رات کی ڈایری سویرے سویرے

Ch Nisar Ali Khan
کل شام جب دوستوں کے میسج آئے که وزیر داخله کی پریس کانفرنس هے تو دل خوش هوگیا که حضور یقینا محر الحرام سے پهلے اپنے انتخابی نشان شیر کی مانند بات کریں گے که دھشت گردوں کان کھول کے سن لو اگر کسی نے کسی بھی قسم کی دھشتگردی کا خیال دل میں لایا تو ریاست انتھایی سختی سے نمٹے گی.کان کھول کے سن لو ھماری آرمڈ فورسز اور لاء اینڈ فورسمنٹ ایجنسیز اندرونی و بیرونی دھشت گردوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی هیں.همارا نعره صرف پاکستان هے.

لیکن یه کیا چوھدری صاحب نے تو ناک هی کٹوادی ایسا لگا که کوئی بچه اپنے والد مقدس سے اب نھیں ماریں اب نھیں کروں گا کی ضد لگائے بیٹھا هے.ھم تو اس چوھدری نثار کی بات سننے بیٹھے تھے جس نے بحیثیت اپوزیشن 2012 تک ان دھشت گردوں کو امریکی ایجنٹ اور را کا ایجنٹ قرار دیا تھا.اور انڈین اور را کے ایجنٹس کے آگے بھیگی بلی بن کے بات نھیں هونی چاهیے که ھم نے نھیں کیا پڑوسی کا قصور هے.اب نھیں کریں گے.بات بہت سیدھی سی هے که حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنی چاهیئے. ریاست کے اندر اتنی ساری حکومتوں کا وجود سمجھ سے باھر هے.

آج تین نومبر هے چیف جسٹس اور پرویزمشرف کی زندگی کی یادگار تاریخ که جب 2007 میں ایمرجنسی لگی اور عدلیه آزادی کی تحریک چلی.پورے ملک کے وکلاء چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار کے نعرے لگاتے عدلیه آزادی کی تحریک کا حصه بنے.چوھدری اعتزاز ، علی احمد کرد و ایس ایم ظفر جیسوں نے بھی وه کردار ادا کیے که دیکھنے والوں نے نه دیکھا تھا ، سننے والوں نے نه سنا تھا اور لکهنے والوں نے نه لکها تھا.1382872332203
لیکن سوال یه هے که آج چھ سال گزرنے کے بعد اس قوم نے عدلیه سے کیا پایا.کیا انصاف کی فراھمی یقینی هوچکی هے. موبایل عدالتیں فوری انصاف فراهم کررهی هیں کیا پایا اس قوم نے یا وکلا نے؟

یهاں پایا تو صرف کرپٹ لوگوں نے پایا تو گیلانی راجه رینٹل اور ارسلان افتخار جیسوں نے پایا که 80 ارب کھا گیے مرشد حضور اور سزا ہوئی تیس سیکنڈ کی.لاکھوں ڈالرز کی کک بیک ملیں راجه رینٹل کو اور زمینیں الاٹ هوییں ملک ریاض کو.بلیک منی آیی ارسلان افتخار کے پاس.اور سیلیوٹ هو علی احمد کرد اعتزاز احسن و اطھر من الله جیسوں کو که جب یه گندے غلیظ کرپشن کے بازار سجمے لگے تو آپ حضرات کناره کرگیے بلکه کرد و اعتزاز تو اعلانیه استغفار کرتے بھی پایے گیے.مختصرا یه که آج عجب کرپشن کی غضب کهانیوں کے ساتھ آزاد عدلیه اکیلی کھڑی هے. صرف حامد خان بوجه بحریه کیسز چیف جی
سے قربت خاص رکھتے هیں تو وه صرف ساتھ ساتھ چلتے رهے لیکن حالیه بار کے انتخابات میں حامد خان گروپ کے پینل کو عبرت ناک شکست هویی اور تقریبا یه باب بھی بند هوچکا هے.

چلتے چلتے افسوسناک خبروں میں اسد منیر مشھور جرنلسٹ کی والده خالق حقیقی سے جاملیں اور لیجنڈری اسٹار ریشماں بھی دنیایے فانی سے کوچ کرگییں. آج اگر کها جایے که فولک بن ماں کے هوگیا تو غلط نه هوگا.

Reshma-01

 لمبی جدایی
چار دناں دا
ساتھ او ربا
بڑی لمبی جدایی ھایے لمبی جدایی.

جے رضا زیدی
3نومبر2013

Twitterhandle@junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s