واھ رے بڑے تیرا بڑا نصیب

PTI-blog

الیکشن کے نتائج آچکے تھے۔تحریک انصاف پنجاب و خیبر پختونخواھ سے نشستیں لے چکی تھی۔ادھر بھارت کے الیکشن کے نتائج بھی آچکے تھے ۔ وفاق میں بی جے پی تو دھلی میں آم آدمی پارٹی کو نشستیں ملی تھیں۔جتنا شور شرابہ پاکستان میں تحریک انصاف کا تھا اتنا ہی چرچہ بھارت میں آم آدمی پارٹی کا تھا۔ایسے میں کسی کی لکھت نظر سے گذری تھی جس میں انہوں نے تحریک انصاف کو پاکستان کی عام آدمی پارٹی قرار دیا تھا۔انٹرنیٹ کی دنیا میں کافی چرچہ ہوا تھا اس لکھت کا۔

یہ جس کسی نے لکھا تھا سچ ہی لکھا تھا۔ہم اس وقت بھی تحریک انصاف کوپاکستان میں آم آدمی پارٹی جیسا ہی تصور کرتے تھے۔اور اپنی رائے پہ آج تک قائم ہیں۔پھر وقت نے ثابت کیا اور دونوں پارٹیوں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات و حادثات بھی کم و بیش ایک سے ہی رہے۔دوسرے  انتخابی  مرحلے میں آم آدمی پارٹی کو شکست ہوئی تو ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف اپنی ہی نشستیں ہار گئی۔

آم آدمی پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے ایک، شازیہ علمی نے یہ الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ مٹھی بھر لوگوں نے اروند کیجریوال کو گھیر رکھا ہے اور پارٹی میں اختلاف رائے اور اندرونی جمہوریت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔بعد میں شازیہ علمی کو منایا گیا۔شازیہ علمی کو مدر آف آپ بھی کہا جاتا رہا۔تو بالکل ایسی ہی صورحال تحریک انصاف میں ممی پکاری جانے والی محترم فوزیہ قصوری کے ساتھ پیش آئی دونوں کا بنیادی جھگڑا ٹکٹ نہ ملنےکا تھا دونوں کے الزامات بھی ایک جیسے ہی رہے۔میڈم قصوری نے بھی عمران کے گرد لوگوں پہ خوب تنقید کی۔

اس کے بعد پارٹی کے تین بڑے چہروں میں سے ایک یوگیندر یادو نے بھی اندرونی جمہوریت کے سوال پر پارٹی کے سیاسی امور سے متعلق کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔تو پاکستان میں باغی بنے عمران کیلئے داغی اور جاوید ھاشمی نے بھی استعفی دیا اور سنگین الزامات لگائے۔

جس طرح بات بے بات اروند کیجر یوال نے دھرنے کی سیاست کی کہ صفائی کے انتظامات پہ دھرنا پولیس کے خلاف دھرنا مہنگائی کے خلاف دھرنا اسٹیٹ سے ہر وقت کی محاذ آرائی تو پاکستان میں عمران نے مھنگائی کے خلاف دھرنا تو ڈرون کے خلاف دھرنا تو نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا۔دھاندلی کے خلاف دھرنوں کی سیاست کو فروغ دیا۔لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں سیای جماعتوں  کے کام کاج کے طریقے سے متوسط طبقہ بدظن ہوا ہے کیونکہ اسے مستقل احتجاج کی سیاست پسند نہیں آتی۔

دونوں ممالک کے سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے ’ہر بات پردھرنے پر بیٹھنے اور سب کو بے ایمان قرار دینے کی پالیسی کا منفی اثر ہوا ہے اور عام آدمی پارٹی یا تحریک انصاف  کو اگر سیاسی اکھاڑے میں پیر جمانے ہیں تو انہیں حکمرانی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اور اس کے لیے اسے بدعنوانی کے خلاف اپنی کامیاب تحریک کو ایک فعال سیاسی جماعت میں تبدیل کرنا ہوگا‘

بنیادی تنقید آپ پہ اس بات پر بھی ہے کہ ’اروند کیجریوال ہی عام آدمی پارٹی ہیں‘ اور مایاوتی، ملائم سنگھ، ممتا بنرجی اور جیا للتا کے انداز میں ہی اپنی پارٹی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

خان سے منحرف لوگ جاوید ہاشمی ہوں یا امان اللہ نیازی وہ بھی عمران کے ون مین شو بننے سے شاکی رہے اکثر ناراض کارکنان کہتے پائے گئے کہ عمران بھی زرداری و نوازشریف کی طرح اپنی پارٹی چلارہے ہیں۔سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی صرف نام کی ہے فیصلے تو سارے عمران کو اکیلے ہی کرنے ہوتے ہیں۔عمران پہ بھی ڈکٹیٹر بننے کے الزامات آئے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں پارٹیاں بہت جلدی اور بہت زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لڑکھڑائیں جبکہ پہلے انہیں اپنی پالیسیوں اور کام کاج کے قواعد و ضوابط کو واضح شکل دینی چاہیے تھی نظم و ضبط سے عاری اور دونوں جماعتوں کی اپروچ نان میچیورڈ  ہی رہی۔ایک کو دلی میں تو ایک کو کے پی کے میں حکومت ملی نہ یہاں عمران خان  کوئی نیا کے پی کے نہ بنا پائے اور فلاپ رہے (وجوھات کوئی بھی ہوں)تو دلی میں کیجریوال ناکام ہوئے۔کیجریوال نے ۴۹ اننچاس دن میں استعفے دیئے لیکن عمران یہاں سال کھینچ گئے۔لیکن استعفے یہاں بھی آئے۔

عمران کے پی کے میں تو کیجریوال دھلی میں فلاپ ہوئے۔دونوں جماعتوں کے ووٹروں کے اعتماد کو دھچکا لگا۔فرق اگر رہا تو صرف مزاج یار کا رہا۔کیجریوال کو اپنی غلطیوں کا اندازہ چند ماھ میں ہوگیا اور کیجریوال نے اپنے مستعفی ہونے اور ناکام ہونے پہ قوم سے معافی مانگی جبکہ یہاں عمران کو شاید ابھی تک طرز سیاست پہ کوئی پشیمانی و شرمندگی نہیں۔بھارت میں ذاتی انا کو پس پشت ڈالا گیا اور بھارتیوں کے بھلے میں فیصلے لیئے گئے جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس رہا اور تاحال ہے

آج عمران خان کی مثال اس  بڈھے کی سی ہے کہ جس سے تنگ آکر اس کے بچے اسے گھر سے نکال دیتے ہیں اور وہ گلی کے نکڑ پہ بیٹھ کے ہر آنے جانے والے سے لڑتا ہے۔محلے کی مائیآں اس سے تنگ ہوتی ہیں کبھی یہ بڈھا پانی پہ لڑتا ہے تو کبھی بچوں کے گیند سے کھیلنے پہ پتھر اٹھا لیتا ہے۔غرض اس کا وقت دماغی خرابی کے سبب صرف لڑنے میں ہی گذرتا ہے۔عمران بھی ن لیگ سے لڑلیئے تو زرداری سے لڑلیئے ایم کیو ایم سے لڑپڑے اور تو اور محترم اپنی کیفیت کے سبب جماعت اسلامی تک سے لڑپڑے۔

اور اب تو خدا خیر کرے کہ عمران کےکنٹینر سے تیس نومبر کی دھمکیاں بھی کھلے عام دی جارہی ہیں۔آج تو شیخ رشید احمد و عمران کی طرف سے مارو مرجاؤ جلادؤ گرادو کے جملے بھی سننے کو ملے۔کھلم کھلا تشدد کی ترغیب کے جواب میں تو ہم صرف یہ ہی کہ پائے کہ شیخ صاحب و خان کی خوشقسمتی کہ تعلق پنجاب سے ہے  ایک کا میانوالی تو دوجہ پنڈی سے ہے۔ورنہ اگر یہی بات اور اسی طرز پہ الطاف حسین کہ دیتے یا ایسے ہی کسی طریقے سے بابا حیدر زمان یا کوئی بلوچ رہنما کہ چکتا تو قیامت آچکی ہوتی۔میڈیا بار بار کلپس دکھاتا تو پولیس و رینجرز چڑھائی کرچکی ہوتی اور یہ بات کوئی بلوچ یا اردو اسپیکنگ کہ دیتا تو اب تک مسنگ پرسنز کی فہرست میں ہوتا۔ نہ کسی نے ان بڑے بھائیوں کو غدار کہا تو نہ کسی نے خطاب پہ پابندی کی بات کی۔بڑے تھے نا۔کچھ نہ ہوا۔واھ رے بڑے تیرا بڑا نصیب۔

بقلم ۔ جے آر زیدی

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s