تحفظ قانون پاکستان

تحفظ قانون پاکستان

تحریر: جنید رضا

missing

آج آمنہ مسعود جنجوعہ یاد آگئیں کہ کہا کرتی تهیں چیف جسٹس آزاد ہوجائیں بحال ہوجائیں تو مسعود آجائیں گے.کچه بهی تها اچها یا برا ایک بهرم تها ایک عام آدمی کا مان تها افتخار چوهدری. نتایج کیا رہے ایک الگ بحث ہے. لیکن بے شک مسنگ پرسنز کے حوالے سے بهت کام کیا ہے- آپ نے ان مقتدر ایجنسیز سے بهی جواب طلب کیا جو کهبی جوابدہ نہ رہے تهے-

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ریٹائرڈ ہونے کی دیر تھی اور خود کو هسپتال میں دل کے درد کے بہانے میں داخل کرانے والے ایف سی کے  ڈی جی (جن  کا خوف سابق سی جے پی کے سامنے دیدنی رہا تها) بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے آکهڑے  ہوئے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل آئین و قانون کی حدود میں نہیں ماورائے ائین و قانون ریاستی رٹ میں ہے۔عزت مآب ایف سی کے سربراہ کے اس بیان کے چوبیس گھنٹوں بعد ایوان صدر سے ریاستی و سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی گمشدگيوں کے تحفظ کا آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔ پاکستان کے شہریوں کو قانون و ریاست کے رکھوالوں کے ہاتھوں ڈاکوئوں کی طرح اغوا اور اغواکاروں کے تحفظ کو بدقسمتی سے پاکستان کے تحفظ کا نام دے  دیا گیا.یہ قاعد اعظم کے افکار کا مذاق ہی تو ہے کہ آپ نے کہا تها کہ ’’پاکستان کے اندر کسی بھی شخص کو عدالت قانون سے رجوع کئے بغیر ایک سیکنڈ کیلئے بھی نظربند یا قید نہیں رکھا جا سکتا‘‘

لیکن بفضل مہر ممنون حسین تحفظ پاکستان کے نام پر کسی بھی شخص کو ریاستی و سیکورٹی ادارے تین ماہ تک کسی بھی عدالت سے رجوع کئے بغیر قید رکھ سکتے ہیں اور اٹھائے جانے والے شخص کی قید کی جگہ خفیہ ہو گی۔ جیسے اب تک ہزاروں گمشدہ لوگوں کی برسوں سے گمشدگیوں کے مقامات اور گم کردہ ادارے معلوم ہوتے ہوئے بھی نامعلوم بتائےجاتے ہیں۔تحفظ پاکستان آرڈیننس ایسے بدنام زمانہ قوانین کا تسلسل ہے جب پاکستان ڈیفنس رولز یا ڈی پی ار ذوالفقار علی بھٹو جیسوں نے مخالفین کو زچ کرنے کیلیے نافذ کیا.ضیاء نے اسے اور سخت بناتے ہوئے دیگر پابندیاں بهی عائد کیں.بقول جالب

تم سے پہلے جو یہاں ایک شخص تخت نشیں تھا

اس کو بھی خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
( جالب).

سمجه نهیں آتا کہ یہ کون سے حاکم ہیں اور کیسے حکمران یا کہیں کے اغواء کار کہ پچهلے سات ماه میں لاتعداد مسنگ پرسن کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود  کوئی سنوائی نهیں بلکہ ایک سیاه قانون ملک پہ مسلط کیا جارہا ہے.اب اگر آج ہمیں آصف علی زرداری کی کمی محسوس نہ ہو تو کم ظرفی ہوگی.کہ پورے ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ بنایا اور کچه آزادی کی سی کیفیت بهی محسوس ہوتی تهی پاکستان میں. بلوچستان کے ماما قدیر کا بیٹا ہو یا کراچی کا انور انصاری ہو یا مسعود جنجوعہ دکه سب کا برابر ہے اور سب لاپتا افراد ایسے ہی سیاه قوانین کے ستاbalئے ہیں.


آج بلوچ قوم پرستوں کے یا دهشت گردی کے نام  پہ لاتعداد نفوس نامعلوم مقام نامعلوم لوگوں کے پاس جمع ہیں.یہ نامعلوم ہی مدعی ہیں یہ نامعلوم ہی منصف.
اهل اقتدار طبقہ اس بات کو سمجهنے سے قاصر نظر آتا ہے کہ اس قوم کی بنیادی ضرورت مختلف بهیک کے پیکجز نهیں، آسان قرضے نهیں ، لیب ٹاپس نهیں -آپ ہماری ثقافتوں کو نهیں خدارا ہمیں بچائیں.کیونکہ ان قوانین کے بعد تو سیاسی کارکنان کے آثار تک نہ ملنے کے.خدا کیلیے کم از کم مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سلسلسے میں اپنا کردار ادا کریں.یہ مسلہ سیاسی نهیں انسانی ہے.آج محترم تصدق حسین جیلانی کا بهی امتحان ہے کہ کیا آج کی عدلیہ پاکستانی عوام کے ساته کهڑی ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے

.PPO-2014 to be tabled in National Assembly todayhttp://abbtakk.tv/eng/ppo-2014-to-be-tabled-in-national-assembly-today-270114

missing Mqm

Advertisements

کیا دور ضیاء پلٹ کے آیا ہے؟‎

بالآخر ہمارے مملکت خداد پاکستان کے وزیر اعظم محترم نواز شریف کے دهشت گردی کی اس جنگ کو مذاکرات سے حل کرنے کی ٹهان لی ہے. وزیر اعظم نے اس عمل کے لیے چار معاونین مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے.اپنے قومی اسمبلی اتفاقیہ آمد کے موقع پہ وزیر اعظم نے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑهانے کی بات کی  اور اس کیلیے چار افراد کو معاونین کے طور پہ مقرر کیا گیا ہے. کمیٹی میں عرفان صدیقی، میجر ریٹائرڈ محمد عامر، رحیم اللہ یوسف زئی او افغنستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم مہمند شامل ہوں گے، چوہدری نثار روز مرہ معاملات پر کمیٹی کی معاونت کریں گےImage

اس خبر کے ساته ہی سیاسی میدان میں بے چینی کی فضاء نے جنم لیا اور مختلف رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آئے.لیکن سوال یہ ہے کہ یہ بے چینی و احساس عدم تحفظ کیوں؟ اس کیلیے تو ذہنی طور پہ تیار رہنا تها.ہم بهول جاتے ہیں کہ جن تین سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمپین کی اجازت ملی تهی ان میں مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف و جماعت اسلامی شامل تهے.ان تین میں دو سیاسی جماعتیں تو طالبانی ماینڈ سیٹ کیلیے مشهور تهیں لیکن حیرت انگیز اضافہ تحریک انصاف تهی.بحرحال لیکن یہ تین سیاسی جماعتیں طالبانی قوتوں سے القاعدہ سے یقینا کچه زبان بهی کر کے آئے ہوں گے کچه وعدے وعید بهی ہوئے ہوں گے.ڈیل کے تو یہ سب پرانے استاد ہیں.تو آج اس صورتحال پہ یہ اچهمبا کیوں یہ حیرانی کیوں؟

اس میں کوئی شک نهیں کہ جو لوگ آج مذاکرات کی بات کررہے ہیں.یہ لوگ اور موجودہ تحریک طالبان یا موجودہ القاعدہ یہ سب ایک ہی آنگن میں ہمیشہ کهیلتے رہے ہیں.وہ آنگن امریکی ہو یا سعودی یہ سب ساته ہی کهیل کود کے پروان چڑهے.ساجهے کی ہنڈیا پکتی رہی اور جب جب چهوراہے پہ پهوٹتی رہی باتیں کهلتی گئیں.اور بیت اللہ محسود کی موت کے بعد سے تحریک طالبان کی عملی قیادت بهی القاعدہ کے پاس جاچکی تهی سو اب تو جو نہ ہو وہ کم ہے.بات مختصر ہے لیکن سچ ہے دور ضیاء پلٹ کر آیا ہے.چند لنکس شیئر کررہے ہیں بات سمجه آہی جائے گی.

Osama offered to buy votes for Nawaz: Qazi – DAWN.COMhttp://www.dawn.com/news/183849/osama-offered-to-buy-votes-for-nawaz-qazi

میجر عامر کی واپسی.
Dawn News on Operation Midnight Jackal (2009) – https://www.dailymotion.com/embed/video/x108e99

منور حسن غائب دماغ‎

Image

لکهنے کا کوئی ارادہ تو نہ تها لیکن امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن صاحب کا بیان نظر آتا رہا.عادت کے برخلاف برداشت بهی کیا لیکن جب نہ رہا گیا تو سوچا جو کچه یاد آرہا ہے وہ مختصرا منور حسن صاحب اور ان اهل دانش حضرات کو بهی یاد دلادیا جائے.

 

سب سے پہلے تو میرا بغیر کسی فیس کے جماعت اسلامی کی شوری کو مشورہ ہے کہ امیر جماعت اسلامی منور حسن کو رخصت کیا جائے اور کوئی ذی شعور جس کی یادداشت برابر کام کرتی ہو اسے امارت کا منصب نوازا جائے.منور حسن صاحب کا عجیب و غریب بیان کہ جس میں اسامہ بن لادن کو شاید وہ ہیرو قسم کی کوئی چیز ثابت کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو خراج عقیدت تو پیش کرگئے لیکن اس بلاوجہ کے بولنے میں آپ جماعت اسلامی کا شایع ہوا وا پرنٹنٹنگ اور آن لائن میٹیریل بهی بهول گئے کہ جس میں نائین الیون کے واقعات کو اور اسامہ بن لادن کی قبول داری کو جماعت اسلامی پوری دہائی امریکی سازش قرار دیتی رہی.جماعت اسلامی کی آفیشل ویب سایڈ کے مطابق اسامہ بن لادن کا فعل امت مسلمہ کیلیے ایک سازش کی حیثیت رکہتا ہے.مرحوم قاضی حسین کی سب باتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن محترم منور حسن کو بهی اسامہ بن لادن کے متعلق قاضی حسین احمد کے الفاظ یاد ہونے چاہیں کہ ‘ اسامہ بن لادن مغرب کی اس سازش کا حصہ بنا جس کے تحت قرآن کتاب اللہ کو فساد کی کتاب قرار دیا گیا اور مسلمانوں پہ ایک بلاوجہ کی جنگ مسلط کی گئی.دنیا مغرب کے مظالم دیکہ رہی تهی لیکن اس واقعے نے سب بدل کے رکه دیا.’ قاضی حسین احمد کا یہ موقف بحیثیت امیر جماعت اسلامی سامنے آیا جو ابهی تک جماعت اسلامی کی ویب پہ موجود ہے.
جماعت اسلامی اردو ویب سائٹ – http://urdu.jamaat.org/site/article_detail/212

                    http://goo.gl/eaaXf5

روایت ہے کہ ’سیاست کے خیمے میں مذہب کا اونٹ داخل ہوتا ہے تو انسانیت منہ لپیٹ کر باہر نکل آتی ہے‘۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب اور سیاست کے امتزاج کا بہترین نمونہ جماعت اسلامی ہے۔  یہ صرف گندی سیاست ہی تو ہے کہ اسامہ جیسے آدمی کو آج منور حسن هیرو بنارہے ہیں جو آج مسلم امہ کی تباهی کا ذمہ دار ہے.لیکن فی الحال موصوف کو جماعت اسلامی کے منشور سے غداری کا مرکتب تصور کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی شوری منور حسن کے بیان کی وضاحت کرے اور ان کی بنیادی رکنیت خارج کرے

 

جماعت اسلامی یا قومی ناسور.

یہ بلاگ چار دسمبر کو لکہا گیا تها.3دسمبر الطاف حسین کی تقریر آج بهت ساری باتوں کو سمجهنے میں معاون ہے.

Junaid Raza کراچوی

Image

.جب تک کسی بھی شخص یا قوم کو اپنی غلطی یا کوتاهی کا احساس نھیں هوگا وه بھتری کی جانب نھیں بڑھےگا

.ادراک کسی بھی پهلو سے هو همیشه نتایج مثبت هونے چاهیں.

ادراک وتدارک کی منازل جب طے هوتی هیں تو اقوام عروج بام پاتی هیں

آج کافی دنوں کے بعد ایم کیو ایم کے مرکز 90 جا پهنچے.اس مھنگایی کے پر فتن دور میں جب کسی کے پاس بھی وقت نھیں ایسے میں هزاروں کارکنان دیوانه وار راسطے میں هی

جیے الطاف کے نعرے لگاتے نظر آگیے. لال قلعه پهنچتے هی کچھ ھی دیر میں اعلان هوا اور الطاف حسین بھایی کا ٹیلیفونک خطاب شروع هوا.

الطاف بھایی کا خطاب تلاوت کلام پاک و درود تنجینا سے شروع هوا.آغاز خطاب میں هی الطاف بھایی کا لحجه بھت دبنگ تھا جو که آخر تک سلامت رها.ایک جامع خطاب تھا که جس میں عسکری قیادت ، قانون نافذ کرنے والے…

View original post 769 more words

یہ خطرہ جان بهی ہیں تو خطرہ ایمان بهی

کل سے خون کهولا ہوا ہے جس کسی سے بات ہورہی ہے اس کا دل بهی صدمے سے دوچار ہے.چند دوست کچه ایسی رائے بهی رکهتے ہیں کہ یار افواج پاکستان کی طرف سے بمباری ہو یا کسی دهشت گرد حملے کی هلاکتیں.مر تو مسلمان ہی رہا ہے.یہ مرے یا وہ نقصان تو مسلمان کا ہے.

خون کهول گیا ان کے منہ سے یہ جملے سن کر جو ذی شعور لوگ ہیں کہ اگر بالفرض محال ہم دو منٹ کو کسی کو مسلمان تصور کرلیں تو کیا اگر قاتل مسلمان ہو اور مقتول بهی مسلمان تو کیا قاتل کو سزا نہ ہوگی اور کیا مسلمانوں کو قتال کا فساد کا معصوم عوام کو ماردینے کا حق ہے.اللہ نے کونسے پارے کی کونسی آیت میں اس قتال کا حکم دیا ہے جو اس وقت انتہا پسندوں کی طرف سے جاری ہے.ہماری یہ سوچ کہ مرنے والا مسلمان ہے سراسر غلط ہے کہ مفسرین و محدثین نے اسٹیٹ کے باغی سے جنگ کا حکم ثابت کیا ہے.ریاست کے باغی سے بالخصوص خوارجی باغی کو دیکہ کر اس کا سر کچلنے کا حکم ہے اور جنگ کے نتیجے هاته آئے باغیوں کیلیے سخت سزائیں ہیں.
دین اسلام کے پانچ مسالک حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور فقہ جعفریہ کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کر کے مسلح جدوجہد کرنا غیر اسلامی عمہے۔ل  تمام فقہی مذاہب کے مطابق ایسا عمل بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ باغیوں کو کچلنادینی حکم کے عین مطابق ہے ۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہوکر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے۔ ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرناغیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدیدنفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ اسلامی ریاست کے حکمران اگرصریحاً کفر پر اتر آئیں اور ان کے حق میں کوئی تاویل بھی نہ بچے تو پھر ان کے خلاف جہاد فرض ہو جاتا ہے.لیکن اس کے لیے بهی امت کا اجماع شرط قرار دیا گیا. اس سلسلے میں دور حاضر کے اکابرین امت کے مختلف فتاوے گوگل کرکے بهی حاصل کئے جاسکتے ہیں لیکن اس حوالے سے هم نے الفتاوی راضیہ کا مطالعہ کیا جس میں حضرت حنبل ، ابو حنیفہ و حضرت عبد الحق محدث دہلوی کے فتاوے موجود ہیں.
ہم نے پہلے بهی رقم کیا تها پهر کریں گے کہ رسول خدا نے فرمایا ‘ تم میں جو ان جو انہیں پائے وہ ان سے جنگ کرے ، جنگ کرے ، جنگ کرے. صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ کن سے کہا خوارجیوں سے.صحابہ نے خوارجیوں کی نشانیاں پوچهیں تو آقائے دو جهاں نے فرمایا وہ عورتوں کا بچوں کا قتال کریں گے وہ تم میں سے ہوں گے ان کے شر سے مساجد بهی محفوظ نہ رہیں گی اور وہ قرآن کی ان آیات کا اطلاق مسلمانوں پہ کریں گے جو کفار کیلیے اتری ہوں. <ترمذی ، نسائی ، و جلالین جلد دوئم> <خوارجیوں کے حوالے سے اک مکمل باب موجود ہے جس پہ یہ صد فیصد پورے اترتے ہیں>Image.

اب یہ تو واضح ہوگیا کہ ان سے جنگ ہے اور یہ جنگ اب ہماری جنگ ہے.کیونکہ یہ جنگ تو ہماری جنگ تهی ہی نهیں.یہ تو امریکہ افغان جنگ تهی جو کہ 99 میں شروع ہوئی.پاکستان امریکہ کا اتحادی تها تو دنیا کے تمام ہی ممالک اس کے اتحادی تهے ایک پاکستان ہی اتحادی نہ تها.لاجسٹک سپورٹ سب اپنی اپنی کیپسٹی میں دے رہے تهے. پاکستان نے بهی دی. لیکن اس دهشت گردی کی جنگ کو جهاد تو صرف میرے پاکستانی ملا مافیا نے قرار دیا. کیا ہمارے دیس کے یہ نام نهاد موٹی گردن والے مولوی امام کعبہ سے زیادہ بڑے جهادی ہوگئے یا ان کو عربوں سے زیادہ عربی کی سمجه آگئی کہ جس کو سعودی مفتیان ، جامعہ الاظهر کے مفتیان فساد قرار دیں لیکن ہمارے لال پیلے نیلے مدرسے جهاد قرار دیں.

چلیں یہ نیلے پیلے بهی برداشت تهے لیکن آجکل یہ سلیو لیس شریعت کے نفاذ میں مشغول خیبر پختون خواه کی حکمران جماعت کی سیکریٹری اطلاعات بهی صلح حدیبیہ پہ بات کرتی نظر آئیں.حیرت ہے لیکن مثال دینے والے بهول جاتے ہیں اگر سهیل بن عمرو سے مذاکرات ہوئے تهے تو صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی پہ رسول مقبول نے کیا کیا تها؟ مذاکرات کیے تهے یا جنگ کی تهی اور جنگ بهی ایسی کی کہ مکہ فتح کیا.اور صلح حدیبیہ سے پہلے ہی غزوہ بدر و غزوہ احزاب (خندق) ہوچکی تهیں مسلمانوں نے مذاکرات و صلح کی تهی تو برابری کی بنیادوں پہ اور جب وعدے کی صلح کی خلاف ورزی ہوئی تو مکہ کی طرف چڑهائی ہوئی.اور شاید محترمہ سارے امن معاہدے بهول گئیں جو صوفی محمد و پاکستانی قیادت کے بیچ ہوئے تهے.خدا ہم کو اپنے معاشرے میں سلیو لیس اور بے داڑهی طالبانائزیشن سے بچائے یہ خطرہ جان بهی ہیں تو خطرہ ایمان بهی
قدم بڑهاو نوازشریف ہم تمهارےساته ہیں
.

سب دهندہ ہے پر گندہ ہے یہ

بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جهاں ختم کی تهی لیکن اب باتیں بے ترتیب سی ہیں تو کوشش ہوگی کہ مختصرا ہواور تمام پہلوؤں پہ بات ہوجائے.پچهلے بلاگ کا لنک بهی یاد دہانی کیلیے پیسٹ کئے دیا ہے.
http://goo.gl/X1IhBW

سوال یہ ہے آخر طالبان کن علاقوں پہ کنٹرول چاہتے ہیں اور ان کے اس کنٹرول کی وجہ کیا ہے. طالبانی کمانڈر شاهد اللہ شاهد کی گفتگو بهی سامنے رکهی جائے اور پاکستان کے موجودہ حالات، تو سمجه آتا ہے کہ فاٹا افغان بارڈر سے ایبٹ آباد تک ، بلوچستان کے پشین بارڈر سے چمن و ژوب تک کا علاقہ طالبان کسی صورت چهوڑنے پہ تیار نهیں اور کم و بیش کنٹرول بهی رکهتے ہی ہیں اور اب ان کی نظریں  کراچی پہ لگی ہیں. پچهلے سات سال سے کراچی بلاشبہ ایک عجیب سی کشمش ہے جو شهر قاعد میں جاری ہے.
اس کشمکش کے نتائج پہ بهی بات ہوگی لیکن پہلے بات کہ جن علاقوں کا ذکر کیا گیا.ان علاقوں میں و کراچی اور بلخصو ص بلوچستان کی اس بیلٹ کی ہی جنگ کیوں اول لڑی جارہی ہے؟ تو اس کی وجہ ہے پیسہ کیونکہ اگر ہم دیکہیں کہ طالبان کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ تحریک طالبان چلانی بهی تو ہے تو ان کا بنیادی ذریعہ معاش منشیات اور بهتہ خوری ہے. یہ مخصوص قبائلی زمین اور پشین بارڈر یہ دونوں افغان بارڈرز ہیں اور اس زمین کے دونوں طرف جو فصل یا پودا کاشت کیا جاتا ہے وہ ہے پوست کا پودا  جسے ہشیش کی بوٹی یعنی افیون کی فصل بهی کہا جاتا ہے.اور یہ دنیا میں نہ صرف ناپید ہے بلکہ دنیا میں اصل ہشیش وائٹ گولڈ سے بهی مهنگی خیال کی جاتی ہے.پوست کہیں ، ہشیش کہ دیں یا کوکین یہ دنیا میں مختلف صورتوں میں دستیاب ہے اور یر جگہ ایک ہی سی قیمت رکهتی ہے.

دنیا میں پیدا ہونے والی هیروئن/کوکین افیون کے پودے سے پیدا ہوتی ہے.دنیا میں پیدا ہونے والی هیروئن کا نوے90% افغانستان کے صوبے هلمند اور فاٹا سے ملحقہ علاقوں میں پیدا ہوتی ہے.اسے دنیا بهر میں براستہ پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے.بی بی سی کی ایک رپورٹ کیمطابق کوئی ایک ہزار ملین ڈالرز کی سالانہ آمدنی تو صرف ہیروئن کی پیداوار سے طالبان پیدا کرتے ہیں.

2001 میں نیٹو کی افغانستان پر یلغار کے بعد افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے.یٹو افواج کی کوششوں کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت دو لاکھ ہیکٹرتک پھیل چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلی بار افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر ہیروئن کی کاشت کی جا رہی ہے۔منیشات کی آمدن سے افغانستان میں مزاحمت کی تحریکوں کو فنڈ کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کو سالانہ منشیات کی پیدوار اور فروخت سے کئی سو ملین ڈالر وصول ہوتے ہیں۔

7B5607FA-D56C-4DA0-8948-875D75268791_w640_r1_s0,,4306438_4,00

  ہیروئن کی پیداوار افغانستان میں ہوتی ہے اور اس کی تقریبا پچاس فیصد سمگلنگ پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔ منشیات کنیٹنرز اور ٹرکوں میں چھپا کر کراچی تک لائی جاتی ہے اور یہاں کی بندر گاہ کو استعمال کرتے ہوئے دیگر ملکوں تک بھیجی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ چند برسوں میں کراچی کی بندر گاہ ہیروئن کی درآمد اور برآمد دونوں ہی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان ہیروئن دیگر ایشیائی اور یورپی ممالک کے لیے برآمد کی جاتی ہے جبکہ جنوبی امریکہ کو کوکین درآمد کی جاتی ہے۔

هیروئن کی منڈی هلمند سے شروع ہوتی ہے اور جنوبی امریکہ تک جاتی ہے.جب کراچی در آمد برآمد کیلیے استعمال ہورہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کراچی منڈی نہ بنے.منشیات بالخصوص ہیروئن کیلیے کراچی بهترین منڈی ہے .کراچی میں پیسہ بهی ہے اور قدرت کی طرف سے محل وقوع بهی خوب ہے سو کراچی میں یہ جنگ بهت زیادہ جاری ہے.کراچی کی منڈی میں کراچی کے مخصوص ڈکیت گروپ ان کے سیلز مین بنے.آج کل ان کو حرف عام میں گینگ وار کہا جاتا ہے.مارکیٹنگ کی زبان میں اس پروڈکٹ کی لانچنگ گینگ وار کے حصے میں آئی.اور شهر کراچی کا سب سے زیادہ جمهوری سوچ رکهنے والا علاقہ لیاری منشیات کا گودام گیا ہے اور شهر میں گینگ وار والے منشیات کے هول سیلر کا روپ دهار چکے ہیں.

اندازہ ہے کہ موضوع بهی خشک ہے اور طوالات بهی ہے لیکن معاملات کو سمجهنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی کاشت کے علاقے اور اس کی ترسیل کی راه گذر پہ اپنا مکمل کنٹرول چاہتے ہیں.اب ظاہر ہے سینکڑوں ملین ڈالرز کی بات ہے تو جن سے معاملات طے ہوجاتے ہیں ان کو حصہ ملتا ہے اور جن سے معاملات طے نهیں ہوپاتے ان کو خمیازہ بهگتنا پڑتا ہے.جو حصہ دیتے ہیں وہ گڈ طالبان بن جاتے ہیں جو حصہ نهیں دیتے وہ بیڈ طالبان بن جاتے ہیں.

نیٹو افواج اپنا جنگی اثر رکهنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ قابو پانے میں ناکام رہے بلکہ وقت گذرنے کے ساته اب کسی نہ کسی لیول پہ انڈر اسٹینڈنگ بهی فروغ پاتی جارہی ہے.اب انٹر نیشنل لیول پہ گڈ اور بیڈ کی باتیں سننے میں آرہی ہیں.2014 نیٹو افواج کی واپسی کا سفر بهی ہے.وہ جانے سے پہلے گڈ طالبان کے لیئے حالات بهی موافق کرکے جانا چاہتے ہیں.وہ ان کی دوستیاں بهی اسطوار کرارہے ہیں جو نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن کے ان کے ہاته پہ بیعت کررہا ہے اسے حکومتوں سے نوازا جارہا ہے اور جو ان سے دوستی نهیں بناء پارہا ہے اس کو گهیرا جارہا ہے.افغانستان ،و عراق کی خبروں کا مطالعہ کیا جائے تو تصویر بهت حد تک واضح ہوتی نظر آتی ہے. بات سمجه آنی چاہیے کہ کیوں اور کس کس کے گرد نیشنل و انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ گهیرے تنگ کررہی ہے.

ہمارے حاکم کون؟‎

پچهلے مهینے عدنان بھائی  کے یہاں رات کے کهانے پہ جانا ہوا.چند بلاگرز سے اور کچه سوچ کی وسعت رکهنے والے دوستوں سے ملاقات ہوئی.ذکر تها سیاست اور سیاست. کہ ایسے میں ایک دوست تنگ آکر بولے کہ یہ سب فضول کی باتیں ہیں اب تو جهگڑا یہ ہے کہ طالبان کو کتنا پاکستان دیا جائے اور کتنا نہ دیا جائے.مذاکرات وذاکرات سب فضول کی باتیں.ہمارے والے کہتے ہیں ٥٠% لے لو وہ مان نهیں رہے کہتے ہیں صد فیصد چاہیے.مذاکرات کا مقصد ان کو منانا ہے کہ یہی پاکستان دے سکتے اتنا ہی لے لو. اور اتنا چهوڑ دو.

اس بات کے ساته ہی مجهے الطاف حسین کا بیان بهی یاد آیا جس میں الطاف حسین نے کہا کہ یہ لوگ کراچی طالبان کے حوالے کرنے کی پلاننگ کرچکے ہیں.دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پہ نظر رکهیں.اس طرح کا اک بیان بهی کچه ذہن میں تها اس پہ بهی بات ہوئی.اس وقت نہ زیادہ سمجه آیا تها اور بات آئی گئی ہوگئی. لیکن چوهدری اسلم کی موت نے بهت سے عقدے کهولے.

چوهدری اسلم سانحے کے ٧٢ گهنٹے گذرنے کے بعد نیوز ویب سائیڈز پہ چوهدری اسلم و طالبانی کمانڈر کی گفتگو منظر عام پہ آئی.کہ جب چوهدری اسلم سے طالبانی نمائندے کی تلخ کلامی ہوئی تو اس کا کہنا تها کہ حکومت ان سے مذاکرات بهی کرسکتی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک کا کوئی حصہ شائد کراچی بهی ہمارے حوالے ہوجائے.یہ دعوی طالبانی کمانڈر کی جانب سے سامنے آیا.یہ گفتگو دو ماه قبل کی ہے.

chhhh

اس گفتگو کے منظر عام پہ آنے کے بعد مذاکرت کا مطن تو سمجه آرہا ہے کہ اتنا لے لو اتنا چهوڑ دو.فاٹا لے چکے ہو.اورکزئی ایجنسی ، باجوڑ ، کرم خیل و خیبر پختون خواہ کا ایک حصہ ان کی رٹ کے تحت چل رہا ہے.کیونکہ اگر کرفیو لگا کر کانوائے گذریں گے تو یہی نتیجے اخذ کئے جائیں گے.سچ تو یہ ہے کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل شهید کرگئے.  اور جن جگهوں پہ بظاہر نظام طالبان نهیں ہے وہاں طالبان پسند افراد کی حکومت ہے.ان کی حکومت ہے جو بمبار کو شهید اور سپاهی کی موت کو حرام موت مانتے ہیں.

یعنی طالبان کو امریکی طرز پہ حکمرانی کرنا آگئی.اتنے بڑے سیٹ اپ کو پالنے کے بجائے چنے ہوئے افراد نظام حکمرانی کیلیے پلانٹ کردیا جاتا ہے.بیک ہینڈ پہ ان کے مفادات کا خیال رکها جاتا ہے.کچه ایسا ہی طرز حکمرانی آدهے ملک پہ تو نظر آرہا ہے.اور جن دروازوں سے مذاهمت ہورہی ہے وہ مستقل عتاب میں ہیں.کبهی دهماکوں کا عتاب تو کبهی اس مخصوص ٹولے کی بلیک میلنگ جو طالبانی مفادات کے دانستہ یا نادانستہ مفادات کا تحفظ کرنے کے درپے ہے.

جو لوگ چوهدری اسلم کے قاتلوں سے بات کرنے کیلیے مرے جارہے ہیں. جو لوگ پچاس ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں سے ڈائلاگ چاہتے ہیں وہ ڈائلاگز کا مقصد واضح کریں کہ وہ کونسے علاقے ہیں جو آپ دینے جارہے ہیں اور وہ کونسے علاقے ہیں جو وہ ڈیمانڈ کررہے ہیں.ہم عوام ایک عام آدمی کو بتایا جائے کہ اگر مذاکرات کرنے گئے تو کن بنیادوں پہ مذاکرات ہوں گے کیونکہ حکومتی پالیسیز کی کامیابی و ناکامی کے نتیجے میں مرتا عام آدمی ہے. عتاب پردے سے پچهلے حاکمین کی طرف سے آئے یا پردے کے اگلے حاکمین کی طرف سے آئے آتا عوام پہ ہے.
انشاءاللہ اگلی تحریر میں کوشش ہوگی وہ علاقے جن میں طالبان اپنا اثر چاہتے ہیں وہ کونسے ہیں اور ان کی وجوهات پہ بات کی جائے
طالبان خیبر پختونخواہ کی مخصوص بیلٹ اور کراچی پہ  ھی  اپنا اثر کیوں چاہتے ہیں


جے . رضا .زیدی