سندھ اور کوٹه سسٹم.

 urban-rural

سیدھی سیدھی سی بات هوگی آج لگی لپٹی رکهی نھیں جاسکتی.دل خون کے آنسو رو رها هے اور جذباتی سی سوچیں دماغ په دستک دے رهی هیں.اندر ایک باغی کا وجود ابھرتا نظر آرها هے اور اس کا صرف ایک سوال هے که میں کون هوں.؟

کل 28نومبر سندھ کی شھری آبادی کیلیے تاریخ کا ایک اور سیاھ دن.مسلم لیگ ن ، پی پی پی، پی ٹی آیی، جمیعت علماء اسلام، جماعت اسلامی  کے ارکان پارلیمنٹ کے دستخطوں سے سندھ کے شھروں میں کوٹه سسٹم ایک بار پهر ایکسٹینڈ  extend کردیا گیا. اگر هلکے پهلکے انداز میں تاریخ دهراییں تو کوٹه سسٹم کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی.موقف یه تھا که ایوب نے سندھ میں پنجابیوں کو زمینیں الاٹ کیں اور هر شعبے میں کمپنسیٹ کیا اب سندھ کو اس کا کهویا حصه دلایا جایے گا. مجھے یقین هے که یه جاھلانه سوچ بھٹو صاحب کی ذاتی نھیں هوسکتی تھی اور اگر تھی تو سندھ سے دشمنی تھی.بھٹو صاحب نے 74میں کوٹه سسٹم نافذ کیا اور 74میں هی یه احساس جنم لیچکا تھا که اب سندھ کے تعلیمی ادارے و سندھ کی ملازمتیں سندھی اسپیکنگز کیلیے هیں.اردو بولنے والوں کیلیے سمندر هی هے چاهے حکمران ایوب هو یا ذوالفقار علی بھٹو.

بھٹو صاحب کی پهانسی کے بعد ضیا الحق نے بھی اسی سلسلے کو extendکیا.بی بی  تو کیوں کوٹه سسٹم ختم کرتیں لیکن 93 میں میاں محمد نواز شریف دامت برکاتم العالیه نے وعده کیا که اب 93 میں معیاد ختم هورهی هےاب اس لعنت کا خاتمه هوگامیرٹ کا راج هوگا ملک ترقی کرے گا لیکن اس وقت کے سینٹ چیرمین نے سینٹ سے دس منٹ میں یه بل متفقه طور پر بغیر بحث کیے منظور کرالیا تھا.صرف 4 ووٹ اینٹی کوٹه  سسٹم پڑے تھے.وه ایم کیو ایم کے چار سینٹرز کے تھے اس وقت کے سینٹ میں ایم کیو ایم کے سینٹر و پارلیمانی لیڈر نشاط ملک نے قرارداد بھی پیش کی شور شرابا بھی کیا لیکن اس تفریقی نظام کی مخالفت میں کل 4 ووٹ آیے باقی پورا ملک سندھ میں کوٹه سسٹم کا نفاذ  چاهتا تھا جو که 20سال کے لیے پهر نافذالعمل کردیا گیا.یعنی 2013تک ایک بار پهر سندھ کے دیھی ڈومیسایل کو فوقیت دی گیی.میرٹ  assigne هوا شھروں کے لیے که 25-30 فیصد نشستیں پالیسی کے تحت میرٹ ڈیزاینڈ هر میدان میں دی جاییں گی.یه محترم نوازشریف  کی سندھ کے وڈیروں کو کھلم کھلا  سیاسی رشوت تھی.یعنی 2013تک امیرالمومنین License to kill the merit.  بانٹ کر اترے تھے.

کل قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی نے پهر اس کو extend کرنے کی منظوری دے دی اس کمیٹی میں نوید قمر ، مولانا شیرانی ،جیسے لوگوں نے کوٹه سسٹم کے حق میں بڑھ چڑھ کر بات کی جس کو تصدیق کی مھریں جماعت اسلامی ن لیگ و پی ٹی آیی نے لگاییں.همیشه کی طرح صرف ایم کیو ایم کے ارکان پارلیمنٹ هی چیختے نظر آیے لیکن سنوایی 20سال پهلے نھیں هویی تھی تو ان کان والے بھروں کے پاس اب کیا هوگی.

1362814440648

مجھے تو اس دن ایم کیو ایم سمجھ آگیی تھی جب پبلک ایڈمنسٹریشن میں میرا داخله نه هوا تھا اور میرے دوست علی بخش چانڈیو اور چوھدری احمد حسین کا هوگیا تھا.نمبر میرے زیاده تھے Aptitude test بھی clear تھا لیکن میرے پاس لاڑکانه یا دادو کا ڈومیسایل نھیں تھا اور یهی میرا گناھ عظیم تھا. لیکن آج 20برس گذرجانے کے بعد میری آنکهوں کے سامنے لٹیروں کی ایک کمیٹی جس کو چوھدری بشیر leadکررهے تھے ایک اجلاس کے دوران میری اگلی نسل کے لیے بھی بے روزگاری لکه گیی.میری نسل کو جھالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کی یه کیسی کاوش هے.یه کیسا ملک هے کیا اسی دن که لیے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا که ایک ایسا تفریقی نظام قایم کیا جایے جھاں زبان اور جگه سے وابستگی کامیابی کی ضمانت تصور کیے جاییں.بانیان پاکستان کی اولاد یه سوچنے په مجبور هے که میں کون هوں ؟ کیا یه دھرتی 65سال کے بعد بھی مجھ سے بغض رکھے گی اور مجھے SON OF THE SOILتسلیم نھیں کیا جایے گا کیوں؟ یهاں تو افغان دھشت گردوں کی موت په صف ماتم بچھ جاتا هے لیکن میری روٹی بھی چھینی جارهی هے.هم نے وفاداری کا کونسا امتحان پاس نھیں کیا؟ خدارا جواب دو ورنه جواب جغرافیے لکهیں گے اور تم بولوگے ادھر تم ادھر هم……

بقلم جنید رضا زیدی Twitter handle @junaid890

نوسربازوں کا بازار

imagesCAFK9653
کسی بھی مملکت کو چلانے کیلیے داخله ، خارجه ، و معاشی پالیسیز بنا کرتی هیں.ترقی یافته ممالک هوں یا ترقی پذیر ممالک یه پالیسیز ملٹری طاقتیں و پارلیمانی فورسز مل کے بناتی هیں.کسی بھی ملک کی پالیسی ڈیزاین کرتے هویے اس ملک کے مفادات کا خیال رکها جاتا هے.

آجکل پاکستان میں سیاسی اسکورنگ کا مقابله چل رها هے.چند سیاسی جماعتیں نیٹو سپلایی و ڈرون میں سیاسی اسکور کرنے میں لگی هویی هیں.اور ایک تو شاید رنگ روڈ په خارجه پالیسی چینچ کرنا چاھ رهے هیں. تف هے ان لوگوں په جو آج تک اس  قوم سے سچ نھیں بولتے بلکه اس جذباتی قوم کے جذبات سے کھلوار کرتے هیں.

 71کے بحری بیڑے کے دھوکے کے بعد سے هم نے امریکه کو بیوقوف بنانا اپنا قومی فریضه تصور کرتے هیں. هم اس بگڑے هویے لاڈلے بیٹے کا سا کردار ادا کررهے هیں جو جھوٹ بول بول کے اپنی ماں سے پیسے اینٹھتا هے.کبھی بولتا هے فلاں فیس بھرنی هے کبھی بولتا هے فلانی مشین خراب هے یا کویی بھی خرچه اپنی ماں کے آگے رکهتا رهتا هے اور ماں گالیاں بھی دیتی هے اسے آنکهیں بھی دکهاتی هے لیکن پیسے پهر بھی دے هی دیتی هے.

ضیا الحق کے دور میں جماعت اسلامی نے یه رول پلے کیا پهر بی بی کے دور میں پهلے نوازشریف اور پهر فضل الرحمن نے یه رول پلے کیا. پهر کشمیری مجاھدین کے نام په کام هونا شروع هوا. مشرف دور میں متحده مجلس عمل و اب یه کردار تحریک انصاف ادا کررهی هے.

 1383415705446

تاریخ گواھ هے کس کس کی کس کس سے کیا انڈراسڈینڈنگز understandings تھیں.سب فکسڈ هے اگر یه گیم فکسڈ نه هوتا تو کے پی کے حکومت کیوں شامل نه هویی؟ عمران خان اپنے قول کے مطابق حکومت کیوں نه چھوڑ بیٹھے؟ یه اچھوتے خیال وزیر اعظم کے دورے کے وقت هی کیوں اٹھے؟

هونا تو یه چاهیے تھا که حقانی نیٹ ورک کے دھشت گردوں کے ھنگو میں پایے جانے په آپ وزارت داخله په برس پڑتے که یه دھشت گرد اتنا آزادانه ھنگو تک کیسے پهنچے. ناصر الدین حقانی اسلام آباد میں ماراگیا یه تو محکمه داخله کا فیلیر هے.لیکن ایسا کچھ نھیں هوا.بلکه هوا تو پشاور میں ایک رنگین کنسرٹ معاف کیجیے دھرنا هوا جو که ختم بھی هوگیا.ایک ٹوپی ڈرامه ایف.آیی.آر کی صورت میں بھی سامنے آیا که نامعلوم ڈرون کے نامعلوم ڈرایور driver کے نام ایف آر کٹ گیی.بقول ایک عزیز اوبامه بھی ھنس دیا هوگیا که کیا مخول کیا هے.

1385308378487     1385212483399

چلتے چلتے صدایے افسوس هے که عزت ماب محترم منور حسن صاحب ، عمران خان صاحب ، و دیگر سیاست دان جو ڈرون حملوں میں مرنے والے افغان دھشت گردوں کیلیے تو خوب بولتے هیں کبھی اپنی زبان شریفه کو کراچی میں شھید هونے والوں کیلیے بھی هلا جلا لیا کریں.نه جانے آپ لوگوں کا کراچی سے کیا بغض هے که کراچی کے مرنے والوں سے اظھار افسوس تک نھیں کرتے.پهر شکوه بھی کراچی سے؟ صحیح تو کها قاعد تحریک نے که عوام ایسی تمام قووتوں کا بایکاٹ کریں جنھوں نے انچولی دھماکوں په اظھار افسوس تک نه کیا.

بقلم: جنید رضا زیدی Twitter @junaid890

ذکر کچھ اھل چمن کا.

 277077_140813669331744_3605516_n

جب کچھ اچھے کی توقع هوچلی تھی دن اطمینان سے گذرا تھا هم قانون نافذ کرنے والے اداروں و دیگر سماجی و سیاسی تنظمیوں کی قیام امن کے حوالے سے لکهنا شروع کررهے تھے که اچانک انچولی دھماکے کی اطلاع ملی.پتا چلا که اپنی ماں کے پانچ پیارے شھید اور ستره سے زاید زخمی بتایے گیے.ساری امید ساری آس هی مرگیی جو که دن پر امن گذرنے کے بعد طلوع هویی تھی.

944762_427022217426596_1183637870_n

پهلا دھماکا چایے کے هوٹل په اور دوسرا ایک پکوان ھاؤس په هوا. دیکهنے والوں نے ایک قیامت صغری کا منظر دیکها هے که کسی کا ھاتھ نھیں تو کسی کا سر.بجلی فیل هوچکی تھی گھپ اندھیرا.دیکهنے والے بتاتے هیں که پولیس جایے وقوع سے دور عالم خوف میں کھڑی تھی ایک عجیب عالم تھا.کویی پرسان حال نه تھا.

پاکستان کے شھر کراچی په حق دعوی دایر کرنے والے نوسرباز کراچی کی میتوں په چپ رهے هم انتظار کرتے رهے که حضور خان صاحب کا منور حسن کا کسی احمد لدھیانوی کا کسی دوسرے صوبے سے کسی اور گورنر یا وزیر اعلی کا کویی فوری مذمتی بیان کچھ شاید آجایے لیکن افسوس که جو کل تک نعرے مارتے تھے که کراچی سب کا هے وه تو کسی تصویر کے کسی فریم میں نظر هی نھیں آیے.ان کی طرف سے تو کسی غم کی عکاسی تک نه هویی.رو گا کر پهر MQM اور اس کے کارکنان هی هر قسم کے حالات میں اھل کراچی کیلیے مسیحا کا سا کردار اداکرتے هیں اور انھوں نے آج پهر کیا.KKF کے رضاکار ایمبولینسز دوڑاتے لوگوں کو خون کے عطیات کیلیے جمع کرکے عباسی شھید لیجاتے هویے نظر آیے. دیگر سیاسی جماعتیں نه جانے کیوں اھل کراچی بالخصوص اردو بولنے والوں کیلیے سوتیلی ماں کا سا کردار ادا کرتے هیں.12گھنٹے گذر جانے کے باوجود اور کویی سیاسی و سماجی ورکر تاحال جایے وقوعه په نھیں پهنچا تھا.

1385202068148

کچھ بات خیبر پختونخواه میں سجے سٹیج ڈرامے کی بھی هوجایے جب عمران خان نے اسمبلی میں پهلی تقریر کی تھی تو مبصرین نے فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیا تھا کچھ یاروں نے تو یهاں تک لکها تھا که جو رول میاں صاحب نے زرداری صاحب کیلیے پلے کیا تھا وهی رول اب عمران پلے کرنے جارهے هیں. اس وقت تو یه بات صرف قیاس آرایی لگتی تھی لیکن اب اس په ایمان آتا جارها هے.

پاکستان کی سیاست میں اینٹی امریکی عنصر یعنی امریکه سے نفرت کا بھی ایک کردار هوتا هے.هر دور حکمرانی میں ایسے elements پیدا کیے جاتے هیں که جن کو دکها کر امریکی ایڈ لی جاتی هے ان پریشر گروپس کا مقصد در پرده حکومتی سپورٹ هوتی هے.اور بالکل اسی طرز کی سیاسی بازیگری امریکه کے ساتھ اس وقت میاں صاحب و خان صاحب مل کے کهیل رهے هیں.

ڈرون ، نیٹو سپلایی و دیگر خارجی معاملات پالیسیز کے تحت چلتے هیں اور دنیا میں کسی بھی ملک کی خارجه پالیسی اس کی ملیٹری قیادت و پارلیمنٹیرینز بناتے هیں.یه بات تو واضح هے که پاکستان تحریک انصاف پهلے دھرنے کا اور اب شاید جلسے سے امریکه په پریشر بلڈbuild کر رهی هے تاکه domoreکی بازگشت سے دور هوا جاسکے.یه بات تو سب جانتے هیں که هنگو اٹیک میں مرنے والے پاکستان کے وفادار اور پاکستان کے حامی نھیں تھے بلکه وه دھشت گرد تھے.ایسے میں اس طرح کا پریشر گیم پلان که جلسے میں نه خیبر پختون خواه حکومت شریک هوگی نه عمران خان یعنی تاثر یه بن رها هے که کویی حکومتی جماعت یا لیڈر اس جلسے کو conduct نھیں کرا رهے بلکه یه عوامی ٹوله هے.!!!!! سوال یه پیدا هوتا هے که کسے دکھا یا جا رها هے؟؟؟یه کس سے کس قسم کی پرده داری هے.الطاف بھایی نے سچ هی تو کها که قوم سے حقایق چھپایے جارهے هیں

بقلم جے رضا زیدی. Twitter handle @junaid890

محسنین پاکستان زنده آباد.

Image

آج جب لکهنے کا اراده کیا تو سوچ کو بھت منتشر پایا جو لکهنا چاه رها هوں وه لکه نھیں پارها.جو کچھ پنڈی میں هوا اس کی جتنی مذمت کی جایے کم هے.بس اتنا کهیں گے که آج تو ھلاکو خان و چنگیز خان کی ارواح بھی چیخ اٹھی هوں گی که بس کردو بس….

پنڈی سانحه کیا هوا گویا همارے حکمران نه جانے کون سے بنکروں میں چھپ گیے که نه کسی میت میں نظر آیے نه مذهبی رواداری کو فروغ دیتے ملے.بڑے میاں صاحب تو سری لنکا میں کسی ڈیل کے لیے موجود هیں اور کسی اسٹاف آفیسر نے شاید سانحه پنڈی کا کویی ذکر بد بھی نه کیا که حضور والی کویی پریس ریلیز هی دے دیتے.اور مصدقه اطلاعات هیں که شاید سری لنکا سے بنکاک اور پهر شاید نیوزی لینڈ اور آخری نمبر پاکستان کے دورے کا هے.هماری درخواست هے که آپ اگر مملکت خداداد پاکستان کا بھی دوره فرماییں اور هم پاکستانیوں په بھی نظر عنایت فرماییں.عین نوازش هوگی.

Image

کیا کهت هے که “بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان الله”. تو خادم اعلی تو خادم اعلی هیں اھل پنجاب په آپ کے بڑے احسانات هیں آج جو دودھ کی نھریں صادق آباد سے اسلام آباد تک رواں دواں هے اس میں خادم اعلی هی کی کاوشیں هیں.آپ نے اھل راولپنڈی کے لیے ایک ویڈیو کانفرنس کی آپکا یه احسان اھل پنجاب جان دے کر بھی نھیں چکا سکتے.

Image

صد شکر که هم کو بالآخر ایسا وفاقی وزیر داخله مل هی گیا که جس نے سانحه پنڈی په نه صرف ایکشن لیا بلکه اس قوم کے مسایل کو تقریبا حل هی کردیا هے اور بھوک ، غربت ، بے روزگاری ، مھنگایی ، ٹارگٹ کلنگ ، بم دھماکے ان سب کا ایک هی حل ڈھونڈ ڈالا یعنی آرٹیکل چھ کا اطلاق. اور بات بھی سھی هے اگر مشرف په آرٹیکل 6 لگے گا تو کراچی سے خیبر تک یقین جانیں راوی چین هی چین لکهے گا.دودھ کی جو نھریں آج بھ رهی هیں ان میں آرٹیکل 6 سے شھد مل جایے گا اور لوگ اس طرح دودھ اور شھد سے فیضیاب هوں گے.سب باتوں کو چھوڑیں اگر آرٹیکل 6 کا اطلاق هوگیا تو پنڈی راجه بازار کی منھدم مارکیٹ بھی سرکاری خرچ په چند گھنٹوں میں دوباره اٹھ کھڑی هوگی.آرٹیکل 6 هی اس ملک کے مسایل کا اکلوتا حل هے.

اور ملکی سالمیت کے لیے ایک بات بھت ضروری هے که هم یا تو شیعه بن کے سوچیں یا سنی بن کے سوچیں ، سلفی اھل حدیث ، مالکی شافعی حنبلی بھی بنا جاسکتا هے لیکن مسلمان بن کے پاکستانی بن کے خدارا کبھی نه سوچنا کیونکه یهاں جو پاکستان فرسٹ کا نعره مارتا هے اس په آرٹیکل چھ لگ جاتا هے.

چلتے چلتے ایک سوال که جس مملکت کی بنیاد شاھین کو آیڈیلایز idealise
کرکے رکهی گیی هو اس ملک میں کیا فاخته سلامت ره پایے گی.

بقلم
جنید رضا زیدی

اسلامی ھایی جیکرز

 1384010065486

آج با الآخر 40ساله کفر ٹوٹا آیی ایس پی آر نے دو ٹوک منور حسن صاحب صاحب کے بیان کی پرزور مذمت کی اور ان سے کهاگیا که وه معافی مانگیں. لگتا هے که 66/67سے قایم ورکنگ ریلیشن شپ کا اختتام هے.

یهی هونا تھا یهی هوا اور یهی هونا چاهیے تھا لیکن اب وقت هے که نظریه ضرورت کو پس پشت ڈال کر قوم کو حقایق بتایے جاییں.! حقایق تلخ هوا کرتے هیں لیکن اگر هم اس تلخی کو پی جاییں تو همارا مستقبل کبھی تلخ نه هو.

کهاں تو پاکستان کے قیام کی مخالفت هویی اور کهاں اچانک سے جماعت اسلامی جناح کی وفات کے بعد یه کهتی دکهایی دی که پاکستان بنایا مسلم لیگ نے تھا اور چلایے گی جماعت اسلامی. 48میں جب مسلم لیگ کشمیر کے جھاد کو فرض بنانے په تلی تو اس کی کھلم کھلا مخالفت جماعت اسلامی نے کی اور اس جنگ میں اگر کویی کشمیری بارڈر په لڑا تھا تو وه تھے قبایلی علاقے جنھوں نے جنگ کی.لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی نے اس کو بھی ھایی جیک کیا.اور ساده لوح قبایل کو بے وقوف بنایا جو وه آج تک بنا رهے هیں.

اب اقوام متحده میں جنگ بندی کے بعد ان کو سیاست کا موقع ملا که هم تو لڑتے لیکن لیاقت علی اقوام متحده میں بک گیا.اور وزیر اعظم لیاقت علی خان په باتیں کسیں.یهاں تک که بیگم رعنا لیاقت علی تک کو ان لوگوں نے نه بخشا.

مجھے اندازه هے که بھت خشک هوتا جارها هے لیکن یه هیں هی اتنے خشک.50 کی دھایی سے 1969تک جماعت اسلامی کی سرگرمیاں سوات میں بھت بڑھی رهیں کیونکه سوات پاکستان کا حصه 1969 میں بنا اس سے پهلے وهاں پاکستان کی سیاست و سیاسی جماعتوں کا وجود نھیں تھا.

اب یه یهاں سے باھر نکلے اور ان کا حدف کراچی تھا انھوں نے کراچی کے اردو اسپیکنگز کو بھٹو کے خلاف استعمال کیا.اسلام کےنام په بھٹو کو کافر کهنے والی جماعت اسلامی کیلیے کسی کو کافر کهنا کچھ نیا نھیں تھا یه کام تو وه قاعداعظم کو کافر اعظم قرار دے کر پهلے بھی کرچکے تھے.

سقوط ڈھاکه کے محرکات په غور کیا جایے تو سب سے بڑی وجه جماعت اسلامی تھی ان کی ورکنگ ریلیشن شپ کا آغاز هوچکا تھا یه چاهتے تو جو اصول آج مخالفین پاکستان یعنی طالبان کے لیے اپنارهے هیں یعنی بات چیت مذاکرات یه سارے دروازے بنگال کے مسلمان کے لیے کیوں نھیں کهولے گیے.بنگال میں تو مکتی باهنی کیلیے اپنے ورکنگ پارٹنر کو اکساکے البدر الشمس بنادی گیی.جنگ کے نعرے لگے اور هیڈ کواٹرز ان کی اوطاقیں بن گییں.سوال یه هے که آج خوارجیوں تکفیریوں قاتلوں کے لیے مذاکرات لیکن پاکستان زنده باد کا نعره مارتے بنگالیوں سے جنگ.90000 فوجی ان منافقوں کی منافقت و غلط مشاورت کی بدولت اسیر بنے.

کسی بڑے نے اب ان کا رابطه سی آیی اے سے کرادیا تھا اور پینٹاگون روس کو ٹریپ کرنا چاهتا تھا.جماعت اسلامی په امریکی انویسٹمنٹ هویی اور سوشلزم کے خلاف نعره جھاد کی تیاری کی بنیاد 73میں پڑی جب یه افغانستان میں اتارے گیے.

ھینری کیسنجر ، البرٹ فلنٹوف کی کتابیں اس بات کا ثبوت هیں که جماعت اسلامی و ربانی امریکی یاروں میں شمار هونے لگے تھے.امریکه کے لیے blue eye بننے کے بعد ضیا الحق په فرض عین تھا که ان کیلیے ایڈجسمٹ نکالی جایے سو نکالی گیی.

 1384097295083

بینظیر نواز شریف مشرف سب ان سے مستفید هویے جب امریکه پهرا تو یه پهرے لیکن اب پهلی بار اس ڈرامے میں وه دور آیا هے که محبوب رقیب اور محبوبه میں فاصلے بڑھے اور خدا ان فاصلوں کو سلامت رکهے کیونکه اس فاصلے میں اسلام و پاکستان کی بقاء هے.ورنه یقینا قاعد اعظم باریش هوجاییں گے.

پاک فوج زنده باد پاکستان پاینده آباد

بقلم. جے رضا زیدی Twitter handle @junaid890 بتاریخ 11 نومبر 2013

کراچی اور کراچی….

tumblr_mw1lbp7tZO1syh3u5o1_r2_500

کراچی پاکستان کی شھ رگ.کراچی پاکستان نامی گلدستے کا سب سے زیاده مھکتا کھلتا پهول هے.کراچی تمام قومیتوں کو نبھانے والا شھر لیکن یه وه واحد شھر هے که جھاں کے بارے میں قیاس آرایوں کا اک بازار هے جو ھر وقت گرم رهتا هے.کراچی په بات کرتے هویے عموما لوگ جذباتی بھی هوجایا کرتے هیں.کراچی په بات تو هوتی هے لیکن لطیفه یه هے که کراچی والے سے نھیں هوتی.جب بھی خبریں گرم هوتی هیں تو دانسته یا ناداندسته هم افواھوں کے مبلغ بن جاتے هیں.اب یه بے وجه دوری بوجه فاصله هے، آگھی کی کمی هے یا عقل کا زیاده استعمال هے تو یه فیصله کرنا هماری اجتماعی ذمه داری هے.Image

آج صبح همارے سوشل میڈیا فرینڈ intprofessor نے همیں مطلع کیا که ایم کیو ایم نے 148 پولیس والے اس سال ماردیے هیں اور اس کے ثبوت میں TheNews کا ایک لنک بھیجا.جو جمله استعمال هوا وه یه تھا که 148th police officer murdered in target killing by MQM this year. جو لنک اٹیچ تھا وه  تھا

http://www.thenews.com.pk/Todays-News-4-213292-Cop-among-10-more-shot-dead

یه لنک اسی ھیڈر کے ساتھ اس کے بعد بھی ٹویٹ هوتا رها اور بے شمار لوگ بغیر پڑھے ایم کیو ایم په تبرا بھیجنا شروع هوگیے.اس تبرے میں بے شمار مفتیان ٹویٹر بھی گود پڑے.میں نے جب اس لنک کو اسٹڈی کیا تو مجھے تو یه sentenceهی نظر نه آیا که جس میں MQMکا نام استعمال هوا هو.اور اگر یه اندازه تھا تو کم از کم اندازوں په سولی تو نھیں لکهی جاتی.که قاتل قرار دے دیں.

بحث برایے بحث کرنی هو تو لکهنے کو کهنے کو بھت.لیکن بات سمجھانی پڑے گی اور بات دوستوں کو سمجھ بھی آجایے گی.شرط یه هے که سمجھنے والا سوچ کی وسعت کو برقرار رکهے اور سمجھانے والا اخلاص کو.تضحیک کے تاثر کے بغیر بات زیاده سمجھ آتی هے.

کراچی جھاں روشنیوں کا شھر هے وهیں کراچی 1980سے مختلف مافیاز کا گڑھ هے.80میں شی SHE پهر هیروین سینڈیکیٹس ، کلاشنکوف مافیا پهر لینڈ مافیا اور اب کیبل مافیا.ان تمام مافیاز کی همیشه اس شھر په حکومت رهی هے کیونکه کبھی مفاد پرست عناصر ان کو استعمال کرتے تو کبھی یه مافیاز ان کو استعمال کرتیں نتیجه هم سب کے سامنے هے.

ایسی صورتحال میں پولیس کو قانون کے رکهوالوں کا کردار ادا کرنا تھا لیکن ان لوگوں نے مختلف گروپس کے سربراھان کا سا کردار ادا کیا. اور جب سپاری په عمل نھیں هوا یا کام نکل گیا تو کام ختم کردیا گیا.نام ایم کیو ایم کا چل رها هوتا تھا بالخصوص 92سے لیکر آج تک جتنے قتل سلجھایے نه جاسکے وه ایم کیو ایم کے کھاتے میں اور پچلے کیی سالوں سے وطیره یه هے که کهیں پولیس والا ماراجاتا هے تو کها جاتا هے آپریشن کا کردار تھا ماردیا.

یه بات بھی ذهن نشین رهے که آپریشن ایم کیو ایم کے علاوه امن کمیٹی کے و طالبان کے خلاف بھی هوا بلکه بے شمار عام عوام بھی پولیس گردی کا شکار رهتی هے.لیکن لگتا هے که کچھ بھی هو الزام صرف ایم کیو ایم په لگے گا یه کیسا وطیره هے.

نبی کریم صلی الله علیه وسلم کا فرمان عالیشان هے که آدمی کے جھوٹا هونے کیلیے کافی هے که وه بغیر تصدیق بات کو آگے بڑھایے.

سچ جانیے سچایی اس سے بھت مختلف هے اور سچ کی گواهی تو ھارون رشید نے بھی دے دی.میری پروفیسر آپ سے بھی درخواست هے که ایم کیو ایم کے مرکز 90 تشریف لایے جاگتی آنکهوں سے حقیقت دیکهیں کراچی میں ایم کیو ایم کے سیکٹر آفسز کے وزٹ کریں بات آپ کی سمجھ میں آجایے گی کیونکه یهاں یقینی اخلاص هے اور آپ کے پاس وسعت سوچ.

جنید رضا