بھی تھے اور دوست بھی لیکن بابو کے قتل سے دراڑ آچکی تھی. حاجی لالو ارشد کو کها کرتا تھا که اس کرسی په میرا اور میرے خون کا حق تھا.رحمان ڈکیت اور ارشد عرف پپو میں بھی فاصلے بڑھ رهے تھے اور نوبت دشمنی تک آپهنچی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے هوچکے تھے کیی بار ایک دوسرے په حمله کرچکے تھے دونوں طرف سے کیی لوگ مارے جاچکے تھے.

ایسی صورتحال میں برادری کے بڑوں نے صلح کرانے کی کوشش کی کیی بار حاجی یعقوب (سٹی کورٹ والے) کی اوطاق میں صلح کی شرایط بھی طے هوییں لیکن ان کی جنگ اب گینگ وار بن چکی تھی.کبھی رحمان جیل تو کبھی ارشد جیل میں کهنے والے کهتے هیں که اس وقت پی پی پی کے جو دو گروپ تھے وه ایک ایک کو سپورٹ کرتے تھے اس طرح یه جنگ بھت بڑھ چکی تھی. میاں صاحب کی حکومتیں بھی اس کو ختم نه کرسکیں تھی کیونکه لیاری میں ان کے علاقے بٹ چکے تھے لیاری ایک ریاست کا روپ دھار چکا تھا اور جنگ تھی اس ریاست کے سلطان کی.اگر کویی چیز ان میں مشترکه بچی تھی تو وه تھی پیپلز پارٹی سے وابستگی.

مشرف دور میں دونوں کو پهلی بار حکومت کی طرف سے ٹف ٹایم ملا دونوں کو گرفتار کیا گیا کچھ کیسز میں فوری سزاییں هوییں اور دونوں ڈکیتوں کو جیل هوگیی.

لعنت هو کالی بھیڑوں پر که جنھوں نے پیسے کھاکر 2005/2006  میں رحمان ڈکیت کو جیل سے فرار کرایا. جیل سے بھاگ کے رحمان ڈکیت کچھ عرصے کے لیے ایران چلا گیا اور واپس آکر کراچی سے ذرا باھر ساکران کے علاقے میں اپنا گھر بنایا جسے وه وایٹ هاؤس کها کرتا تھا.

آج پهر بی بی کی واپسی تھی رحمان نے سیاست کے پردے میں جرایم چھپانے کی کوششیں تیز کردیں رحمان ڈکیت پیسے سے مال سے هر لحاظ سے پیپلز پارٹی کے لیے کهڑا تھا وه الیکشن لڑنے کا پلان کرها تھا دشمنی ارشد پپو سے بدستور سلامت تھی. بی بی واپسی هویی بی بی کے قافلے په جب بم بلاسٹ هوا تو لوگ کهتے هیں که سیکیورٹی و قریبی لوگ بھاگ رهے تھے که بی بی کا ٹرک واپسی میں کارساز سے بلاول ھاؤس تک رحمان ڈکیت نے ڈرایو کیا تھا. (والله اعلم)

لیاری میں اڈوں اور گروھ کے معاملات اب قریبی اھلکار دیکھتے تھے ان اھلکاروں میں عذیر ، غفار ، اور رفیق افغانی سر فھرست تھے.ایسے میں بی بی شھادت هوگیی. اور نتیجه پیپلز پارٹی برسر اقتدار آگیی.اور سونے په سھاگه ذوالفقار مرزا وزیر داخله سندھ بنے.ایسے میں بینظیر شھید کے اسٹاف آفیسر خالد شھنشاھ کا مرڈر هوا اور یه بھی پیپلز پارٹی کے لوگ رحمان ڈکیت کا کریڈت گردانتے هیں….

201382734328_samaa_tvlyari-gang-war-continues-unchecked-1350087448-3319

ایک دن خبر آیی که اسٹیل ٹاؤن کے قریب کهیں سی آیی ڈی کا کویی مقابله هوا اور رحمان ڈکیت مارا گیا.وقت کے وزیر داخله نے بھت افسوس کیا اور رحمن کے نیے جانشین عذیر بلوچ سے دوستی لگایی تاکه پچھلے کنجروں کی طرح لیاری کے معصومین کا استعمال کیا جاسکے . 300000 اسلحه لایسنس لیاری میں بانٹے گیے اور باقاعده اعلان کیا گیا که یه شادی و شب رات لے لیے نھیں بلکه کھاؤ کماؤ اور کھلاؤ.

کھنے والے کهتے هیں که رحمان ڈکیت کے قتل میں عذیر بلوچ اور ایک صوبایی وزیر بھی انوالو تھے لیکن بحرحال ڈاکوؤں کی سرداری آیی عذیر کے پاس اور عذیر بنا سردار عذیر جان بلوچ عذیر کو حبیب جان و ظفر بلوچ جیسےمنشیوں کی خدمات بھی ملیں .

uzair_baloch_150x100

ادھر کراچی میں اب حل جل تھی سپریم کورٹ باربار نوٹس لے رهاتھا که عذیر حالت مفروری میں 27 رمضان کی رات ظفر بلوچ کے یهاں رکا.یهاں اس کے ساتھ بدنام زمانه بابا لاڈله بھی تھا.بابا عذیر کے لیے شھر کراچی میں قتل عام کی شھرت رکھتا تھا.عذیر اگلے دن صبح صبح عمان کے شھر سلاله خاموشی سے نکل گیا. جانے کا سارا انتظام ظفر بلوچ نے کیا تھا لیکن اس جانے کی اطلاع بابا لاڈله کو نھیں دی گیی.بس یهی بات بابا لاڈله کو بری لگ گیی اور ایک دن بابا کے عتاب کا نشانه بنا ظفر بلوچ اور ھویے یه بھی قتل.بس یه دیکھ کر عذیر بھی واپس آگیا اور لیاری په قبضے کی ایک نیی گینگ وار شروع ھوچکی هے جو پچھلے کیی دن سے جاری هے.عذیر کی تصاویر پهاڑ دی گیی هیں.قبضے کی اس جنگ میں سینکڑوں لوگ مارے جاچکے هیں. عذیر و بابا لاڈله که منه بولے ابو ذوالفقار مرزا کا کچھ پتا نھیں کهاں مر کھپ گیے که اپنی اولادوں کا حال تک لینے نه آیے. عدالتی بیانات و پریس ریلیزز  کے مطابق لیاری کراچی کا پرامن ترین علاقه هے.ماشاءالله سے.

یه لیاری نامه بھت طویل هوچلا هے که چند دوست مرؤت میں پڑھ لیں تو پڑھ جاییں ورنه ……. چلتے چلتے ایک بار پهر خشک موضوع کو برداشت کرنے په الله جزاء عطا فرمایے که ملتے هیں کل ایک نیے پیج کے ساتھ.الله هم سب کا نگھبان.

مورخه  27اکتوبر 2013

بقلم . جے رضا زیدی

Twitter handle @junaid890

رات کی ڈایری سویرے سویرے

هم سمجھتے تھے که وایٹ ھاؤس کے کالے مکین نے لمبے منه والے گورے سے پوچھا هوگا که درو دیوار میں لرزه سا کیوں هے فضا بارعب اور مجھ په کچھ هیبت سی طاری هے دیکھو دیکھو کون آیا کون آیا؟ لمبے منه والا گورا بولا آقا شیر آیا شیر آیا.یقینأ کویی شاھراء فیصل ایرپورٹ سے وایٹ ھاؤس بھی جاتی هوگی جس په گورے گورے بچے دونوں اطراف امریکی و سبز ھلالی پرچم لیے کهڑے هوں گے اور وایٹ ھاؤس کا کالا مکین  ایک عالم اضطراب میں منتظر امیر هوگا

pakistan-pm-end-drone-strikes.si.

اس خیال کی تصدیق کے لیے باجی  سے امریکه رابطه کیا تو جوابا انھوں نے خوب مذاق اڑایا هم نے پوچھا عافیه کا بابوجی کے ساتھ هی آیے گی اور کون سے ایرپورٹ په اترے گی کراچی یا لاهور؟ یه سن کر باجی نے فون رکھ دیا.هم سمجھ گیے که کچھ زیاده هوگیا دوسرا فون شھنشاھ وقت کے اسٹاف آفیسر چوھدری_____د کے صاحبزادے کو کیا که آپ کے والد پروقار امریکی دورے په میاں صاحب کے ساتھ هیں بھایی ساڈے ڈرون دا دسو کی هویا اے.عافیه ، ھمارے رکے بل، ؟ حضرت ھم سے پهلے هی خار میں بیٹھے تھے فرمانے لگے عافیه په تو بات هی نھیں هویی جھوٹے خواب دیکھنا چھوڑو ھم نیلی ٹایی سے غلامانه ذهنیت نھیں بدل سکتے اور هم کو واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میل کردی جس کے بعد اپنے سارے خواب هوگیے ریزه ریزه لنک ذیل میں درج هے.

http://m.washingtonpost.com/world/national-security/top-pakistani-leaders-secretly-backed-cia-drone-campaign-secret-documents-show/2013/10/23/15e6b0d8-3beb-11e3-b6a9-da62c264f40e_story.html2

بظاھر جو تاثر نظر آتا هے که امریکیوں نے صرف چیک کیا هے که آیا فوجی تسلط سے آج جمھوریت آزاد هے یا نھیں جس طرح گریٹ گیم کے مھروں کو سجنا تھا وه سجے یا نھیں آیا دیا گیا ٹاسک پورا هو بھی رها هے یا ابھی بھی کچھ دم خم باقی هے.1.6ملین ڈالز کی امداد تو دی گیی لیکن اگر دینا والا سوال کرلیتا که آپ ٹریڈ مانگ رهے هیں جب که آپ خود ھمارے پاس عربوں کے ساتھ ٹریڈ کرتے هیں.اپنا ٹریڈ تو وطن لے آییں تو سوچھیں ذرا کیا عزت هوتی.لیکن بڑے لوگ هیں نه گھڑی دیکھی نه نیلی ٹایی بلکه بتادیا که ڈرون آپ کے تعاون سے هی ممکن هیں اور آپ تو جانتے هیں که ڈرون آپ کی حفاظت کے لیے هیں.

چلتے چلتے ذکر هوجایے اردو قوم پرستوں کا که کاٹ دار انداز سے فرمایا که لاهور کو میونسپل کارپوریشن کا درجه دیا جارها هے لاهور کو لوکل باڈی ایکٹ کے تحت ایم.سی ڈیکلیر کیا جایے گا.سب بھت اچھا لگا لیکن اصول شرفا سمجھ نه آیا که هم ناچیں تو ڈسکو تم ناچو تو مجرا.کیونکه یهی قدم جب لوکل باڈیز ایکٹ کے تحت کراچی میں اٹھایا گیا تو اسے تقسیم کی سازش قرار دے کر ١٣ستمبر کو قوم پرستوں کی ھڑتال کی حمایت ن لیگ نے کی اس طرح کے فیصلے کو پاکستان توڑنے کی سازش قرار دیا گیا تھا لیکن یه کیا آج لاهور کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجه دیا جارها هے.کیوں کیا کراچی لاهور سے کم کما کردیتا هے؟ کیا ریونیو جنریشن هو یا ایجوکیشن کراچی کسی بھی میدان میں لاهور سے پیچھے هے ؟ یقینا نھیں… تو پهر یه کیا که کراچی کو تو پانچ پانچ اضلاع میں تقسیم کیا جایے اور پهر تقسیم در تقسیم کی پلاننگ هو.کیا یه کھلا تضاد نھیں . ھمارے اردو قوم پرست دوستوں کے اس سوال کا جواب اگر آپ کے پاس هو تو همیں میل ضرور کیجیے گا.

http://www.express.pk/story/18874/

جے رضا زیدی @junaid890 مورخه:٢٥اکتوبر٢٠١٣

رات کی ڈایری سویرے.

کیا تبدیلی آگیی.؟      

Image

 ایک طویل غیر حاضری کے بعد  اپنی ڈایری پیج کے سلسله کو دوباره سے سے share کرنے کی جسارت کرتے هویے حقیر فقیر حاضر هے.

بھت کچھ هے لکهنے کو که کهیں عجب کرپشن هے تو کهیں اس سے جڑی باوردی و بے وردی غضب دھشت گردی هے لیکن ایسے میں جو چیز سب پر حاوی رهی وه ھارون رشید کا لکها گیا کالم تھا جو که دنیا اخبار میں مورخه ٢٢ اکتوبر کو چھپا.

Image

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2013-10-22&edition=KCH&id=669275_17534156

سچ هی کها هے کسی نے که یه ٢٠١٣ هے ٩٢ نھیں.ھارون رشید نے جس طرح اعتراف کیا اور پهر ایک سچی گواهی تحریر کری بلکه موتی پرویے اور وه لکه دیا که اگر دوباره لکهنے کی سعی بھی کریں تو ممکن نه هو.ھارون رشید نے جو لکها وه لنک کی صورت میں شایع کیا جارها هے لیکن قابل غور بات یه هے که یه چھوٹے علوی سے لکهوایا گیا مسز منظور کے نام شایع هوا بلاگ نھیں بلکه ایک مسلمان کی آواز تھی.ایک ایسی آواز که دیکهنے والوں نے آنسوؤں کی زبان سنی.

سھیل وڑایچ ، حسن نثار ، سلیم صافی اور اب ھارون رشید سب نے جب حقایق جانے حقیقتیں آشکار هوییں تو سب ھی نے اعتراف کیا اور ایم کیو ایم کے وکیل بنے.

تبدیلی کی بات کرنے والوں کو اب سمجھ لینا چاهیے که تبدیلی چھروں کی نھیں هوا کرتی تبدیلی نظام کی بھی دور رس نتایج نھیں دیتی بلکه حقیقی تبدیلی سوچ کی تبدیلی هوتی هے ماینڈ سیٹ کی تبدیلی هوا کرتی هے اور اسی تبدیلی کی بنیاد لگتا هے پڑچکی هے.میرے جیسے ناامید لوگوں میں ھارون رشید کے کالم نے ایک نیی روح پهونک دی هے.

اب کچھ ذکر هوجایے سپریم کورٹ میں جاری پاکستان انٹر نیشنل ایرلاین کے حوالے سے جاری از خود نوٹس کی سماعت کا که جسٹس جواد ایس خواجه نے وکیل سرکار کو مخاطب کرکے کها که پوری قوم جانتی هے که PIA کو جان بوجھ کے خسارے میں دکهایا جارها هے تاکه ایک بااثر شخصیت جس کا نام دیواروں په تحریر هے وه اس کی واحد بولی لگایے اور خریدار بنے.لیکن سوال یه هے که چھوٹا بھایی تو بدنام تھا هی تھا اب تو بڑے کی کهانیاں بھی طشت از بام هونا شروع هوگیی هیں.

چلتے چلتے ذکر هوجایے حکومتوں په اس پریشر کا جو سپریم کورٹ نے لوکل باڈیز کے الیکشن کے حوالے سے builtکیا هے اور صوبایی حکومتیں راه فرار کی راهیں ڈھونڈ رهی هیں اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کو اپنی اوطاق سمجھنا شروع کردیا هے اور حلقه بندیوں اور فھرستوں کے نام په پری پول رگنگ شروع کی هویی هے. سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے اور الیکشن کمیشن کو انتخابی فھرستوں اور حلقه بندیوں کے حوالے سے واضح ھدایات دے.

جے.رضا.زیدی
Twitter handle @junaid890