سندھ دھرتی ماں

mohajir-province-543

لکھنے کا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن صبح صبح محترمہ شمع جونیجو کا کالم نظر سے گزرا۔سب سے پہلے تو ان رویوں پہ افسوس ہوا جو شمع کے ساتھ سوشل میڈیا میں کسی آڑھی ٹیڑھی آئی ڈی نے روا رکھا۔یہ بات تو سچ ہے کہ گالی جب دی جاتی ہے جب دلائل ختم ہوجاتے ہیں۔لیکن میڈم نے تو سب کو ایک ہی لاٹھی سے ھانک دیا ۔ ہم میڈم سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے غصے کے بھاؤ میں خدارا سب کو نہ بہائیں۔

لکھتکار نے اپنے کالم میں انگلستان و ترکی کے حوالے دیئے کہ مھاجرین کی ایک بڑی تعداد سیاسی پناھ کی صورت میں انگلستان میں ذندگی گزار رہی ہے اور ترکی کے بارڈرز پر بھی کئی ممالک  کے پناھ گذیر ہیں تو کیا انگلستان اور ترکی میں بھی مھاجرین کے لیئے صوبے بننے چاہئیں ¿

یہ مثال کہیں سے بھی سندھ کی شھری اردو بولنے والوں پہ پوری نھیں اترتی کیونکہ دونوں کی ہجرت کا مقصد مختلف تھا۔ترکی نے شام کی عوام الناس کے لیئے بارڈر کھولے ,کردوں کیلئے بارڈرز کہولے لیکن کرد ہوں یا شامی ان کی ہجرت کا مقصد کچھ وقت گزارنا ہوتا ہے۔حالات کے معمول پہ آنے کے نتیجے میں ان کی واپسی کا عمل ہوتا ہے۔یہ ترکی ریزیڈینٹس نھیں ہوتے۔دوسری مثال انگلستان کی ہے تو انگلستان میں کتنی کاؤنسلز ہیں کتنے بوروز ہیں اور ایڈمنسٹریٹیو تقسیم بالکل نچلے لیول تک ہے۔لندن کو تو بوروز سے ہٹ کر زونز تک کی سطح پہ تقسیم کیا گیا ہے لندن ایک گنجان آباد شھر ہے اور لندن کی ایڈمسٹریٹیو ڈیزائن کی صورت میں کوئی خاکہ کھینچا جائے تو صرف کراچی میں ہی کم سے کم تین ایڈمنسٹریٹیو یونٹ بن جائیں گے۔

ھندوستان سے جو لوگ ہجرت کرکے آئے تھے وہ آئے نھیں تھے لائے گئے تھے اس مملکت خداداد کی باگ ڈوڑ سنبھالنے کیلیے لائے گئے۔ان کی ہجرت کا مقصد پاکستان میں پاکستانی بن کے رہنا تھا۔ان کو ہندوستان کی سرزمین پہ واپس نھیں جانا تھا۔ یہ لوگ حادثاتی طور پہ پاکستانی نھیں بنے تھے کہ سوئے ھندوستان میں اور اٹھے پاکستان  میں ایسا نہ تھا کہ ریڈیو پہ اعلان قیام پاکستان سنا تھا ۔ بلکہ میرے نانا مرحوم کھا کرتے تھے
you are Pakistani by birth we are Pakistani by choice we are Pakistanies by struggle.

حقیقت میں جو مھاجرین پاکستان آئے تھے وہ بانیان پاکستان تھے اور آج جو لوگ مھاجر کھلاتے ہیں وہ اولاد بانیان پاکستان ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو پناھ گزیر مکڑ اور مھاجر کا نام کس نے دیا۔ایم کیو ایم نے یا ان لوگوں نے جو فرزندان زمین ٹھرائے گئے۔محسن بھوپالی سے کسی نے پوچھا کہ بھوپالی کیوں لکھتے ہو تو جواب دیا نہ لکہتا تو آپ پوچھتے ڪير آ؟ میں کہتا محسن تو سوال آتا کہاں سے تعلق ہے میں کہتا لاڑکانہ آپ کہتے نھیں پیچھے سے کہاں کے ہو تو اتنا گما پھرا کے جو جواب دیا جاتا سو نام ہی بھوپالی رکھ لیا۔

اس کالم میں افغانیوں کی مثال بھی لکھت کار نے دی تو افغانی بھی جانے کیلئے آئے تھے انھوں نے پاکستان کو اپنی ماں نہ بنایا بلکہ پاکستان کو اے ٹی ایم مشین سمجھا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ایک چھوٹی مثال سیے بات واضح ہوجانی چاہئے کہ پوری افغان بستی میں کوئی سندھی آدمی ڈھونڈھے سے نھیں ملتا لیکن اردو اسپیکنگز کی بستیوں میں سندھی پاڑے موجود ہیں۔لالوکھیت لانڈھی کورنگی گلشن اقبال یہاں سندھی اسپیکنگ فیملیز بھت خوش زندگیاں گزار رہے ہیں۔

سندھ کا المیہ در حقیقت کچھ اور نھیں بلکہ صرف پی پی پی ہے۔وڈیروں جاگیرداروں کی اس جماعت نے کبھی پاکستان کارڈ استعمال نھیں کیا بلکہ ہمیشہ اقتدار کیلئے سندھ کارڈ استعمال کیا اور اقتدار میں آکر صرف وڈیرہ ازم پروموٹ کیا سندھ میں رہنے والے ھاری تک کا نہ سوچا۔اپنے وقتی مفادات کیلئے نعرے لگائے لیکن اقتدار کی منتقلی عوام تک نہ کرپائے سندھ کو شھری اور دیھی سندھ میں تقسیم کرنے کی زمہ دار بھی پی پی پی ہے کہ شھری آبادی سے وزیر تو لے لئے لیکن اختیارات کی منتقلی تو دور سندھ کے شھروں کی سڑکوں  کی پانچ سال میں مرمت تک نہ کروا پائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایڈمنسٹریٹیو یونٹ گلگت بلتستان میں بن سکتا ہے تو کراچی کیوں نھیں اور اگر الیکشن میں ووٹ لینے کی خاطر راجہ ریاض پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب کے حق میں قرارداد پیش کرسکتے ہیں تو سندھ میں عملی جامہ بھی پہنایا جاسکتا ہے۔اور پاکستان صرف سندھ کا نام نھیں بلکہ پورے ملک میں ۲۰ ایڈمن یونٹس کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔بلوچستان اور سندھ میں اگر انتظامی بنیادوں پہ تقسیم کا عمل شروع ہی میں ہوجاتا تو آج احساس محرومی بھی نہ ہوتا اور آزادی کی تحاریک جو سندھ و بلوچستان میں جڑیں پکڑ چکی ہیں یہ بھی نہ ہوتیں۔

سندھ دھرتی اگر واقعی ماں کا درجہ رکھتی ہے تو سندھ کے پڑھے لکھے باسیوں کو اس خاک کو اڑانا ہوگا جو موجودہ برسراقتدار جماعت کے زہنوں پہ چڑھ چکی ہے۔ماں کا پیار  ہمیشہ تقسیم ہی ہوتا ہے ۔ ماں  کی محبت تمام بچوں میں تقسیم ہوتی ورنہ صرف ایک کو بانٹنے والی ماں سوتیلی کھلاتی ہے۔۔۔یہ ثابت کیجئے کہ سندھ سوتیلی ماں نھیں صرف ماں ہے۔

S.M.Junaid Raza
@junaidraza01

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

3 thoughts on “سندھ دھرتی ماں”

  1. اس وقت ایسے بلاگز کی بے پناہ ضرورت ہے اور جنید رضا بھائی نے اپنی بلاگ کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ مہاجر دو ملکوں کی آذادای کے دوران پاکستان کو آذاد کرانے کی جدوجہد اور بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری میں یہاں آئے تھے۔ ان پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ انکا احسان مند ہونے کی ضرورت ہے ۔ خیر پاکستان نے ویسے بھی کسی کا احسان نہیں مانا اپنے قائد کو دھوپ میں جلتا سسکتا چھوڑ کر مرنے دیا تو ہم کیا چیز ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s