کب راج کرے گی خلق خدا

image

ہم ایسی ریاست کے غلام ہیں جو رات ہمیں پانی کی چوکیداری کراتی ہے صبح کے الیکٹرک کے دفتر کھڑا کراتی ہے اور پھر سی این جی کی لائن میں گھنٹوں لگواتی ہے۔سو ہم بھی انہی اصولوں پہ چلتے ہو کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر قطار میں کھڑے تھے روڈ پہ بے ہنگم ٹریفک جام تھا کہ کانوں میں آواز پڑی ‘گو نواز گو’ اور فوراً ہی اس کے جواب میں جو آواز سماعت سے ٹکرائی کہ ‘گو زرداری گو’۔۔ جو غور کیا تو پتا چلا کہ دو عدد اسکول وینز آمنے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں۔بچے دو مختلف اسکولوں کے تھے اور ایک دوسرے کا استقبال ان استقبالیہ نعروں سے کررہے تھے۔

اس میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ عمران و طاہرالقادری نے اندرون سندھ سے بلوچستان  تک و پنجاب سے خیبر پختونخواھ تک ایک جاگ پیدا کی ہے لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کی ہے کسی بھی عام آدمی سے بات کریں تو اپنی بربادی کا ذمہ دار وہ یا تو نوازشریف کو گردانتا ہے یا زرداری کو مختصراً وہ ان  کو چور گردانتے ہوئے اور  برداشت کرنے پہ تیار نہیں…

عام آدمی کے نزدیک مملکت ارض پاک پہ تین تین چار چار بار وفاقی و صوبائی حکومتیں قائم کرنے کے باوجود یہ اشرافیہ اس ملک کو بھوک ٖافلاس ٖ غربت ٖبے روزگاری و دھشت گردی کے عذابوں کے علاوہ اور کچھ نہ دے پائی۔ان کے خاندانی مفادات ہمیشہ ہی ملکی و قومی مفادات پہ مقدم ٹہرائے گئے۔کسی نے  پٹواری کلچر تو کسی نے کرپٹ و ڈکیت کلچر اس معاشرے کو تحفے میں دیئے۔  اس شریف زرداری اشرافیہ نے اپنا اولین مقصد پاکستان سے لوٹنا اور بھاگنا ٹہرایا۔یہ امیر سے امیر ہوتے رہے عام آدمی غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گذارنے پہ مجبور رہا۔ قصہ مختصر ایک عام آدمی کے نزدیک یہ آج اس  پاکستان کے لئے دیمک کے مانند ہیں۔

ایسی صورتحال میں عمران  خان و طاہرالقادری کی تبدیلی و انقلاب کے نعروں پہ پنجاب کے نوجوانوں نے لبیک کہا ہے۔تبدیلی کی یہ آواز اب نظام کی تبدیلی کی آواز بن چکی ہے۔عمران خان کا دھرنا جاری ہے طاہرالقادری کے جلسے جاری ہیں۔پہلی بار پنجاب سے متوسط طبقے کی قیادت کو آگے لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔اختیار سب کے لیئے کے نعروں کی گونج ہے۔

آج جس تبدیلی کی بات کرتے عمران خان نظر آتے ہیں اور اِس جاگیردارانہ سرمایہ دارانہ سسٹم کے خلاف نبزدآزما طاھرالقادری نظر آتے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان نظریات کے بیج   کو بونے والی شخصیت الطاف حسین ہے۔متوسط طبقے سے پڑھے لکھے لوگوں کو ایوان میں بھیجنے والا پہلا آدمی ٖ اس نظام کا پہلا باغی الطاف حسین ہے۔آج اپنے اندر سے قیادت نکالنے کے جس فلسفے کو طاہرالقادری عام کرتے نظر آتے ہیں اس کو عملی جامہ الطاف حسین نے کئی بار پہنایا۔جس خاندانی سیاست کے خاتمہ کی خواہش کرتے عمران اور طاہرالقادری نظر آتے ہیں وہ خاندانی و موروثی سیاست سندھ کے شہروں میں نظر نہیں آتی۔کیونکہ کراچی حیدرآباد میرپور خاص سکھر میں اس موروثی سیاست کا قاتل الطاف حسین ہے۔نظام کی تبدیلی تو بے شک نہ ہو پائی لیکن موروثی سیاست کا خاتمہ ہوا ٖ متوسط اور غریب گھروں کے پڑھے لکھے لوگ مئیر ٖ ممبران پارلیمنٹ و سینیٹرز بنے۔آج کراچی حیدرآباد میں ایک عام آدمی کی پہنچ میں اس کا ایم پی اے ایم این اے ہے۔شہری سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اپنے ووٹر کیلئے الیکشن کے موسم کا پھل نہیں بنے بلکہ ان کے درمیان میں ہی پائے گئے۔ہاں نظام تبدیل نہ ہوپایا لیکن مثبت پولیٹیکل کلچر ضرور رقم ہوا۔تبدیلی کے ثمرات جو آنے چاہیئے تھے وہ نہ آپائے جس کی وجہ سسٹم کا جاگیردارانہ و فرسودہ ہونا ہے صد فیصد نہ سہی لیکن کسی حد تک تبدیلی آئی ہے۔

آج پنجاب و خیبر پختونخواھ میں خان صاحب و ڈاکٹر قادری کی آواز پہ سہی تبدیلی کی خواہش پہ لوگ نکلے ہیں۔متوسط طبقہ گھروں سے نکل کر ڈی چوک پہ جمع ہوا ہے پڑھے لکھے لوگ اب حکومتوں کی نہیں نظام کی تبدیلی کی بات کررہے ہیں اور سچ ہے کہ یہ جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے کہ ملک میں چیف الیکشن کمشنر کیلئے ڈھونڈے کوئی نیک شہرت آدمی میسر نہیں۔

تبدیلی  کی آرزو تو ہے پر تبدیلی نہیں تبدیلی کی ضرورت بھی ہے پر تبدیلی نہیں۔ تبدیلی کے نام پہ اسلام آباد و لاہور جام ہوگیا پر تبدیلی نہیں آئی۔سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جب میدان بھی ہے خواہش بھی ہے ضرورت بھی ہے جذبہ بھی ہے جستجو بھی ہے پھر تبدیلی کیوں نہیں آرہی۔آخر کمی کیا ہے ¿

تبدیلی کے طلبگاروں کے پاس اگر کمی ہےتو کراچی اور کراچی کے جذباتی مگر ڈسپلنڈ پولیٹیکل ورکر  کی کمی ہے۔تبدیلی کے طلبگاروں کے پاس سندھ کے شھروں کی کمی ہے اور تاریخ شاھد ہے کہ جب جب حکومتوں کے خلاف تحاریک چلیں تو اس وقت تک کامیاب نہ ہوپائیں جب تک کراچی نے ہراوّل دستے کا کردار ادا نہیں کیا۔لاہور یا پنڈی کے بند ہونے سے حکومتیں کبھی نہیں گئیں۔کراچی جو بند ہوا بڑے بڑے لوگ بند ہوئے۔

تبدیلی کی خواہش اس وقت تک دیوانے کا خواب رہے گی جب تک کراچی اور اسکی نمائندگی ڈی چوک پہ نہ اترے کراچی کی شمولیت تبدیلی کے جلوس میں اتنی ہی ضروی ہے جتنی  اس ملک کیلئے تبدیلی

بقلم ۔ جے رضا زیدی

واھ رے بڑے تیرا بڑا نصیب

PTI-blog

الیکشن کے نتائج آچکے تھے۔تحریک انصاف پنجاب و خیبر پختونخواھ سے نشستیں لے چکی تھی۔ادھر بھارت کے الیکشن کے نتائج بھی آچکے تھے ۔ وفاق میں بی جے پی تو دھلی میں آم آدمی پارٹی کو نشستیں ملی تھیں۔جتنا شور شرابہ پاکستان میں تحریک انصاف کا تھا اتنا ہی چرچہ بھارت میں آم آدمی پارٹی کا تھا۔ایسے میں کسی کی لکھت نظر سے گذری تھی جس میں انہوں نے تحریک انصاف کو پاکستان کی عام آدمی پارٹی قرار دیا تھا۔انٹرنیٹ کی دنیا میں کافی چرچہ ہوا تھا اس لکھت کا۔

یہ جس کسی نے لکھا تھا سچ ہی لکھا تھا۔ہم اس وقت بھی تحریک انصاف کوپاکستان میں آم آدمی پارٹی جیسا ہی تصور کرتے تھے۔اور اپنی رائے پہ آج تک قائم ہیں۔پھر وقت نے ثابت کیا اور دونوں پارٹیوں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات و حادثات بھی کم و بیش ایک سے ہی رہے۔دوسرے  انتخابی  مرحلے میں آم آدمی پارٹی کو شکست ہوئی تو ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف اپنی ہی نشستیں ہار گئی۔

آم آدمی پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے ایک، شازیہ علمی نے یہ الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ مٹھی بھر لوگوں نے اروند کیجریوال کو گھیر رکھا ہے اور پارٹی میں اختلاف رائے اور اندرونی جمہوریت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔بعد میں شازیہ علمی کو منایا گیا۔شازیہ علمی کو مدر آف آپ بھی کہا جاتا رہا۔تو بالکل ایسی ہی صورحال تحریک انصاف میں ممی پکاری جانے والی محترم فوزیہ قصوری کے ساتھ پیش آئی دونوں کا بنیادی جھگڑا ٹکٹ نہ ملنےکا تھا دونوں کے الزامات بھی ایک جیسے ہی رہے۔میڈم قصوری نے بھی عمران کے گرد لوگوں پہ خوب تنقید کی۔

اس کے بعد پارٹی کے تین بڑے چہروں میں سے ایک یوگیندر یادو نے بھی اندرونی جمہوریت کے سوال پر پارٹی کے سیاسی امور سے متعلق کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔تو پاکستان میں باغی بنے عمران کیلئے داغی اور جاوید ھاشمی نے بھی استعفی دیا اور سنگین الزامات لگائے۔

جس طرح بات بے بات اروند کیجر یوال نے دھرنے کی سیاست کی کہ صفائی کے انتظامات پہ دھرنا پولیس کے خلاف دھرنا مہنگائی کے خلاف دھرنا اسٹیٹ سے ہر وقت کی محاذ آرائی تو پاکستان میں عمران نے مھنگائی کے خلاف دھرنا تو ڈرون کے خلاف دھرنا تو نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا۔دھاندلی کے خلاف دھرنوں کی سیاست کو فروغ دیا۔لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں سیای جماعتوں  کے کام کاج کے طریقے سے متوسط طبقہ بدظن ہوا ہے کیونکہ اسے مستقل احتجاج کی سیاست پسند نہیں آتی۔

دونوں ممالک کے سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے ’ہر بات پردھرنے پر بیٹھنے اور سب کو بے ایمان قرار دینے کی پالیسی کا منفی اثر ہوا ہے اور عام آدمی پارٹی یا تحریک انصاف  کو اگر سیاسی اکھاڑے میں پیر جمانے ہیں تو انہیں حکمرانی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اور اس کے لیے اسے بدعنوانی کے خلاف اپنی کامیاب تحریک کو ایک فعال سیاسی جماعت میں تبدیل کرنا ہوگا‘

بنیادی تنقید آپ پہ اس بات پر بھی ہے کہ ’اروند کیجریوال ہی عام آدمی پارٹی ہیں‘ اور مایاوتی، ملائم سنگھ، ممتا بنرجی اور جیا للتا کے انداز میں ہی اپنی پارٹی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

خان سے منحرف لوگ جاوید ہاشمی ہوں یا امان اللہ نیازی وہ بھی عمران کے ون مین شو بننے سے شاکی رہے اکثر ناراض کارکنان کہتے پائے گئے کہ عمران بھی زرداری و نوازشریف کی طرح اپنی پارٹی چلارہے ہیں۔سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی صرف نام کی ہے فیصلے تو سارے عمران کو اکیلے ہی کرنے ہوتے ہیں۔عمران پہ بھی ڈکٹیٹر بننے کے الزامات آئے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں پارٹیاں بہت جلدی اور بہت زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لڑکھڑائیں جبکہ پہلے انہیں اپنی پالیسیوں اور کام کاج کے قواعد و ضوابط کو واضح شکل دینی چاہیے تھی نظم و ضبط سے عاری اور دونوں جماعتوں کی اپروچ نان میچیورڈ  ہی رہی۔ایک کو دلی میں تو ایک کو کے پی کے میں حکومت ملی نہ یہاں عمران خان  کوئی نیا کے پی کے نہ بنا پائے اور فلاپ رہے (وجوھات کوئی بھی ہوں)تو دلی میں کیجریوال ناکام ہوئے۔کیجریوال نے ۴۹ اننچاس دن میں استعفے دیئے لیکن عمران یہاں سال کھینچ گئے۔لیکن استعفے یہاں بھی آئے۔

عمران کے پی کے میں تو کیجریوال دھلی میں فلاپ ہوئے۔دونوں جماعتوں کے ووٹروں کے اعتماد کو دھچکا لگا۔فرق اگر رہا تو صرف مزاج یار کا رہا۔کیجریوال کو اپنی غلطیوں کا اندازہ چند ماھ میں ہوگیا اور کیجریوال نے اپنے مستعفی ہونے اور ناکام ہونے پہ قوم سے معافی مانگی جبکہ یہاں عمران کو شاید ابھی تک طرز سیاست پہ کوئی پشیمانی و شرمندگی نہیں۔بھارت میں ذاتی انا کو پس پشت ڈالا گیا اور بھارتیوں کے بھلے میں فیصلے لیئے گئے جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس رہا اور تاحال ہے

آج عمران خان کی مثال اس  بڈھے کی سی ہے کہ جس سے تنگ آکر اس کے بچے اسے گھر سے نکال دیتے ہیں اور وہ گلی کے نکڑ پہ بیٹھ کے ہر آنے جانے والے سے لڑتا ہے۔محلے کی مائیآں اس سے تنگ ہوتی ہیں کبھی یہ بڈھا پانی پہ لڑتا ہے تو کبھی بچوں کے گیند سے کھیلنے پہ پتھر اٹھا لیتا ہے۔غرض اس کا وقت دماغی خرابی کے سبب صرف لڑنے میں ہی گذرتا ہے۔عمران بھی ن لیگ سے لڑلیئے تو زرداری سے لڑلیئے ایم کیو ایم سے لڑپڑے اور تو اور محترم اپنی کیفیت کے سبب جماعت اسلامی تک سے لڑپڑے۔

اور اب تو خدا خیر کرے کہ عمران کےکنٹینر سے تیس نومبر کی دھمکیاں بھی کھلے عام دی جارہی ہیں۔آج تو شیخ رشید احمد و عمران کی طرف سے مارو مرجاؤ جلادؤ گرادو کے جملے بھی سننے کو ملے۔کھلم کھلا تشدد کی ترغیب کے جواب میں تو ہم صرف یہ ہی کہ پائے کہ شیخ صاحب و خان کی خوشقسمتی کہ تعلق پنجاب سے ہے  ایک کا میانوالی تو دوجہ پنڈی سے ہے۔ورنہ اگر یہی بات اور اسی طرز پہ الطاف حسین کہ دیتے یا ایسے ہی کسی طریقے سے بابا حیدر زمان یا کوئی بلوچ رہنما کہ چکتا تو قیامت آچکی ہوتی۔میڈیا بار بار کلپس دکھاتا تو پولیس و رینجرز چڑھائی کرچکی ہوتی اور یہ بات کوئی بلوچ یا اردو اسپیکنگ کہ دیتا تو اب تک مسنگ پرسنز کی فہرست میں ہوتا۔ نہ کسی نے ان بڑے بھائیوں کو غدار کہا تو نہ کسی نے خطاب پہ پابندی کی بات کی۔بڑے تھے نا۔کچھ نہ ہوا۔واھ رے بڑے تیرا بڑا نصیب۔

بقلم ۔ جے آر زیدی

خلیفۃ الاسلامیہ الباکستان

untitled pic2

مملکت خداداد کی خوش نصیبی کہ وسائل سے بھرپور خطہ ارض ملا۔ دلیری جن کا خاصہ ٹہری وہ لوگ تقدیر سے مکین بنے لیکن بدنصیبی کے بزدل اور مصلحت پسند ایوان ملے۔لیاقت علی خان کے بعد سے اب تک کوئی مرد حکمران اس ملک کو نصیب ہی نہ ہو پایا۔اور عوامی سطح پہ جس نے بےباکی اختیار کی وہی معتوب و غدار ٹھرا۔

ہمارے ملک میں دہشت گردوں کے حمایتی کالم لکھ کر جواز فراہم کرتے ہیں اور ہمارے حکمران دشمن کا نام لینے سے کانپتے ہیں دھشت گردی سے برسر پیکارہیں۔لیکن دھشت گردوں کے نام لینے سے جان جاتی ہے۔ دنیا میں دشمن کا تعین ہوجائے تو اعلان جنگ بابانگ دہل کیا جاتا ہے۔دنیا کےعظیم لیڈران جنگ کے فیصلے دلیری سے کیا کرتے ہیں ۔ ‏ایسے فیصلوں میں اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی گنجائش نہیں ہوتی، جبکہ ہماری لیڈر شپ کا حال یہ ہے کہ جس دشمن کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے ‏اس کا نام لیتے ہوئے یوں شرماتے ہیں جیسے پرانے وقتوں میں نئی نویلی دلہنیں اپنے شوہر کا نام لینے سے شرمایا کرتی تھیں۔خدا بھلا کرے قاعد متحدہ قومی موؤمنٹ کا جنھوں نے اس دفعہ پھر آنے والے خطرے کے بارے میں پریس کانفرنس کرکے ہم سب کو آنے والے خطرے سے آگاھ کردیا۔جس کا نام داعش ہے جس کا نام ISIS ہے اور اسی کا نام ISIL ہے۔

unnamed 2

قلیل سے عرصے میں ان کے آپس کے بے شمار اختلافات بھی سامنے آچکے ہیں۔صرف نام میں حرف L اور S کے استعمال پہ اختلاف سامنے آچکا ہے کہ ایک گروپ لفظ سیریا  کا استعمال چاہتا تھا جبکہ دوسرا لیوینٹ یا شام کا لفظ استعمال کرنا چاہتا تھا اور اس جھگڑے میں سینکڑوں قتل ہویے ہیں۔

آئی ایس آئی ایس مخفف بنتا ہے اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینٖڈ سیریا۔اس کا وجود بظاھر تو تین چار  سال قبل القاعدہ سے اختلاف کے سبب بنتا نظر آتا ہے لیکن کچھ عراقیوں کے مطابق یہ سنی انتھا پسندوں کا وہ گروپ تھا جو عراق میں شیعت کے قتل عام کیلیے صدام حسین نے امریکی ایماء پر تشکیل دیا تھا۔پھر صدام کے دور ہی سے یہ گروپ القاعدہ میں ضم ہوچکا تھا اور مختلف ممالک میں  القاعدہ کا پولیٹیکل سسٹم میں سپورٹیو اینڈ بننا ان کی ناراضگی کا سبب بنا۔

چند سال  قبل ہی ان کا قیام ہوا انھوں نے شام وعراق میں اپنے آپ کو اسلامی حکومت سے متعارف کرایا.اور اس فرقے کی شہرت چار حروف والے کلمہ”داعش”سے ہوئی.اور یہ چاروں حروف چار ممالک کی طرف نشاندہی کرتے ہیں.جس کی زعامت اور سرداری کے پیچہے یہ لوگ لگے ہوئے ہیں.ان عاشقان ملک وخلافت میں سے کوئی ابو فلان الفلانی ہے تو کوئی ابو فلان ابن فلان ،کوئی اپنے شہر تو کوئی اپنے قبیلہ کی طرف منسوب ہے جیسا کہ بد باطن اور مجہولین کا طریقہ ہوا کرتا تھا
سوریا کی موجودہ جنگ کے ایک مدت گزرنے کے بعد اس فرقہ کے بہت سارے لوگ حکومت سے عدم جنگ کے نام پر شام میں داخل ہوئے.مگر ان لوگوں نے حکومت کے برسر پیکار سنیوں کا کھلم کھلا خون بہایا.ان کی ایسی خونریزی کی،اور چاکو سے ایسے ذبح کیا جس سے سن کر روح کانپ جاتی ہے.

اسی سال شروع رمضان میں اس باطل فرقے نے اپنا نام تبدیل کرکے”الخلافہ الاسلامیہ”رکہہ لیا.تاکہ اس کا دائرہ وسیع کیا جاسکےاور اس فرقہ کے خلیفہ جس کو ابوبکر البغدادی کہا جاتا ہے “موصل” کی ایک مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے کہا:”میں تمہارا والی متعین کیا گیا ہوں،حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں

موصل عراق کے شمال میں ایک مشہور شہر ہے۔ یہ دریائے دجلہ پر آباد ہے اور زیادہ تر کرد لوگوں پر مشتمل ہے۔

اور مذکورہ جملہ جس کو بغدادی نے اپنے خطبہ کے دوران دہرایا ہے یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس کو سب سے قبل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو کہ اس امت کے سب سے پہلے خلیفہ تہے انہوں نے اپنی خاکساری اور تواضع کی بنیاد پر کہا تہا۔

لیکن یہاں بات تو سچ ہے وہ محکوم سے بہتر نہیں ہے.اور اس امت کا حاکم بھی نھیں اس لیے کہ اگر اس کے حکم اور اس کے ایما پر یہ قتل وخون کیا گیا ہے اور انسانوں کو بیل بکریوں کی طرح ذبح کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی.تو یقینا یہ اس کا بد ترین فعل ہے.

یہ تو ہوئی مختصر سی بات اس فتنے کی اور اس خطرے کی جس کی نشاندھی الطاف حسین نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کی۔لیکن اس پریس کانفرنس کے بعد تو گویا سوشل میڈیا کو بھی زبان ملگئی کئی ٹی وی اینکرز اور سیاسی شخصیات اسلامک اسٹیٹ کے فتنے کے حوالے سے بات کرتے نظر آئے کافی ساری تصاویر بھی ٹوئٹ ہوئیں جن میں سے چند کو دیکھ کر پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ ایسی ہی ایک تصویر گلشن معمار کی پولیس چوکی کی آئی کہ آئی ایس آئی ایس کی چاکنگ واضح ہے اور ایسی ہی ایک پکچر میاں محمد نوازشریف و شھباز شریف کے عزیز از جان شہر لاہور سے آئی۔جب کینال روڈ پہ کنال ویو سے ڈاکٹر ہاسپٹل تک بجلی کے ہر کھمبے پر اسلامی اسٹیٹ کے اسٹیکرز چسپاں ہیں۔

unnamed 1

untitled pic1

صحیح تو کہا تھا الطاف حسین نے کہ یہ کیا روز روز کا ڈرامہ لگایا ہوا ہے۔ چھپتے بھی نھیں اور سامنے آتے بھی نہیں۔ دینا ہے تو کھل کے ایک دفعہ پاکستان کو ان کے حوالے کردیں تاکہ قتل عام تو رکے۔ اور اگر لڑنا ہے تو علی العلان  لڑا جائے۔جو لڑ رہے ہیں اور جنھوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں نچھاور کی ہیں ان کے لہو کا سودا نہ کیا جائے۔بلکہ ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کاوقت ہے۔ پچھلے پانچ سال جو نوٹنکی سجی رہی وہی نوٹنکی اب بھی سجی ہے۔لگتا یہ ہے کہ میرے منہ میں خاک ہم اپنا ضرب عضب وزیرستان میں جیت چکے ہیں لیکن اسلام آباد ہار چکے ہیں ہم   سرینڈر کرچکے ہیں۔اور اب تو دنیا میں کہیں بلواسطہ تو کہیں بلاواسطہ تیل کی کمائی کا راج قائم ہوچکا ہے۔چاہے داعش کے نام سے ہو یا القاعدہ کے نام سے۔لیکن حاکم اب وہی ہیں۔

اگر پاکستان کی اساس سلامت ہے  اور واقعی وجود سلامت رکھنا ہے تو فوری طور سے جنوبی پنجاب و سینٹرل پنجاب میں فی الفور ایمرجنسی نافذ کرکے آپریشن کیا جائے۔پاکستان کے ہر مدرسے کے مکمل اندراجات کئے جائیں۔یہ پتہ لگایا جائے کہ جنوبی پنجاب کے گاؤں میں کل تک کی توٹی پھوٹی مساجد اچانک کیسے عالی شان تعمیر ہوگئیں اور ہمیں نظر رکھنی ہوگی کہ اب یہ سنسان علاقوں میں قائم مدارس و مساجد کس کے زیر اثر ہیں۔ہمیں نظر رکھنی ہوگی کہ کراچی گلستان جوہر کی لال مسجد کا امام اچانک ٹوٹی ہوئی سائیکل سے لینڈ کروزر میں کیسے آگیا۔ہمیں بالائی سطح سے نچلی سطح تک موثر اور جامع حکمت عملی اور عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

بقلم: جے آر زیدی

@JunaidRaza01