نوسربازوں کا بازار

imagesCAFK9653
کسی بھی مملکت کو چلانے کیلیے داخله ، خارجه ، و معاشی پالیسیز بنا کرتی هیں.ترقی یافته ممالک هوں یا ترقی پذیر ممالک یه پالیسیز ملٹری طاقتیں و پارلیمانی فورسز مل کے بناتی هیں.کسی بھی ملک کی پالیسی ڈیزاین کرتے هویے اس ملک کے مفادات کا خیال رکها جاتا هے.

آجکل پاکستان میں سیاسی اسکورنگ کا مقابله چل رها هے.چند سیاسی جماعتیں نیٹو سپلایی و ڈرون میں سیاسی اسکور کرنے میں لگی هویی هیں.اور ایک تو شاید رنگ روڈ په خارجه پالیسی چینچ کرنا چاھ رهے هیں. تف هے ان لوگوں په جو آج تک اس  قوم سے سچ نھیں بولتے بلکه اس جذباتی قوم کے جذبات سے کھلوار کرتے هیں.

 71کے بحری بیڑے کے دھوکے کے بعد سے هم نے امریکه کو بیوقوف بنانا اپنا قومی فریضه تصور کرتے هیں. هم اس بگڑے هویے لاڈلے بیٹے کا سا کردار ادا کررهے هیں جو جھوٹ بول بول کے اپنی ماں سے پیسے اینٹھتا هے.کبھی بولتا هے فلاں فیس بھرنی هے کبھی بولتا هے فلانی مشین خراب هے یا کویی بھی خرچه اپنی ماں کے آگے رکهتا رهتا هے اور ماں گالیاں بھی دیتی هے اسے آنکهیں بھی دکهاتی هے لیکن پیسے پهر بھی دے هی دیتی هے.

ضیا الحق کے دور میں جماعت اسلامی نے یه رول پلے کیا پهر بی بی کے دور میں پهلے نوازشریف اور پهر فضل الرحمن نے یه رول پلے کیا. پهر کشمیری مجاھدین کے نام په کام هونا شروع هوا. مشرف دور میں متحده مجلس عمل و اب یه کردار تحریک انصاف ادا کررهی هے.

 1383415705446

تاریخ گواھ هے کس کس کی کس کس سے کیا انڈراسڈینڈنگز understandings تھیں.سب فکسڈ هے اگر یه گیم فکسڈ نه هوتا تو کے پی کے حکومت کیوں شامل نه هویی؟ عمران خان اپنے قول کے مطابق حکومت کیوں نه چھوڑ بیٹھے؟ یه اچھوتے خیال وزیر اعظم کے دورے کے وقت هی کیوں اٹھے؟

هونا تو یه چاهیے تھا که حقانی نیٹ ورک کے دھشت گردوں کے ھنگو میں پایے جانے په آپ وزارت داخله په برس پڑتے که یه دھشت گرد اتنا آزادانه ھنگو تک کیسے پهنچے. ناصر الدین حقانی اسلام آباد میں ماراگیا یه تو محکمه داخله کا فیلیر هے.لیکن ایسا کچھ نھیں هوا.بلکه هوا تو پشاور میں ایک رنگین کنسرٹ معاف کیجیے دھرنا هوا جو که ختم بھی هوگیا.ایک ٹوپی ڈرامه ایف.آیی.آر کی صورت میں بھی سامنے آیا که نامعلوم ڈرون کے نامعلوم ڈرایور driver کے نام ایف آر کٹ گیی.بقول ایک عزیز اوبامه بھی ھنس دیا هوگیا که کیا مخول کیا هے.

1385308378487     1385212483399

چلتے چلتے صدایے افسوس هے که عزت ماب محترم منور حسن صاحب ، عمران خان صاحب ، و دیگر سیاست دان جو ڈرون حملوں میں مرنے والے افغان دھشت گردوں کیلیے تو خوب بولتے هیں کبھی اپنی زبان شریفه کو کراچی میں شھید هونے والوں کیلیے بھی هلا جلا لیا کریں.نه جانے آپ لوگوں کا کراچی سے کیا بغض هے که کراچی کے مرنے والوں سے اظھار افسوس تک نھیں کرتے.پهر شکوه بھی کراچی سے؟ صحیح تو کها قاعد تحریک نے که عوام ایسی تمام قووتوں کا بایکاٹ کریں جنھوں نے انچولی دھماکوں په اظھار افسوس تک نه کیا.

بقلم: جنید رضا زیدی Twitter @junaid890

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s