رات کی ڈایری سویرے سویرے

بات هے 1986کی پرسکون لیاری میں چھوٹی سی دودھ کی دکان هوا کرتی تھی مالک کو اھل محله بابو کها کرتے تھے بابو نشه پانی کیا کرتا تھا.بابو پیپلز پارٹی کا کارکن تھا.سیاست میں هونے کی وجه سے کیی بار پولیس گردی کا شکار بھی هوا اور جیل بھی گیا.پهر جیسا که سنتے هیں که جیل جرایم کی یونیورسٹی هے تو اس یونیورسٹی میں اس کی ملاقات مختلف لوگوں سے هویی جیل سے واپسی په بابو کے اندر کا درنده مکمل طور سے جاگ چکا تھا.

جیل سے واپسی په بابو نے چند لڑکوں کے ساتھ مل کے لیاری کے ھوٹلوں کو ، دکانوں لوٹنا شروع کیا.پیپلز پارٹی کی الیکشن کمپین میں لوگ بابو کو دیکھ چکے تھے کاروایی هوتی تو کیسے هوتی بابو کی ڈکیتیاں بڑھتے بڑھتے بنک ڈکیتیوں تک آچکی تھیں. بابو کا پارٹنر بابو کا دست راست حاجی لالو تھا.حاجی لالو کا بیٹا ارشد و رشتے دار رحمان بابو کے چھیتے تھے.بابو کی دھاگ لیاری و اطراف میں بابو ڈکیت کے نام سے تھی.بابو ڈکیت کے تعلقات اس وقت کے الیکٹیبلز کے ساتھ تھے.

بابو نے لیاری میں منظم پیمانے پر اپنے ڈکیت گروپ میں ماھانه وظیفے په لوگوں کو ملازمت دینا شروع کردی اور ساتھ ساتھ لیاری میں منشیات کے اڈے بنایے جھاں سے یه زهر پورے شھر میں بکتا تھا. پیسے کی فراوانی هو تو دشمن خود بخود پیدا هوجاتے هیں ٩٠ کی دھایی تھی جب پی پی کی حکومت گیی تو بابو ڈکیت کے لیے پریشانیاں کھڑی هوییں. خود گروھ کے اندر اختلافات هوچلے تھے . جھگڑے جتنے تھے پیسے کی بانٹ کے تھے که بابو کی کرسی کے طالب خود بابو کے گروھ میں سر اٹھارهے تھے که ایک دن اچانک بابو ڈکیت کے لاڈلے عبدالرحمن نے بابو ڈکیت کا قتل کردیا اور عبدالرحمن رحمن ڈکیت کے نام سے جانا جانے لگا.

local01

رحمن ڈکیت اور ارشد عرف پپو رشته دار بھی تھے اور دوست بھی لیکن بابو کے قتل سے دراڑ آچکی تھی. حاجی لالو ارشد کو کها کرتا تھا که اس کرسی په میرا اور میرے خون کا حق تھا.رحمان ڈکیت اور ارشد عرف پپو میں بھی فاصلے بڑھ رهے تھے اور نوبت دشمنی تک آپهنچی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے هوچکے تھے کیی بار ایک دوسرے په حمله کرچکے تھے دونوں طرف سے کیی لوگ مارے جاچکے تھے.

ایسی صورتحال میں برادری کے بڑوں نے صلح کرانے کی کوشش کی کیی بار حاجی یعقوب (سٹی کورٹ والے) کی اوطاق میں صلح کی شرایط بھی طے هوییں لیکن ان کی جنگ اب گینگ وار بن چکی تھی.کبھی رحمان جیل تو کبھی ارشد جیل میں کهنے والے کهتے هیں که اس وقت پی پی پی کے جو دو گروپ تھے وه ایک ایک کو سپورٹ کرتے تھے اس طرح یه جنگ بھت بڑھ چکی تھی. میاں صاحب کی حکومتیں بھی اس کو ختم نه کرسکیں تھی کیونکه لیاری میں ان کے علاقے بٹ چکے تھے لیاری ایک ریاست کا روپ دھار چکا تھا اور جنگ تھی اس ریاست کے سلطان کی.اگر کویی چیز ان میں مشترکه بچی تھی تو وه تھی پیپلز پارٹی سے وابستگی.

مشرف دور میں دونوں کو پهلی بار حکومت کی طرف سے ٹف ٹایم ملا دونوں کو گرفتار کیا گیا کچھ کیسز میں فوری سزاییں هوییں اور دونوں ڈکیتوں کو جیل هوگیی.

لعنت هو کالی بھیڑوں پر که جنھوں نے پیسے کھاکر 2005/2006  میں رحمان ڈکیت کو جیل سے فرار کرایا. جیل سے بھاگ کے رحمان ڈکیت کچھ عرصے کے لیے ایران چلا گیا اور واپس آکر کراچی سے ذرا باھر ساکران کے علاقے میں اپنا گھر بنایا جسے وه وایٹ هاؤس کها کرتا تھا.

آج پهر بی بی کی واپسی تھی رحمان نے سیاست کے پردے میں جرایم چھپانے کی کوششیں تیز کردیں رحمان ڈکیت پیسے سے مال سے هر لحاظ سے پیپلز پارٹی کے لیے کهڑا تھا وه الیکشن لڑنے کا پلان کرها تھا دشمنی ارشد پپو سے بدستور سلامت تھی. بی بی واپسی هویی بی بی کے قافلے په جب بم بلاسٹ هوا تو لوگ کهتے هیں که سیکیورٹی و قریبی لوگ بھاگ رهے تھے که بی بی کا ٹرک واپسی میں کارساز سے بلاول ھاؤس تک رحمان ڈکیت نے ڈرایو کیا تھا. (والله اعلم)

لیاری میں اڈوں اور گروھ کے معاملات اب قریبی اھلکار دیکھتے تھے ان اھلکاروں میں عذیر ، غفار ، اور رفیق افغانی سر فھرست تھے.ایسے میں بی بی شھادت هوگیی. اور نتیجه پیپلز پارٹی برسر اقتدار آگیی.اور سونے په سھاگه ذوالفقار مرزا وزیر داخله سندھ بنے.ایسے میں بینظیر شھید کے اسٹاف آفیسر خالد شھنشاھ کا مرڈر هوا اور یه بھی پیپلز پارٹی کے لوگ رحمان ڈکیت کا کریڈت گردانتے هیں….

201382734328_samaa_tvlyari-gang-war-continues-unchecked-1350087448-3319

ایک دن خبر آیی که اسٹیل ٹاؤن کے قریب کهیں سی آیی ڈی کا کویی مقابله هوا اور رحمان ڈکیت مارا گیا.وقت کے وزیر داخله نے بھت افسوس کیا اور رحمن کے نیے جانشین عذیر بلوچ سے دوستی لگایی تاکه پچھلے کنجروں کی طرح لیاری کے معصومین کا استعمال کیا جاسکے . 300000 اسلحه لایسنس لیاری میں بانٹے گیے اور باقاعده اعلان کیا گیا که یه شادی و شب رات لے لیے نھیں بلکه کھاؤ کماؤ اور کھلاؤ.

کھنے والے کهتے هیں که رحمان ڈکیت کے قتل میں عذیر بلوچ اور ایک صوبایی وزیر بھی انوالو تھے لیکن بحرحال ڈاکوؤں کی سرداری آیی عذیر کے پاس اور عذیر بنا سردار عذیر جان بلوچ عذیر کو حبیب جان و ظفر بلوچ جیسےمنشیوں کی خدمات بھی ملیں .

uzair_baloch_150x100

ادھر کراچی میں اب حل جل تھی سپریم کورٹ باربار نوٹس لے رهاتھا که عذیر حالت مفروری میں 27 رمضان کی رات ظفر بلوچ کے یهاں رکا.یهاں اس کے ساتھ بدنام زمانه بابا لاڈله بھی تھا.بابا عذیر کے لیے شھر کراچی میں قتل عام کی شھرت رکھتا تھا.عذیر اگلے دن صبح صبح عمان کے شھر سلاله خاموشی سے نکل گیا. جانے کا سارا انتظام ظفر بلوچ نے کیا تھا لیکن اس جانے کی اطلاع بابا لاڈله کو نھیں دی گیی.بس یهی بات بابا لاڈله کو بری لگ گیی اور ایک دن بابا کے عتاب کا نشانه بنا ظفر بلوچ اور ھویے یه بھی قتل.بس یه دیکھ کر عذیر بھی واپس آگیا اور لیاری په قبضے کی ایک نیی گینگ وار شروع ھوچکی هے جو پچھلے کیی دن سے جاری هے.عذیر کی تصاویر پهاڑ دی گیی هیں.قبضے کی اس جنگ میں سینکڑوں لوگ مارے جاچکے هیں. عذیر و بابا لاڈله که منه بولے ابو ذوالفقار مرزا کا کچھ پتا نھیں کهاں مر کھپ گیے که اپنی اولادوں کا حال تک لینے نه آیے. عدالتی بیانات و پریس ریلیزز  کے مطابق لیاری کراچی کا پرامن ترین علاقه هے.ماشاءالله سے.

یه لیاری نامه بھت طویل هوچلا هے که چند دوست مرؤت میں پڑھ لیں تو پڑھ جاییں ورنه ……. چلتے چلتے ایک بار پهر خشک موضوع کو برداشت کرنے په الله جزاء عطا فرمایے که ملتے هیں کل ایک نیے پیج کے ساتھ.الله هم سب کا نگھبان.

مورخه  27اکتوبر 2013

بقلم . جے رضا زیدی

Twitter handle @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رات کی ڈایری سویرے سویرے”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s