حبیب ماموں اور پٹھان کا هوٹل

Image

رات کھانے سے فراغت کے بعد ٹھلتے هویے کونے په واقع خان کے هوٹل په چلے گیے.چایے کا آرڈر دے کر بیٹھے تھے که ھمارے برابر میں دو افراد آکے بیٹھ گیے.ایک کی عمر کویی 26/27 سال اور ایک کی کویی 40سال کی تھی.دونوں کی رشته داری لگتی تھی ایک کا نام دوران گفتگو حبیب سامنے آیا جبکه دوسرے کو پوری گفتگو میں ماموں که کے پکارا گیا.ان کی گفتگو اتنی سحرانگیز تھی که قلم بند کیے بغیر نه ره سکتا تھا. تو حاضر خدمت هے .(یه ذھن میں رهے که یه کسی صحافی ،دانشور ،یا کسی سیاستدان کی نھیں دو عام افراد کی گفتگو هے.)

ماموں: ابے تیرے انتظار میں تو سوکھ گیے.

حبیب: پهلے ٹی وی اور پهر فیس بک
کیا کروں باھر آنے کا دل ھی نھیں چاه رها تھا.آخر مشرف آزاد هوگیا.اچھا هے یا برا لیکن پاکستان کا وفادار هے اور میں تو بھٹو، الطاف حسین کے بعد اگر کسی کو لیڈر مانتا هوں تو وه مشرف هے.
ماموں میرا بس نھیں چل رها که مٹھایی بانٹوں.

ماموں: اتنے بڑے بڑے کیسز تھے ویسے یه کهتا تھا عدالتوں کا سامنا کروں گا اور اس نے کیا.ویسے خوشی تو مجھے بھی هے لیکن سنا هے کویی ڈیل هویی هے.

حبیب : ڈیل بظاھر تو هو نھیں سکتی اور اگر کویی کهے ڈیل هے تو ڈیل کس نے کی عدلیه نے؟
اور ماموں آپس کی بات هے یهاں کس نے ڈیل نھیں کی این آر او یاد کرو میاں صاحبان کی مشرف سے ڈیل یاد کرو اور سب کو چھوڑو بے نظیر اور مشرف کی دبیی میں هونے والی ڈیل یاد کرو.

ماموں: یار ویسے اس کے دور میں پیٹرول ، ڈالر سب او کے تھا.ملکی قرضه بھی اتر گیا تھا کشکول تو ٹوٹ هی گیا تھا کیا وقت تھا ڈالر کنٹرول رها اور پیٹرول کیی سال 52 روپے لیٹر بکا.

حبیب: اس ملک کو اخلاص والی قیادت دی.جن کو مراعات یافته طبقه کبھی آگے نه آنے دیتا تھا جن کو محکوم سمجھا جاتا ان میں سے هیرے چنے.بیرسٹر سیف ، دانیال عزیز ، ڈاکٹر عطاءالرحمن یه سب اچھے لوگ تھے اتنا اتنا عرصه وزارتیں رکهیں لیکن کویی کرپشن کا اسکینڈل نھیں.

ماموں: میڈیا کو آزادی اسی کے دور میں ملی.لیکن یار یه بیرسٹر تو اب ایم کیو ایم میں آگیا.

حبیب : قابل غور بات بیرسٹر کی پریس کانفرنس تھی که کسی نے چٹکلا چھوڑا که مشرف کو چھوڑ کے آرهے هیں تو بیرسٹر بولے فکر نه کریں مشرف کے کهنے په آرهے هیں.بات کو سمجھو ماموں.

ماموں: کراچی میں 92 سے جو حالت جنگ تھی وه بھی اس کے دور میں ختم هویی.نه ٹارگٹ کلنگ تھی نه پرچیاں وزیر بھی دبنگ هوتے تھے.
اور پهر ایم کیو ایم نے جو اس کے دور میں کام کیا وه کام تو پورے ملک میں پینسٹھ برس میں نه هو پایا.

حبیب: لیڈر اسی کو کهتے هیں لیکن چونکه قدر نه جانی تو دیکھو پهر کیسے کیسوں کو بھگتا اور آج تک بھگتنا پڑھ رها هے.

ماموں: چل یار تیری ممانی مسڈ کالیں مار رهی هے تو بھی نکل صبح آفس جانا هوگا.

حبیب : هاں چلیں دیر بھی بھت هوچکی هے باقی باتیں کل کریں گے.

ماموں: لاله پیسے کتنے هویے..
غضب
خدا کا چایے کا کپ 25روپے کا.ان
حکمرانوں سے الله سمجھے.

Image

بقلم: جے رضا زیدی

Twitter handle@junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s