تحفظ قانون پاکستان

تحفظ قانون پاکستان

تحریر: جنید رضا

missing

آج آمنہ مسعود جنجوعہ یاد آگئیں کہ کہا کرتی تهیں چیف جسٹس آزاد ہوجائیں بحال ہوجائیں تو مسعود آجائیں گے.کچه بهی تها اچها یا برا ایک بهرم تها ایک عام آدمی کا مان تها افتخار چوهدری. نتایج کیا رہے ایک الگ بحث ہے. لیکن بے شک مسنگ پرسنز کے حوالے سے بهت کام کیا ہے- آپ نے ان مقتدر ایجنسیز سے بهی جواب طلب کیا جو کهبی جوابدہ نہ رہے تهے-

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ریٹائرڈ ہونے کی دیر تھی اور خود کو هسپتال میں دل کے درد کے بہانے میں داخل کرانے والے ایف سی کے  ڈی جی (جن  کا خوف سابق سی جے پی کے سامنے دیدنی رہا تها) بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے آکهڑے  ہوئے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل آئین و قانون کی حدود میں نہیں ماورائے ائین و قانون ریاستی رٹ میں ہے۔عزت مآب ایف سی کے سربراہ کے اس بیان کے چوبیس گھنٹوں بعد ایوان صدر سے ریاستی و سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی گمشدگيوں کے تحفظ کا آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔ پاکستان کے شہریوں کو قانون و ریاست کے رکھوالوں کے ہاتھوں ڈاکوئوں کی طرح اغوا اور اغواکاروں کے تحفظ کو بدقسمتی سے پاکستان کے تحفظ کا نام دے  دیا گیا.یہ قاعد اعظم کے افکار کا مذاق ہی تو ہے کہ آپ نے کہا تها کہ ’’پاکستان کے اندر کسی بھی شخص کو عدالت قانون سے رجوع کئے بغیر ایک سیکنڈ کیلئے بھی نظربند یا قید نہیں رکھا جا سکتا‘‘

لیکن بفضل مہر ممنون حسین تحفظ پاکستان کے نام پر کسی بھی شخص کو ریاستی و سیکورٹی ادارے تین ماہ تک کسی بھی عدالت سے رجوع کئے بغیر قید رکھ سکتے ہیں اور اٹھائے جانے والے شخص کی قید کی جگہ خفیہ ہو گی۔ جیسے اب تک ہزاروں گمشدہ لوگوں کی برسوں سے گمشدگیوں کے مقامات اور گم کردہ ادارے معلوم ہوتے ہوئے بھی نامعلوم بتائےجاتے ہیں۔تحفظ پاکستان آرڈیننس ایسے بدنام زمانہ قوانین کا تسلسل ہے جب پاکستان ڈیفنس رولز یا ڈی پی ار ذوالفقار علی بھٹو جیسوں نے مخالفین کو زچ کرنے کیلیے نافذ کیا.ضیاء نے اسے اور سخت بناتے ہوئے دیگر پابندیاں بهی عائد کیں.بقول جالب

تم سے پہلے جو یہاں ایک شخص تخت نشیں تھا

اس کو بھی خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
( جالب).

سمجه نهیں آتا کہ یہ کون سے حاکم ہیں اور کیسے حکمران یا کہیں کے اغواء کار کہ پچهلے سات ماه میں لاتعداد مسنگ پرسن کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود  کوئی سنوائی نهیں بلکہ ایک سیاه قانون ملک پہ مسلط کیا جارہا ہے.اب اگر آج ہمیں آصف علی زرداری کی کمی محسوس نہ ہو تو کم ظرفی ہوگی.کہ پورے ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ بنایا اور کچه آزادی کی سی کیفیت بهی محسوس ہوتی تهی پاکستان میں. بلوچستان کے ماما قدیر کا بیٹا ہو یا کراچی کا انور انصاری ہو یا مسعود جنجوعہ دکه سب کا برابر ہے اور سب لاپتا افراد ایسے ہی سیاه قوانین کے ستاbalئے ہیں.


آج بلوچ قوم پرستوں کے یا دهشت گردی کے نام  پہ لاتعداد نفوس نامعلوم مقام نامعلوم لوگوں کے پاس جمع ہیں.یہ نامعلوم ہی مدعی ہیں یہ نامعلوم ہی منصف.
اهل اقتدار طبقہ اس بات کو سمجهنے سے قاصر نظر آتا ہے کہ اس قوم کی بنیادی ضرورت مختلف بهیک کے پیکجز نهیں، آسان قرضے نهیں ، لیب ٹاپس نهیں -آپ ہماری ثقافتوں کو نهیں خدارا ہمیں بچائیں.کیونکہ ان قوانین کے بعد تو سیاسی کارکنان کے آثار تک نہ ملنے کے.خدا کیلیے کم از کم مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سلسلسے میں اپنا کردار ادا کریں.یہ مسلہ سیاسی نهیں انسانی ہے.آج محترم تصدق حسین جیلانی کا بهی امتحان ہے کہ کیا آج کی عدلیہ پاکستانی عوام کے ساته کهڑی ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے

.PPO-2014 to be tabled in National Assembly todayhttp://abbtakk.tv/eng/ppo-2014-to-be-tabled-in-national-assembly-today-270114

missing Mqm

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s