اب اٹھنا ہوگا اب لڑنا ہوگا

اسد کے والد کیوں رد کرتے۔اکلوتے بیٹے کی فرمائش تھی بابا میرے لئے بیٹ بال لاکر رکھنا میں کھیلوں گا۔خضر اور احسن نے بھی تو نئے کپڑوں کی فرمائش کی تھی۔کسی نے اپنی ماں سے لال گڑیا مانگی تھی اور لال خان کی بیوی نے تو اخروٹ کا حلوہ تیار رکھا تھا۔زینب کو پسند جو بہت تھا۔

IMG_20141216_151140_3905

لیکن یہ کیا ماں باپ تو گڑیا،بیٹ،گیند سب لے آئے لیکن بچوں کہاں ہو۔کوئی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی دیوار سے لگا رو رہا ہے تو کوئی دیوانہ وار اپنے بچوں کو پکاررہا ہے۔ٹی وی نے ابھی تک صرف ایک میل ٹیچر ایک فوجی جوان اور نوے کے قریب(۹۰) بچوں کی شہادت رپورٹ کی ہے لیکن سو سے زائد ماں باپ چاک گریباں بچوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔کوئی تو غم بانٹے ہائے میرے علی اصغر کو ماردیا ظالموں میرا ایک بچہ اندر ہے۔ماؤں کی آہ و بکاء باپ کا رونا کچھ کام نہیں آرہا۔کچھ کام نہیں آرہا۔آپریشن ابھی جاری ہے۔اندر بھی دہشت گرد ہیں ایک روتی ماں کو روتا ہوا سپاہی روکنے کی کوشش کررہا تھا۔

لیکن ہم یہ سوچنے پہ مجبور ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ماں باپ کی  سالہا سال کی محنت کو تابوتوں میں بند کردیا گیا۔یہ کونسا اسلام ہے یہ کونسا مذہب ہے۔یہ مثال تو چنگیز خان اور ھلاکو خان کی ارواح کو بھی تڑپا جائے گی۔دنیا کا کوئی مذہب اس بربریت کی اجازت نہیں دیتا۔  وزیرستان میں تو ایک امریکی کتا بھی نہیں مرتا۔ لیکن ہم پاکستانیوں کے بچے مرجاتے ہیں۔دہشت گرد اپنا ہدف امریکی کیوں نہیں رکھتے کیونکہ وہ تو کہتے تھے کہ یہ ہماری جنگ نہیں یہ امریکہ کی جنگ ہے۔لیکن مرنے والے امریکی نہیں ہوتے۔مرنے والے اسرائیلی نہیں ہوتے مرتے تو ہم ہیں۔ہمارے بچے مرتے ہیں۔دہشت گردوں کا ہدف ہر دفعہ مسجد ، مدرسے اور اسکول ہی کیوں ہوتے ہیں۔دہشت گرد فحاشی کے اڈوں کو کرپٹ سیاستدانوں کو جوئے کے اڈوں کو شراب خانوں کو نشانہ کیوں نہیں بناتے۔

راھ حق ، راھ نجات ،ضرب عضب ہم نے ۵۰،۰۰۰سے زائد فوجی و سول جوان قربان کردیئے۔لیکن آج بھی کچھ لوگ اس کو ہماری جنگ ہی ماننے پہ تیار نہیں۔کوئی بتائے کہ آرمی پبلک اسکول میں مارنے والے کیا ہندو تھے،یہودی تھے کیا تھے یا یہ سب مسلمان تھے۔آج ۸۵/۸۸ مسلمان مائیں اپنے بچوں کو اپنے پہلوؤں میں نہ پائیں گی۔ کون ذمہ دار ہے۔ اور کون مددگار۔

آج وقت ہے کہ ہم اپنی سیاسی و مذہبی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کے ایک عزم نو کریں ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوں اب بہت ہوگیا۔خدا کیلئے یہ میرے بچے تھے یہ آپکے بچے تھے یہ ہمارے بچے تھے۔پہلے ہمارے بچوں کو مارا پھر ان کی لاشوں کی تضحیک کی گئی۔یہ ہمارے جنازے تھے۔

یہ جنازے کراچی لاہور کوئٹہ میں بھی ہوسکتے تھے۔اب اٹھنا ہوگا اب ہر ایک کو لڑنا ہوگا نہیں تو کل زد پہ وہ ہوں گے جو آج شاید نہیں

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s