سب دهندہ ہے پر گندہ ہے یہ

بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جهاں ختم کی تهی لیکن اب باتیں بے ترتیب سی ہیں تو کوشش ہوگی کہ مختصرا ہواور تمام پہلوؤں پہ بات ہوجائے.پچهلے بلاگ کا لنک بهی یاد دہانی کیلیے پیسٹ کئے دیا ہے.
http://goo.gl/X1IhBW

سوال یہ ہے آخر طالبان کن علاقوں پہ کنٹرول چاہتے ہیں اور ان کے اس کنٹرول کی وجہ کیا ہے. طالبانی کمانڈر شاهد اللہ شاهد کی گفتگو بهی سامنے رکهی جائے اور پاکستان کے موجودہ حالات، تو سمجه آتا ہے کہ فاٹا افغان بارڈر سے ایبٹ آباد تک ، بلوچستان کے پشین بارڈر سے چمن و ژوب تک کا علاقہ طالبان کسی صورت چهوڑنے پہ تیار نهیں اور کم و بیش کنٹرول بهی رکهتے ہی ہیں اور اب ان کی نظریں  کراچی پہ لگی ہیں. پچهلے سات سال سے کراچی بلاشبہ ایک عجیب سی کشمش ہے جو شهر قاعد میں جاری ہے.
اس کشمکش کے نتائج پہ بهی بات ہوگی لیکن پہلے بات کہ جن علاقوں کا ذکر کیا گیا.ان علاقوں میں و کراچی اور بلخصو ص بلوچستان کی اس بیلٹ کی ہی جنگ کیوں اول لڑی جارہی ہے؟ تو اس کی وجہ ہے پیسہ کیونکہ اگر ہم دیکہیں کہ طالبان کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ تحریک طالبان چلانی بهی تو ہے تو ان کا بنیادی ذریعہ معاش منشیات اور بهتہ خوری ہے. یہ مخصوص قبائلی زمین اور پشین بارڈر یہ دونوں افغان بارڈرز ہیں اور اس زمین کے دونوں طرف جو فصل یا پودا کاشت کیا جاتا ہے وہ ہے پوست کا پودا  جسے ہشیش کی بوٹی یعنی افیون کی فصل بهی کہا جاتا ہے.اور یہ دنیا میں نہ صرف ناپید ہے بلکہ دنیا میں اصل ہشیش وائٹ گولڈ سے بهی مهنگی خیال کی جاتی ہے.پوست کہیں ، ہشیش کہ دیں یا کوکین یہ دنیا میں مختلف صورتوں میں دستیاب ہے اور یر جگہ ایک ہی سی قیمت رکهتی ہے.

دنیا میں پیدا ہونے والی هیروئن/کوکین افیون کے پودے سے پیدا ہوتی ہے.دنیا میں پیدا ہونے والی هیروئن کا نوے90% افغانستان کے صوبے هلمند اور فاٹا سے ملحقہ علاقوں میں پیدا ہوتی ہے.اسے دنیا بهر میں براستہ پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے.بی بی سی کی ایک رپورٹ کیمطابق کوئی ایک ہزار ملین ڈالرز کی سالانہ آمدنی تو صرف ہیروئن کی پیداوار سے طالبان پیدا کرتے ہیں.

2001 میں نیٹو کی افغانستان پر یلغار کے بعد افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے.یٹو افواج کی کوششوں کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت دو لاکھ ہیکٹرتک پھیل چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلی بار افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر ہیروئن کی کاشت کی جا رہی ہے۔منیشات کی آمدن سے افغانستان میں مزاحمت کی تحریکوں کو فنڈ کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کو سالانہ منشیات کی پیدوار اور فروخت سے کئی سو ملین ڈالر وصول ہوتے ہیں۔

7B5607FA-D56C-4DA0-8948-875D75268791_w640_r1_s0,,4306438_4,00

  ہیروئن کی پیداوار افغانستان میں ہوتی ہے اور اس کی تقریبا پچاس فیصد سمگلنگ پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔ منشیات کنیٹنرز اور ٹرکوں میں چھپا کر کراچی تک لائی جاتی ہے اور یہاں کی بندر گاہ کو استعمال کرتے ہوئے دیگر ملکوں تک بھیجی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ چند برسوں میں کراچی کی بندر گاہ ہیروئن کی درآمد اور برآمد دونوں ہی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان ہیروئن دیگر ایشیائی اور یورپی ممالک کے لیے برآمد کی جاتی ہے جبکہ جنوبی امریکہ کو کوکین درآمد کی جاتی ہے۔

هیروئن کی منڈی هلمند سے شروع ہوتی ہے اور جنوبی امریکہ تک جاتی ہے.جب کراچی در آمد برآمد کیلیے استعمال ہورہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کراچی منڈی نہ بنے.منشیات بالخصوص ہیروئن کیلیے کراچی بهترین منڈی ہے .کراچی میں پیسہ بهی ہے اور قدرت کی طرف سے محل وقوع بهی خوب ہے سو کراچی میں یہ جنگ بهت زیادہ جاری ہے.کراچی کی منڈی میں کراچی کے مخصوص ڈکیت گروپ ان کے سیلز مین بنے.آج کل ان کو حرف عام میں گینگ وار کہا جاتا ہے.مارکیٹنگ کی زبان میں اس پروڈکٹ کی لانچنگ گینگ وار کے حصے میں آئی.اور شهر کراچی کا سب سے زیادہ جمهوری سوچ رکهنے والا علاقہ لیاری منشیات کا گودام گیا ہے اور شهر میں گینگ وار والے منشیات کے هول سیلر کا روپ دهار چکے ہیں.

اندازہ ہے کہ موضوع بهی خشک ہے اور طوالات بهی ہے لیکن معاملات کو سمجهنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی کاشت کے علاقے اور اس کی ترسیل کی راه گذر پہ اپنا مکمل کنٹرول چاہتے ہیں.اب ظاہر ہے سینکڑوں ملین ڈالرز کی بات ہے تو جن سے معاملات طے ہوجاتے ہیں ان کو حصہ ملتا ہے اور جن سے معاملات طے نهیں ہوپاتے ان کو خمیازہ بهگتنا پڑتا ہے.جو حصہ دیتے ہیں وہ گڈ طالبان بن جاتے ہیں جو حصہ نهیں دیتے وہ بیڈ طالبان بن جاتے ہیں.

نیٹو افواج اپنا جنگی اثر رکهنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ قابو پانے میں ناکام رہے بلکہ وقت گذرنے کے ساته اب کسی نہ کسی لیول پہ انڈر اسٹینڈنگ بهی فروغ پاتی جارہی ہے.اب انٹر نیشنل لیول پہ گڈ اور بیڈ کی باتیں سننے میں آرہی ہیں.2014 نیٹو افواج کی واپسی کا سفر بهی ہے.وہ جانے سے پہلے گڈ طالبان کے لیئے حالات بهی موافق کرکے جانا چاہتے ہیں.وہ ان کی دوستیاں بهی اسطوار کرارہے ہیں جو نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن کے ان کے ہاته پہ بیعت کررہا ہے اسے حکومتوں سے نوازا جارہا ہے اور جو ان سے دوستی نهیں بناء پارہا ہے اس کو گهیرا جارہا ہے.افغانستان ،و عراق کی خبروں کا مطالعہ کیا جائے تو تصویر بهت حد تک واضح ہوتی نظر آتی ہے. بات سمجه آنی چاہیے کہ کیوں اور کس کس کے گرد نیشنل و انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ گهیرے تنگ کررہی ہے.

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “سب دهندہ ہے پر گندہ ہے یہ”

  1. Great in depth study and research by Junaid Raza Bhai. We should save Karachi if we want to save whole Pakistan from drugs, sectarian riots and Pakistan ‘ s enemies

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s