سندھ لوکل باڈیز ایکٹ 2013

سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے حلقہ بندیوں سے متعلق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں کی جانے والی ترمیم کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
کراچی میں پیر کو جسٹس سجاد علی شاہ نے عدالت کے دو رکنی ڈویژنل بینچ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
اسی بارے میں
فیصلے میں مقامی حُکومتوں کے ترمیمی بل 2013 کی تیسری ترمیم کو سندھ لوکل باڈیز ایکٹ 2013
سے متصادم قرار دیتے ہوئے اُسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کی رو سے یونین کونسلوں کی جگہ یونین کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔

فیصلے میں رواں برس 13 اور 21 نومبر کو جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیے گئے ہیں جو حیدرآباد، میر پور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے تناظر میں جاری کیے گئے تھے۔

عدالت نے یہ تجویز بھی دی ہے اگر نئی حلقہ بندیوں کے لیے سپریم کورٹ سے سندھ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی اجازت مل جاتی ہے تو صوبائی حکومت ایک آزاد کمیشن بنائے جو تمام تر قوانین اور ضابطۂ کار کے مطابق حلقہ بندیوں کے معاملے کو دیکھے اور ایک آزاد فورم فراہم کرے جہاں حلقہ بندیوں سے متعلق اپیلوں کی سماعت ہو سکے۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s