کام کرو جی کام

Image
کام کرو جی کام

 

دنیا پاگل ہے جی روٹی کی تلاش میں۔ اور انٹرنیٹ پر تو لوگ باؤلے ہورہے ہیں۔ کام کام کام مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کماؤں۔ ہر طرف بس یہی ہاہا کار ہے۔ میرے جیسے کنویں کے مینڈک بھی ہر طرف تاکتے جھانکتے پھرتے ہیں ترجمہ کروا لو، پروف ریڈنگ کروا لو، ڈیٹا اینٹری کروا لو، آرٹیکل لکھوا لو۔۔ کہ شاید کہیں سے کوئی آواز پڑے اوئے چھوٹے ادھر آ یہ بوٹ تو پالش کردے۔
سائیں انٹرنیٹ پر یہ چھوٹے موٹے کام بوٹ پالش کرنے جیسے ہی ہیں۔ فری لانسر ایسی قوم کا نام ہے جسے آپ عام زندگی میں دیہاڑی دار کے نام سے یاد کرتے ہیں، دیہاڑی دار یعنی رنگساز جو برش کو رنگ کے ڈبے پر رکھ کر سارا دن اڈے پر بیٹھا رہتا ہے اور دن ڈھلنے پر انتظار کر کر کے اور بارہ ٹہنی کھیل کر گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ راج مستری ہے جو اوزاروں والا تھیلا سارا دن سامنے رکھ کر انتظار کرتا ہے اور روزگار نہ ملنے پر سارا دن بیٹھ کر سر جھکائے گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ مزدور ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے اور اب صرف ہتھوڑی چلا کر اینٹوں کی روڑی بنا سکتا ہے لیکن لمبے دستے والی ہتھوڑی لیے سارا دن بس بیٹھا ہی رہ جاتا ہے اور اسے کوئی بھی نہیں پوچھتا۔ تو صاحبو ہم بھی فری لانسر ہیں۔ انٹرنیٹ کی گلیوں آواز لگاتے پھرتے ہیں ہے کوئی جو ترجمہ کرالے، ہے کوئی جو ڈیٹا انٹری کروا لے ہے کوئی جو پروف ریڈنگ کروا لے ، ہے کوئی جو آرٹیکل رائٹنگ ہی کروا لے، ہے کوئی جو۔۔۔۔۔۔۔۔ کام دے دے۔
ابا جی کہا کرتے ہیں “گھنڈ چُک لیا تے نچن توں ڈرنا کی”۔ تو کام کرنا تو شرم کیا۔ ہاں ہم مزدور ہیں اس میں کونسا کوئی شک ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، اور معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ صاحبو انٹرنیٹ پر میرے جیسے لاکھوں ہیں۔ انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ لاکھوں لوگ جو ایک وقت میں آنلائن ہوتے ہیں اور معمولی سے معمولی معاوضے پر بھی جھپٹ پڑتے ہیں۔ صاحب ہم یہ کام کرسکتے ہیں، صاحب کم سے کم ریٹ دیں گے، صاحب ہمارے پاس پوری ٹیم ہے، 24 گھنٹے کی سروس صاحب، بہترین کوالٹی صاحب۔ اور صاحب کی مرضی کہ وہ کس کو چنتا ہے۔ صاحب کیپچا کی تصاویر کی ڈیٹا انٹری کے لیے پونا ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل لکھنے کا ایک ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل ری رائٹ( ارے جناب اسی کو اپنے الفاظ میں لکھنے) کے ایک سے ڈیڑھ ڈالر دیتا ہے، صاحب ٹرانسکرپشن کرانے کے کم سے کم پیسے دیتا ہے۔ صاحب گورا ہے، صاحب امریکی ہے، صاحب یورپی ہے، صاحب کی ویب سائٹ ہے، صاحب چھان بورے سے آٹا بنوا کر پھر روٹیاں لگواتا ہے اور اپنی دوکان پر سجا لیتا ہے، صاحب اپنی سائٹ کی تشہیر کے لیے ای میل ایڈریس پر سپیم بھیجنے کے پیسے دیتا ہے، صاحب فیس بک اور ٹویٹر پر فین اور فالورز مانگتا ہے، صاحب سب کچھ کروا سکتا ہے، صاحب کے پاس پیسا ہے، وہ فحش کہانیاں بھی لکھوا سکتا ہے، فحش ویڈیوز بھی بنوا سکتا ہے اور ان میں اداکاری بھی کرواسکتا ہے۔ فری لانسر مزدور ہے، کرتا ہے، ہر کام کرتا ہے، پیسے کے لیے کرتا ہے۔ ای میل ایڈریس بیچتا ہے، کیپچا کی ہزار تصویریں دیکھ کر ٹائپ کرکے پونا ڈالر لیتا ہے، آرٹیکل ری رائٹ کرکے ایک ڈالر لیتا ہے، فورمز اور بلاگز پر سپیم پوسٹنگ کرکے پیسے لیتا ہے، سپیم میلز بھیجتا ہے، مزدور ہے نا، بھوکا ننگا ہے اور ڈالر آتے ہیں، کم آتے ہیں تو کیا ہوا آتے تو ہیں، یہاں تو وہ بھی نہیں ملتے، تو مزدور سب کچھ کرتا ہے، سب کچھ بیچتا ہے، عزت بھی بیچنی پڑے تو بیچتا ہے، کیا ہے انٹرنیٹ پر کسی کو کیا پتا چلے گا اگر کسی فحش فلم کے لیے اپنی آواز دے بھی دی تو؟
صاحبو بھوک بڑی ظالم ہے۔ رب بھی بھلا دیتی ہے، جو پالنہار ہے۔ بھلا دیتی ہے سائیں سب کچھ بھلا دیتی ہے، بڑی ظالم ہے یہ بھوک ۔ جب آنکھوں میں ڈالروں کے سپنے اتر آئیں تو پھر حلال حرام کس کو دکھتا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ بس کھانے کو مل جائے، ارے کھانے کو تو ملے، جہاں بھوک برستی ہو وہاں کون دیکھتا ہے کہ آرٹیکل کو ری رائٹ کرکے وہ کسی کی امانت چوری کررہا ہے، وہاں کون دیکھتا ہے کہ “آنلائن جابز: ایڈسینس، ڈیٹا اینٹری، فارم فلنگ جابز” تو یہ دیکھے سوچے بغیر کہ حلال ہے کہ حرام بس چھ ہزار، دس ہزار کی انٹری فیس جمع کرا کے دھڑا دھڑ ڈالر بنانے میں لگ جاتا ہے۔ جیوے ڈالر، اعداد و شمار کا کھیل، جب تک ڈالر سائیں ہے تب تک موج ہے، ڈالر سائیں نہ ہوگا تو دیکھا جائے گا۔ سائیں یہ سب کچھ اعداد کا ہی تو کھیل ہے۔ اتنے کلک ہوگئے تو اتنے عدد ملیں گے۔ اب وہ کلک کسی نے کیسے بھی کیے ہوں، چار دوست مل کر اپنی ہی ویب سائٹ پر روزانہ ایک ایک کلک کرلیا کریں تو کون دیکھتا ہے جی، پر رب تو دیکھتا ہے نا۔ پر کون دیکھے اس دیکھنے کو، یہاں تو پوری پوری کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کام کے لیے، آنلائن جاب کرو جی، ڈالر کماؤ جی، دس ہزار سے تیس ہزار کماؤ جی۔ لوگ کماتے ہیں جی۔ ابھی پچھلے ماہ میرا دوست میرے پاس آیا شاکر پاء جی گھر میں آٹا لانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انجینئیر ہے وہ، ٹیکسٹائل انجینئیر۔ ابا جی کو گولڈن ہینڈ شیک ملا تھا نیشنل بینک سے تو انھوں نے ملنے والی رقم اس کی تعلیم پر لگا دی اب اسے نوکری بھی نہیں ملتی۔ کہنے لگا پاء جی اس میں حقیقت ہے کہ نہیں؟ میں بہن کا زیور رکھوا کر اس کی فیس دوں گا اور یہ کام کرنا ہے۔ میں نے کہا بھائی مجھ سے پیسے لے لو، زیور نہ رکھواؤ وہ مکر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اسے چھ ہزار دیا اور اس نے چھ ماہ کی ممبر شپ لی۔ پتا نہیں اب کام کررہا ہے کہ نہیں۔ مجھے کوئی امید نہیں میری رقم واپس ہوجائے گی، پر بھوک بڑی ظالم ہے سائیں۔ اور زندگی بڑی اوکھی ہے۔ اس کا احساس آج بڑی شدت سے ہورہا ہے۔
ابا جی رکشہ چلاتے ہیں، چنگ چی رکشہ جسے لوڈر رکشہ کہتے ہیں۔ آٹھ بازاروں میں ایک جوتوں کی مارکیٹ میں ہوتے ہیں، سیزن ہو، جیسے آج کل سکول کھل رہے ہیں پھر سے، تو اچھا کام مل جاتا ہے لوڈنگ کا۔ سیزن نہ ہو، جیسے اگلے ایک آدھ ماہ میں ہوجائے گا، تو سارا سارا دن وہاں کھڑے رہنا پڑتا ہے کوئی کام نہیں ملتا۔ پھر وہ گھر آکر فرسٹریشن نکالتے ہیں، آج سارا دن کوئی کام نہیں ملا، پریشانی، کیا بنے گا ہمارا۔ تو ہم انھیں تسلی دیتے ہیں کہ ایسے بھی ہوتا ہے، انسانوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہوجائے گا ٹھیک۔ آج یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میری جوتوں کی مارکیٹ انٹرنیٹ ہے جہاں میں اپنی ہتھ ریڑھی لیے بیٹھا رہتا ہوں، آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہوں، شاید کوئی کام مل جائے، شاید کوئی پرانا گاہک ہی بلا لے، شاید کہیں سے پھنسی ہوئی رقم آجائے، شاید۔۔۔۔۔۔۔ زندگی شاید پر چلتی ہے، فری لانسنگ ویب سائٹس کو کھنگالتے ہوئے، نئے نئے کام تلاشتے ہوئے، شاید یہ بھی میں کرسکوں، ہاں ٹرانسکرپشن کرسکوں گا، چلو ٹرائی کرتے ہیں، ری رائٹنگ مشکل تو نہیں چلو ٹرائی کرتے ہیں، کیوں نا کیپچا ڈیٹا اینٹری کا ہی کرلیا جائے پونا ڈالر تو مل ہی جاتا ہے ایک گھنٹے کا، اور اگر کبھی ترجمے کی کوئی جاب نکل آئے تو وہاں اپنا ریزیومے بھیجنا، جہاں سے اکثر جواب ہی نہیں آتا۔
زندگی بڑی مشکل لگتی ہے، ایک ایسے فیز میں جب آپ زیر تعمیر ہوں۔ میرے جیسا جو جاب بھی چاہتا ہے اور جس کے پاس کوئی قابل ذکر ہنر بھی نہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ؟ نہیں جی۔، ویب ڈویلپمنٹ؟ نہیں جی ورڈ پریس تھوڑا سا جانتا ہوں جی لیکن ویب ڈویلپمنٹ نہیں جی، پروگرامنگ؟ سی شارپ تھوڑی سی آتی ہے جی پر کبھی پروفیشنل ٹیسٹ یا کام نہیں کیا جی بس ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتا ہوں جی کارپس لنگوئسٹکس کے لیے سوری جی،۔ تو پھر پیچھے یہی رہ جاتا ہے کہ ترجمہ کرلیا جائے، تو ترجمہ کرتا ہوں لیکن یہ کام کم کم ملتا ہے بہت سارے لوگ ہیں اس میں بلکہ بڑے پروفیشنل لوگ ہیں، میرے جیسے کئی دھکے کھاتے پھرتے ہیں “پروفیشنل ٹرانسلیٹر” کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں، ترجمہ نہ ملے تو پھر کیا کریں؟ لسانیات کے حوالے سے کبھی کوئی جاب نکل آتی ہے اردو یا پنجابی کا کورس ڈویلپ کرنا یا ایسا کوئی کام۔۔۔ایک آدھ ملا بھی لیکن کبھی چھوٹ بھی جاتا ہے۔ پنجابی کی بات کرو تو گورمکھی کی بات ہوتی ہے، سکھوں والی پنجابی، اردو کی بات ہی کم ہوتی ہے ہندی کی بات ہوتی ہے زیادہ یعنی پھر ادھورا پن۔ لے دے کر پھر رائٹنگ، ری رائٹنگ، ڈیٹا انٹری، کیپچا ڈیٹا اینٹری، ورچوئل اسسٹنٹ، یہ رہ جاتی ہیں لیکن ان کے لیے درکار وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے جیسا پارٹ ٹائمر نہیں کرسکتا۔ سو چپ رہ جاتا ہے لیکن منصوبے بنانے سے نہیں ٹلتا چل یار اپنا بلاگ شروع کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھا کریں گے، گوگل ایڈسینس لگائیں گے اور کمائیں گے، لیکن دل نہیں مانتا، یا لکھا نہیں جاتا، انگریزی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں، پر لکھا نہیں جاتا۔ نہ ادھر ہوا جاتا ہے نہ ادھر۔ اسی دُبدھا میں زندگی گزرتی جاتی ہے۔ عجیب زندگی ہے ۔

قيس و فرہاد ، وامق و مومن
مرگئےسب ہی کياوباہےعشق

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s