یہ خوش گمان مفکرین و مصلحین‎.حصہ اول و دوئم

 

لکهنے کی بیماری ہے سو لکهنے بیٹھ گئے.لیکن لکهنے کے بعد احساس ہوا کہ متنازعہ ہوگیا سو وضاحتی سطور بهی ہوجائیں کہ یہ صد قابل بحث ہے. لیکن اگر تاریخ سے سبق لیتے ہوئے اگلی منازل طے کرلی جائیں تو کوئی مضائقہ بهی نہیں.
ہم نے بچپن سے اقبال و سرسید کو پڑها جوان ہوئے تو ابوالکلام آزاد سے بهی متاثر ہوئے اور  مولانا محمد علی جوهر کو بهی آئیڈئیلائز کیا.آج ہم تاریخ کی ہلکی پهلکی کسوٹی پہ اقبال ، آزاد ، مولانا محمد علی جوہر مودودی اور آیت اللہ خامنہ ائ کو اپنے تئیں پرکهنے کی کوشش کرتے ہیں.

 

اقبال پیدائش   ١٨٧٧   وفات  ١٩٤٧  بلاشبہ ایک آفاقی شاعر نہ صرف چین و عرب بلکہ سارا جہاں ان کا وطن تها آپ کا سبق
‘زمانہ باتو نسا زد تو بازمانہ ستیئر’.
یعنی اگر زمانہ تم سے موافقت نہ کرے تو اس سے لڑ لڑ کے زمانے کو اپنا بناؤ آپ نے مسلمانوں کو کچھ اس طرح کے نغمے دئے کہ
‘کافر کی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ تعریف کہ گم اس میں ہیں آفاق’
لیکن یہی اقبال تهے کہ ١٩٣١میں ملک کی تقسیم کا نظریہ پیش کردیا شاعری کی دنیا میں تو اقبال سارے آفاق کو اپنے اندر سمو گئے لیکن عمل کی دنیا میں وہ پوری زمین تو درکنار ایک ملک کو بهی اپنے اندر گم کرنے کا حوصلہ نہ رکھ سکے.وہ اپنے ہی ملک کے کنارے ایک ایسا ٹکڑا لینے پہ راضی ہوگئے کہ جہاں پہلے سے اپنی عددی اکثریت کی بناء پہ مسلمانوں کو غلبہ تها.وہ شخص شاعری کی سطح پر ‘یزداں بکمبند آور اے ہمت مردانہ’ کا ترانا گاتے رہے لیکن عملی طور پہ اکثریتی طبقے کو بهی اپنے اندر ضم نہ کرپائے.یہاں اقبال نے بٹوارے کی دهن چهیڑی اور نجات علیحدگی کی صورت میں تلاش کی. یعنی منزل ہی بدل ڈالی اور یہی حال ہمارے پچهلے تمام مفکرین و مصلحین کا رہا ہےکہ تحریر و تقریر میں ان کی منزل چرخ نیلی فام سے بهی پرے ہوتی ہے الفاظ کی دنیا میں آسمان کے ستارے بهی ان کی گرد راہ بن کے رہ جاتے ہیں مگر عمل کی سطح پہ آتے ہی ان کا حال ایسا ہوتا ہے کہ ایک پهولا ہوا غبارہ تها جو واقعات کی چٹان سے ٹکراکر ختم ہوگیا.

 

مولانا محمد علی جوہر پیدائش ١٨٧٨~ وفات  ١٩٣١.ایک ایسا دلیر آدمی جو عالمی طاقتوں کی بهینٹ چڑھ گیا.آپ عالمی اسلامی خلافت کیلیے اٹهے.براعظم آپ کی شاندار تقریروں سے گونج اٹها. بی اماں کی تربیت ہی تو تهی کہ آپ نے دلیری کی انتہا کی۔ شعری فضاؤں میں وہ ‘یہ بندہ دو عالم سے خفاء تیرے لیے ہے’ کی سطح پہ پرواز کررہے تهے مکر ترکی کے مصطفی کمال پاشا نے ١٩٢١ میں ادارہء خلافت ختم کردیا تو ان کی قیادت ہی زمین بوس ہوگئی.اس کے بعد مولانا کے پاس کرنے لائق جو کام رہ گیا تها کہ اپنے آپ کو اور اپنے رفقاء کو ایک مشترک وطن کی آزادی پہ قربان کردیں جو شخص عالمی خلافت کا پرچم لیکر اٹها اور ایک براعظم پہ چها گیا لیکن ایک ایسی وطن آزادی پہ قربان ہوگیا جو مسلم اقلیت پہ غیر مسلم اکثریتی غلبے کے سواء کچھ نہ تهی.

 

محی الدین ابولکلام آزاد. ~ پیدائیش  ١٨٨٨  _وفات  ١٩٥٨  .مولانا پہ بہت لکها گیا ہے اس ملک کا محروم طبقہ جو قاعد اعظم سے ناراض ہوا وہ محی الدین کو آئیڈیلائز کر گیا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن مولانا آزاد کی ابتدا الهلال و البلاغ جیسی پر شور تحاریک سے ہوا.آپ کی پر جوش تقاریر نے مسلم امت کا لہو گرمادیا.شروع میں تو آپ قرآن حمید کے علاوہ کسی اور چیز پہ راضی ہی نہ نظر آئے کہ آپ کا پیغام واقعی پیغمبرانہ انداز لیے ہوئے تها’خدا کی کتاب لے کر اٹهو اور خیر الامم کا تاج اپنے سر پر رکھ کرسارے عالم کیلیے ماہتاب و آفتاب بنو.  لیکن وقت گذرنے کے ساتھ قرآنی انقلاب کا پیغام دینے والا ہندوستانی قومیت کا پیغام دینے والا بن گیا. وہ شخص جو اپنے مقاصد میں حزب اللہ کا قیام رکهتا تها لیکن وہ بهی حزب الوطن ہی ٹہرا. ١٩٤٧  میں هندوستان کے مسلمان آپ کی دعوت پہ لکھنئو کنونشن میں جمع ہوئے لیکن آپ کا پیغام اس دن یہ تها کہ تمام مسلمان کانگریس میں شامل ہوجائیں. یہ کوئی واضح فکر نہ تهی اور ان کے پاس مسلمانوں کیلیے کوئی واضح حل نظر نہ آیا اور نتیجہ هجرت.

 

مولانا ابولاعلیٰ مودودی ۱۹۰۳۔۔ تا  ۔۔۱۹۷۹ کی مثال تو بہت عبرتناک ہے۔ انہوں نے اپنی تحریک کی بنیاد حاکمیت الہیٰ پہ رکھی۔ انہوں نے کہا زمین پر صرف قانون خدا چلے گا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔ باقی سب قانون باطل ہیں۔ مسلمان کے لئے ایسی زندگی حرام ہے جب وہ غیر خدائی قانون پر راضی ہوجائے۔ اس کو یا تو خدا کے قانون کو نافذ کرنا ہے یا اس کے نفاذ کے لئے لڑتے ہوئے مرجانا ہے۔ مودودی صاحب کے مطابق غیر خدائی قانون بنانے والا قانون ساز، اس کے تحت فیصلہ کرنے والا جج، اس کو نافذ کرنے والی حکومت سب کے سب فعل حرام کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص مسلًمہ طور پر مجرم ہو اور اس کو انسانی قانون کے تحت سزا دی جائے تب بھی وہ سزا سزا نہیں ہوتی بلکہ خود ایک جرم ہوتا ہے۔ کیونک خدا کی زمین پر کسی کو یہ طے کرنے کا حق نہیں کہ کس جرم پر کس کو کیا سزا دی جائے۔ نہ کسی کویہ اختیار حاصل ہے کہ وہ از خود کسی سزا کو نافذ کرے۔ گویا وہ شخص جو کسی انسان کو قتل کرتا ہے وہ خود بھی تو ایک قاتل ہے۔

 

مودودی صاحب تمام عمر اسلامی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے، عمر کے آخری حصے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو پاکستان میں فوجی انقلاب آیا اور جنرل ضیاالحق کی سربراہی میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگئی کہ کہ خود مودودی صاحب مشیرخاص کا سا درجہ رکھتے تھے اور جماعت کے کئی افراد ذمہ دارانہ مناسب پر فائض تھے۔ اس حکومت کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے پر مقدمہ چلا اور خود مودودی صاحب اور ان کی جماعت کے مطالبے، پہلے احتساب پھرانتخاب کے مطابق تھا۔ ان کے لئے پورا موقع تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کو شرعی قوانین کی عدالت میں کھڑا کریں اور اسلامی قانون کے تحت مقدمہ چلائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً ساری دنیا کے سامنے وہ باعمل مبلغ ٹہرتے۔ پاکستان میں اس وقت تین قسم کی عدالتیں تھیں، ایک فوجی عدالت، دوسری شرعی عدالت او تیسری برطانوی قانون کے تحت پہلے سے قائم شدہ عدالت۔ وہ مسٹر بھٹو کے مقدمہ کو شرعی عدالت میں جاری کروا سکتے تھے۔ بالفرض اگر شرعی عدالت کے اختیارات محدود ہوتے تو صدارتی فرمان کے ذریعے اختیارات وسیع کر کے یوں کا تقرر کر کے یہ کام عمل میں آسکتا تھا۔ لیکن افسوس مودودی صاحب یا جمعت کے کسی اور فرد کی جانب سے یہ مطلب سامنے نہ آسکا۔ بھٹو پر قتل کا الزام تھا اور اس کے لئے واضح قوانین اسلامی شریعت میں موجود ہیں مگر ان کا مقدمہ جانتے بوجھتے ہوئے برطانوی قانون تعزیرات کے تحت چلایا گیا نہ کہ اسلامی قوانین کے تحت۔ اس طرح جو شخص ساری زندگی قانون الہیٰ کے نفاذ کی بات کرتا رہا وہ اپنے اصول آپ ہی دفنا گیا۔

 

زمنہ حال کی اسلامی تحاریک کی خامی یہ ہے کہ وہ شاندارقوت نافذہ حاصل کرنے کے باوجود ناکام ہوجاتی ہیں۔

 

آخری مثال ایران کی لیجئے، شاہ محمد رضا پہلوی نے جب جنوری ۷۹ میں ملک چھوڑا اور فروری ۷۹ میں آیت اللہ خمینی تہران کے ہوائی اڈے پر اترے تو اسلام پسندون نے اسے ایسا انقلاب قرار دیا کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اٹلی کی ایک صحافی خاتون ایوریانا فلاسی نے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کا دورہ کیا اور سوال کیا کہ اسلامی انقلاب کے ثمرات ایران میں نظر نہیں آتے بلکہ ظلم و بربریت کا دور دورہ ہے۔ آپ کے لئے آنے والے دن پرخطر ہیں تو آیت اللہ خمینی، جن کی عمر ۸۰ برس ہوچکی تھی، فرمایا کہ ابھی اسلامی انقلاب کی عمر چھ ماہ ہے، ہم اپنے سفر کے آغاز میں ہیں، آپ ایسے بچے سا کیا توقع رکھ سکتی ہیں جس کی عمر ابھ صرف چھ ماہ ہو۔ (ٹائمز آف انڈیا)۔ ایران کے اسلامی لیڈر کا یہ جواب اس بات کا اقرار ہے کہ شاندار کامیابی کے دعوے کے باوجود ایران کا انقلاب شاندار ناکامی تک ہی پہنچ سکا، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک بچہ ہوتی ہے انقلاب کبھی بچہ نہیں ہوتا۔ انقلاب کی تعریف کسی تحریک کا کمال تک پہنچنا ہی ہے۔ اگر انقلاب کو بچہ قرار دیا جائے تو وہمانقلاب نہیں صرف ہڑبونگ ہے جسے غلطی سے انقلاب کا نام دے دیا گیا۔

 

یہی وجہ ہے کہ خلافت الہیٰ کے نام پر کھڑے ہونے والے جب اقتدار حاصل کرلیتے ہیں تو فوراً آمریت قائم کردیتے ہیں کیونکہ ملک کے مایوس اور ناراض عوام کے درمیان اپنی بقا کی کوئی صورت انھیں آمریت کے سوا کہیں نظر نہیں آتی۔ اسلامی نظام کے دعویدار بالاخر غیراسلامی نظام کے سائے میں کنج عافیت تلاش کرتے ہیں۔
Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s