پاکستان پیپلز پارٹی و مولانا ابولکلام آزاد

آج کل  مولانا ابولکلام آزاد په بھت کچھ لکها جارها هے. بھت سارے بلاگرز سمیت ڈاکٹر اے کیو خان و حامد میر نے بھی جنگ اخبار میں پچلے چند دنوں میں کالمز تحریر کیے هیں.هم نے کچھ پڑھنے کی کوشش کی اور کچھ لکها بھی تھا.وه سھی تھا یا غلط لیکن یه سچ هے که اس بلاگ کے بعدکھل کر تنقید ھوئی مزھ آیا آگهی کی نیی منازل کھلیں.اور سوچ کو وسعت ملی . چند گذارشات جو که شیءر کرنا چاهوں گا تاکه ادراک مکمل هوسکے.
(بلاگ لنک
http://junaidrazazaidi.tumblr.com/post/70286329368)
سابقه بلاگ کا لنک..

بابایے قوم محمد علی جناح کے مقابلے کا عوامی لیڈر ھندوستان کی تاریخ میں نھیں گذرا.یه ان کے عوامی هونے کا هی نتیجه تھا که ھندوستان کے مسلمانوں نے مولانا ابولکلام آزاد جیسے جید کی اقتدا چھوڑ دی.

میجر چوھان نے نوایے وقت میں اور حامد میر نے جنگ اخبار میں جو کالم لکهے هیں اس کے مطابق مولانا مسلمانوں کی جداگانه ریاست کے خلاف تو تھے لیکن ان کے پاس امت مسلمه کے حوالے سے کویی پروگرام نه تھا.اس کے علاوه ایک جگه اور مولانا په طنز تھا که مولانا مسلم ریاست کے خلاف تھے.

میں نے مولانا کے حوالے سے شورش کاشمیری کے اخبار چٹان کی تلاش کی تو کچھ مواد حیدر آباد سے شجاعت بھایی کے پاس سے حاصل هوا که جس سے یه ثابت هوا که مولانا جداگانه ریاست کے خلاف نه تھے اگر مولانا جداگانه ریاست مسلمه کے خلاف هوتے هوتے تو جنگ عظیم کے بعد تحریک هجرت کو سپورٹ نه کرتے بلکه تحریک هجرت کے لیے مولانا فرنگی و مولانا ابولکلام کے مشھور متنازعے فتاوے بھی موجود هیں.سلیمان ندوی کو لکها گیا خط بھی واضح ثبوت هے که الحلال کے مقاصد میں خطه ارض کا حصول بھی ایک ذریعه دکهتا هے.

جھاں تک میری رسایی هویی یا یوں کهیں که میری سمجھدانی نے کام کیا تو مولانا آزاد خود مختار ریاست کے خلاف نھیں تھے بلکه مولانا آزاد ریاست کے لیے ھجرت کے خلاف تھے.بات تو عجیب سی هے لیکن مولانا کا موقف اس سلسلے میں کچھ اس طرح تھا جناح تم ان کو جو دو گے یه اس سے زیاده یهاں چھوڑ کے جاییں گے. یه بھت ساری قوموں کا ملاپ هوگا.سب کا اپنا تشخص هوگا جو نوجوان اپنے تشخص کو دفنا رهے هیں وه دوباره نه پاییں گے.

یوپی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا:
“آپ مادر وطن چھوڑ کر جارہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسابھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کامذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ،قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اوروطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے”۔
ایک موقع په کها که آپ بنگال لے جانے کی بات کرتے هیں آپ چند سالوں میں اسے  بوجھ تصور کریں گے.آپ سے یه سنبھلنے کے نھیں.

اس کے برخلاف قاعد اعظم قاعد اعظم کا وژن بڑا تھا.قاعد اعظم قوم کی تعریف خطه ارض پر بسنے والوں کو گردانتے تھے. قاعد اعظم نے بمبی کی میمن تاجر برادری سے خطاب کرتے هویے کها تھا که جناح کو مملکت خداد کی معیشت چلانی هے میرے ساتھ چلیں وه وطن آپ کا اپنا وطن هوگا وهاں نسلوں کی بقاء هے آپ کی توقیر هماری اولین ترجیح هوگی

حیدر آباد دکن عثمانیه یونیورسٹی کے اساتذه کے وفد کو پاکستان کی دعوت دیتے هویے امت مسلمه کا واسطه دیا اور کها که میں آپ کو آپ کی گارنٹی دیتا هوں که آپ آزاد هوں گے که جھاں دل چاهے جاییں  چاهے مسجد میں جاییں جاییں گرجا یا مندر ایک آزاد اسلامی ریاست کی درسگاهیں آپ کو پکاررهی هیں.
اور پهر دنیا نے دیکها که کس طرح عثمانیه یونیورسٹی سے ھزاروں اساتذه اکرم و طلبه کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان هجرت کی.جو کراچی کے پرانے باشندے هیں وه حیدر آباد کالونی کے پرانے مکینوں کو جانتے هوں گے که وه یا ان کے اجداد کهاں سے آیے تھے.

جب تک قاعد اعظم و لیاقت علی خان حیات رهے معاملات مختلف تھے.پهر مخصوص فوجی و مخصوص طبقه طریقه حکمرانی سیکه کر اپنے مخصوص رنگ میں آگیا.اور یهی ارض پاک کی بدنصیبی تھی.ایوب خان نے ھندوستان سے آیے مسلمانوں کو سمندر کا رسته دکها یا تو انتھا ذوالفقار علی بھٹو کے نفرت انگیز رویے کا شکار په   قوم هویی.ذوالفقار علی بھٹو یا پیپلز پارٹی مولانا ابولکلام آزاد کی همنوا نکلی اور مشرقی پاکستان کو بوجھ سمجھ کے اتار دیا گیا.الیکشن هارنے کے باوجود انتقال اقتدار نه کرنا درحقیقت مھر تھی ابوالکلام کے اقوال په.
اسی طرح لینگیویج بل بھی مولانا ابولکلام آزاد کو سچا ثابت کرنے کی کوشش تھی.پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ مولانا کی تقاریر کی عملی تفسیر بنی.

اسی طرح پاکستان میں لسانیت کو
فروغ ملا اور زبان و گروهی اختلاف
همیشه پیپلز پارٹی کی کوکھ سے جنا گیا.کوٹه سسٹم ، احساس عدم تحفظ ، چوھا که کر پکارا جانا یه سب پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفے هیں جو وه هندوستان سے آیے مسلمانوں کو اور ان کی اولادوں کو وه دیتی رهی.اس طرح قاعد اعظم کو جھوٹا اور ابولکلام آزاد کو سچا ثابت کرنے کیلیے پیپلز پارٹی نے همیشه هر اول دستے کا کردار ادا کیاهے.

نجانے ١٦دسمبر کی تاریخ هم ١٨ جنوری کو دھرانے کا کیا عزم کیے بیٹھے هیں.که سندھ حکومت من مانا نظام مسلط کرنے کے درپے هے.هم نے آزاد سندھ کی آواز سنی ، گریٹر پنجاب کا نعره لگا.ایک دفعه ایم کیو ایم کے قاعد الطاف حسین نے ایک نیے پاکستان کے نقشے کا بھی ذکر کیا تھا، ٢٠١٤ کا سال بھی ذکر هواتھا.همیں یقین نھیں آیا تھا مجھے یاد هے جب دی گریٹ گیم کی بات هویی تو میرے جیسوں نے مذاق اڑایا تھا
لیکن آج جب ٢٠١٤ شروع هونے جارها هے لگتا هے بساط بچھ چکی هے. اور هر دفعه کی طرح پیپلز پارٹی هی مھره نننے جارهی هے.
Image
آج ٦٥برس گذر جانے کے بعد اگر مولانا ابولکلام آزاد په بات هورهی هے که اے کیو خان جیسے لوگ مولانا ابولکلام آزاد کے ویوز سراه رهے هیں اور هم ان کا حواله استعمال کررهے هیں تو یه من حیث القوم هماری ناکامی هے اور اس کی ذمه دار صرف پیپلز پارٹی هے.
لیکن ایک بات بڑی اھم رقم کرتے چلیں که اتنا کچھ هوگیا لیکن کهیل ابھی ختم هوا نھیں جیت بالآخر فلسفه محبت کی هوگی اور قاعد اعظم کی سوچ بالآخر فتحیاب هوگی.انشاءالله.

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “پاکستان پیپلز پارٹی و مولانا ابولکلام آزاد”

  1. جنید رضا صاحب آپ کی تحقیق واقعی اس قابل ہے کہ اسکی کھلے دل سے تعریف کی جائے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ اس ارض پاک پر جن کج فہم اور جہلا نے حکمرانی کی اور نقادوں کے نام پر جن بے ضمیر لوگوں نے اونچے قد والوں پر دشنام طرازی کی ہے آپ جئسے لوگ ایک جہاد کررہے ہیں ان کے خلاف۔ دعا ہے کہ کم از ہمارے طبقہ فکر کے لوگ اس کو ذیادہ سے زیادہ پڑھیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s