ہمارے حاکم کون؟‎

پچهلے مهینے عدنان بھائی  کے یہاں رات کے کهانے پہ جانا ہوا.چند بلاگرز سے اور کچه سوچ کی وسعت رکهنے والے دوستوں سے ملاقات ہوئی.ذکر تها سیاست اور سیاست. کہ ایسے میں ایک دوست تنگ آکر بولے کہ یہ سب فضول کی باتیں ہیں اب تو جهگڑا یہ ہے کہ طالبان کو کتنا پاکستان دیا جائے اور کتنا نہ دیا جائے.مذاکرات وذاکرات سب فضول کی باتیں.ہمارے والے کہتے ہیں ٥٠% لے لو وہ مان نهیں رہے کہتے ہیں صد فیصد چاہیے.مذاکرات کا مقصد ان کو منانا ہے کہ یہی پاکستان دے سکتے اتنا ہی لے لو. اور اتنا چهوڑ دو.

اس بات کے ساته ہی مجهے الطاف حسین کا بیان بهی یاد آیا جس میں الطاف حسین نے کہا کہ یہ لوگ کراچی طالبان کے حوالے کرنے کی پلاننگ کرچکے ہیں.دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پہ نظر رکهیں.اس طرح کا اک بیان بهی کچه ذہن میں تها اس پہ بهی بات ہوئی.اس وقت نہ زیادہ سمجه آیا تها اور بات آئی گئی ہوگئی. لیکن چوهدری اسلم کی موت نے بهت سے عقدے کهولے.

چوهدری اسلم سانحے کے ٧٢ گهنٹے گذرنے کے بعد نیوز ویب سائیڈز پہ چوهدری اسلم و طالبانی کمانڈر کی گفتگو منظر عام پہ آئی.کہ جب چوهدری اسلم سے طالبانی نمائندے کی تلخ کلامی ہوئی تو اس کا کہنا تها کہ حکومت ان سے مذاکرات بهی کرسکتی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک کا کوئی حصہ شائد کراچی بهی ہمارے حوالے ہوجائے.یہ دعوی طالبانی کمانڈر کی جانب سے سامنے آیا.یہ گفتگو دو ماه قبل کی ہے.

chhhh

اس گفتگو کے منظر عام پہ آنے کے بعد مذاکرت کا مطن تو سمجه آرہا ہے کہ اتنا لے لو اتنا چهوڑ دو.فاٹا لے چکے ہو.اورکزئی ایجنسی ، باجوڑ ، کرم خیل و خیبر پختون خواہ کا ایک حصہ ان کی رٹ کے تحت چل رہا ہے.کیونکہ اگر کرفیو لگا کر کانوائے گذریں گے تو یہی نتیجے اخذ کئے جائیں گے.سچ تو یہ ہے کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل شهید کرگئے.  اور جن جگهوں پہ بظاہر نظام طالبان نهیں ہے وہاں طالبان پسند افراد کی حکومت ہے.ان کی حکومت ہے جو بمبار کو شهید اور سپاهی کی موت کو حرام موت مانتے ہیں.

یعنی طالبان کو امریکی طرز پہ حکمرانی کرنا آگئی.اتنے بڑے سیٹ اپ کو پالنے کے بجائے چنے ہوئے افراد نظام حکمرانی کیلیے پلانٹ کردیا جاتا ہے.بیک ہینڈ پہ ان کے مفادات کا خیال رکها جاتا ہے.کچه ایسا ہی طرز حکمرانی آدهے ملک پہ تو نظر آرہا ہے.اور جن دروازوں سے مذاهمت ہورہی ہے وہ مستقل عتاب میں ہیں.کبهی دهماکوں کا عتاب تو کبهی اس مخصوص ٹولے کی بلیک میلنگ جو طالبانی مفادات کے دانستہ یا نادانستہ مفادات کا تحفظ کرنے کے درپے ہے.

جو لوگ چوهدری اسلم کے قاتلوں سے بات کرنے کیلیے مرے جارہے ہیں. جو لوگ پچاس ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں سے ڈائلاگ چاہتے ہیں وہ ڈائلاگز کا مقصد واضح کریں کہ وہ کونسے علاقے ہیں جو آپ دینے جارہے ہیں اور وہ کونسے علاقے ہیں جو وہ ڈیمانڈ کررہے ہیں.ہم عوام ایک عام آدمی کو بتایا جائے کہ اگر مذاکرات کرنے گئے تو کن بنیادوں پہ مذاکرات ہوں گے کیونکہ حکومتی پالیسیز کی کامیابی و ناکامی کے نتیجے میں مرتا عام آدمی ہے. عتاب پردے سے پچهلے حاکمین کی طرف سے آئے یا پردے کے اگلے حاکمین کی طرف سے آئے آتا عوام پہ ہے.
انشاءاللہ اگلی تحریر میں کوشش ہوگی وہ علاقے جن میں طالبان اپنا اثر چاہتے ہیں وہ کونسے ہیں اور ان کی وجوهات پہ بات کی جائے
طالبان خیبر پختونخواہ کی مخصوص بیلٹ اور کراچی پہ  ھی  اپنا اثر کیوں چاہتے ہیں


جے . رضا .زیدی

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s