سلام اے راھ حق کے شہیدوں‎

unnamed

موت سب کو مات دیتی ہےلیکن شہید موت کو مات دیتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ شہید کی موت درحقیقت اس کی قوم کیلئے حیات کا درجہ رکھتی ہے۔کسی بھی شہید کے جسد کو تو شاید فنا ہو لیکن اس کی روح اس کا دوام اور اس کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہتا ہے۔شہدا کی زندگیوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی زندگانیاں اغراض و مقاصد سے بھرپور ہوتی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ جو اقوام اپنے شہیدوں کو فراموش کردیتی ہیں انہیں زمانہ بھلا دیتا ہے اور جو اقوام ان کے دیئے سبق کو فراموش کردیں ان اقوام کی داستانیں داستانوں میں بھی نہیں ملا کرتیں۔+

ہرسال کی طرح ۹دسمبر متحدہ قومی موؤمنٹ اور اس کے کارکنان یوم شہداء مناتے ہیں۔اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد ان شہداء کو خراج تحسین ہے جنہوں نے راھ حق کے حصول  کیلئے اپنی زندگیاں ہاریں جنہوں نے غلامی کے طوق کو قبول نہ کیا۔کچھ گمنام راہوں میں مارے گئے کچھ بند گلیوں میں مارے گئے کچھ کی لاشیں مل پائیں تو چند بے نام ہی انجان پہاڑیوں پہ دفن ہوئے۔بشری زیدی ہوں یا شہید وفا عظیم احمد طارق ؍فہیم فاروقی ہوں فاروق پٹنی ہوں یا شہید انقلاب عمران فاروق ہوں انہوں نے زندگیاں ہار کر اپنی قوم کو زندہ جاوید کیا۔اپنا آج ان شہیدوں نے اپنی قوم کے کل پہ وار دیا

یہ عظیم المرتبت وہ لوگ تھے کہ جنہوں نے باطل قوتوں کے آگے ؍باطل اسٹیبلشمنٹ کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا۔یہ اپنے آپ کو فرزندان وطن منوانا چاہتے تھے لیکن کسی باطل کے ہاتھ پہ بیعت کرکے مراعات لیکے بکنے پہ تیار نہ تھے ۔یہ اس سسٹم کے باغی تھے کہ جس میں ۶۰؍۸۰؍۱۲۰گز میں رہنے والے غریب و متوسط طبقے کا حاکم کوئی صنعتکار کوئی وڈیرا کوئی سردار کوئی سرمایہ دار ہو۔یہ اپنا تشخص اجاگر کرنے نکلے تھے۔یہ اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی آواز تھے۔

ہم نے چوروں لٹیروں ڈاکوؤں کا گنہگار اشتہاری ہونا سنا تھا لیکن ان بانیان پاکستان کی اولادوں کے گنہگار اور اشتہاری ہونے کیلئے اتنا بہت تھا کہ یہ مہاجر تھے ان کی کوئی شناخت نہ تھی کوئی فرذندان وطن ان کو تسلیم کرنے پہ تیار نہ تھا۔ یہ الطاف حسین کے دئیے نظریے کے علمبردار تھے۔اور نظریہ کے خالق سے بے وفائی پہ آمادہ نہ تھے۔یہ وفا کی تصویر تھے۔ان کا جرم یہ تھا کہ یہ پوچھتے تھے کہ ہربار آگ ہمارے ہی گھر میں کیوں لگتی ہے ہر بار صرف ہم کیوں اجڑتے ہیں۔ان کا سوال ان کا جرم تھااور جب انہوں نے سوال کیا تو سروں کی قیمتیں لگیں اور نتیجتاً یہ غداروطن ٹہرے۔

آج اردو اور اردو بولنے والوں کی شناخت ان ۲۵۰۰شہیدوں کا صدقہ ہے۔یہ  جگمگاتا شہر ان کی شہادتوں کا ثمر ہے۔یہ ان شہیدوں کی قربانی اور قاعد سے وفاداری کا صلہ ہے کہ متوسط طبقے کے عام اردو بولنے والے آج اراکین پارلیمنٹ ہیں۔

یہ شہادتیں سبق ہیں حق گوئی کا سچائی کا نظم و ضبط کا ایمانداری کا شجاعت کا۔ یہ شہادتیں سکھاتی ہیں کہ برے سے برے حالات میں بھی عزم سفر جوان ہو منزلوں پہ نظر ہو اپنے رہبر پہ یقین ہو تو اقوام کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ان کی شہادتوں کو حقیقی خراج تحسین یہ ہے کہ اپنی ذاتی انا کو فنا کرکے اچھے برے تمام حالات میں حق گوئی ؍ سچائی ؍خدمت اور وفاداری کو اپنا شعار بنایا جائے۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s