کب راج کرے گی خلق خدا

image

ہم ایسی ریاست کے غلام ہیں جو رات ہمیں پانی کی چوکیداری کراتی ہے صبح کے الیکٹرک کے دفتر کھڑا کراتی ہے اور پھر سی این جی کی لائن میں گھنٹوں لگواتی ہے۔سو ہم بھی انہی اصولوں پہ چلتے ہو کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر قطار میں کھڑے تھے روڈ پہ بے ہنگم ٹریفک جام تھا کہ کانوں میں آواز پڑی ‘گو نواز گو’ اور فوراً ہی اس کے جواب میں جو آواز سماعت سے ٹکرائی کہ ‘گو زرداری گو’۔۔ جو غور کیا تو پتا چلا کہ دو عدد اسکول وینز آمنے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں۔بچے دو مختلف اسکولوں کے تھے اور ایک دوسرے کا استقبال ان استقبالیہ نعروں سے کررہے تھے۔

اس میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ عمران و طاہرالقادری نے اندرون سندھ سے بلوچستان  تک و پنجاب سے خیبر پختونخواھ تک ایک جاگ پیدا کی ہے لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کی ہے کسی بھی عام آدمی سے بات کریں تو اپنی بربادی کا ذمہ دار وہ یا تو نوازشریف کو گردانتا ہے یا زرداری کو مختصراً وہ ان  کو چور گردانتے ہوئے اور  برداشت کرنے پہ تیار نہیں…

عام آدمی کے نزدیک مملکت ارض پاک پہ تین تین چار چار بار وفاقی و صوبائی حکومتیں قائم کرنے کے باوجود یہ اشرافیہ اس ملک کو بھوک ٖافلاس ٖ غربت ٖبے روزگاری و دھشت گردی کے عذابوں کے علاوہ اور کچھ نہ دے پائی۔ان کے خاندانی مفادات ہمیشہ ہی ملکی و قومی مفادات پہ مقدم ٹہرائے گئے۔کسی نے  پٹواری کلچر تو کسی نے کرپٹ و ڈکیت کلچر اس معاشرے کو تحفے میں دیئے۔  اس شریف زرداری اشرافیہ نے اپنا اولین مقصد پاکستان سے لوٹنا اور بھاگنا ٹہرایا۔یہ امیر سے امیر ہوتے رہے عام آدمی غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گذارنے پہ مجبور رہا۔ قصہ مختصر ایک عام آدمی کے نزدیک یہ آج اس  پاکستان کے لئے دیمک کے مانند ہیں۔

ایسی صورتحال میں عمران  خان و طاہرالقادری کی تبدیلی و انقلاب کے نعروں پہ پنجاب کے نوجوانوں نے لبیک کہا ہے۔تبدیلی کی یہ آواز اب نظام کی تبدیلی کی آواز بن چکی ہے۔عمران خان کا دھرنا جاری ہے طاہرالقادری کے جلسے جاری ہیں۔پہلی بار پنجاب سے متوسط طبقے کی قیادت کو آگے لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔اختیار سب کے لیئے کے نعروں کی گونج ہے۔

آج جس تبدیلی کی بات کرتے عمران خان نظر آتے ہیں اور اِس جاگیردارانہ سرمایہ دارانہ سسٹم کے خلاف نبزدآزما طاھرالقادری نظر آتے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان نظریات کے بیج   کو بونے والی شخصیت الطاف حسین ہے۔متوسط طبقے سے پڑھے لکھے لوگوں کو ایوان میں بھیجنے والا پہلا آدمی ٖ اس نظام کا پہلا باغی الطاف حسین ہے۔آج اپنے اندر سے قیادت نکالنے کے جس فلسفے کو طاہرالقادری عام کرتے نظر آتے ہیں اس کو عملی جامہ الطاف حسین نے کئی بار پہنایا۔جس خاندانی سیاست کے خاتمہ کی خواہش کرتے عمران اور طاہرالقادری نظر آتے ہیں وہ خاندانی و موروثی سیاست سندھ کے شہروں میں نظر نہیں آتی۔کیونکہ کراچی حیدرآباد میرپور خاص سکھر میں اس موروثی سیاست کا قاتل الطاف حسین ہے۔نظام کی تبدیلی تو بے شک نہ ہو پائی لیکن موروثی سیاست کا خاتمہ ہوا ٖ متوسط اور غریب گھروں کے پڑھے لکھے لوگ مئیر ٖ ممبران پارلیمنٹ و سینیٹرز بنے۔آج کراچی حیدرآباد میں ایک عام آدمی کی پہنچ میں اس کا ایم پی اے ایم این اے ہے۔شہری سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اپنے ووٹر کیلئے الیکشن کے موسم کا پھل نہیں بنے بلکہ ان کے درمیان میں ہی پائے گئے۔ہاں نظام تبدیل نہ ہوپایا لیکن مثبت پولیٹیکل کلچر ضرور رقم ہوا۔تبدیلی کے ثمرات جو آنے چاہیئے تھے وہ نہ آپائے جس کی وجہ سسٹم کا جاگیردارانہ و فرسودہ ہونا ہے صد فیصد نہ سہی لیکن کسی حد تک تبدیلی آئی ہے۔

آج پنجاب و خیبر پختونخواھ میں خان صاحب و ڈاکٹر قادری کی آواز پہ سہی تبدیلی کی خواہش پہ لوگ نکلے ہیں۔متوسط طبقہ گھروں سے نکل کر ڈی چوک پہ جمع ہوا ہے پڑھے لکھے لوگ اب حکومتوں کی نہیں نظام کی تبدیلی کی بات کررہے ہیں اور سچ ہے کہ یہ جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے کہ ملک میں چیف الیکشن کمشنر کیلئے ڈھونڈے کوئی نیک شہرت آدمی میسر نہیں۔

تبدیلی  کی آرزو تو ہے پر تبدیلی نہیں تبدیلی کی ضرورت بھی ہے پر تبدیلی نہیں۔ تبدیلی کے نام پہ اسلام آباد و لاہور جام ہوگیا پر تبدیلی نہیں آئی۔سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جب میدان بھی ہے خواہش بھی ہے ضرورت بھی ہے جذبہ بھی ہے جستجو بھی ہے پھر تبدیلی کیوں نہیں آرہی۔آخر کمی کیا ہے ¿

تبدیلی کے طلبگاروں کے پاس اگر کمی ہےتو کراچی اور کراچی کے جذباتی مگر ڈسپلنڈ پولیٹیکل ورکر  کی کمی ہے۔تبدیلی کے طلبگاروں کے پاس سندھ کے شھروں کی کمی ہے اور تاریخ شاھد ہے کہ جب جب حکومتوں کے خلاف تحاریک چلیں تو اس وقت تک کامیاب نہ ہوپائیں جب تک کراچی نے ہراوّل دستے کا کردار ادا نہیں کیا۔لاہور یا پنڈی کے بند ہونے سے حکومتیں کبھی نہیں گئیں۔کراچی جو بند ہوا بڑے بڑے لوگ بند ہوئے۔

تبدیلی کی خواہش اس وقت تک دیوانے کا خواب رہے گی جب تک کراچی اور اسکی نمائندگی ڈی چوک پہ نہ اترے کراچی کی شمولیت تبدیلی کے جلوس میں اتنی ہی ضروی ہے جتنی  اس ملک کیلئے تبدیلی

بقلم ۔ جے رضا زیدی

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s