آزادی اظہار یا فتنہ آزادی

پچھلے دنوں فرانس کے شہر پیرس میں دو حملہ آوروں نے گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والے میگزین کے دفتر میں گھس کے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ۱۳ہلاکتیں ہوئیں۔ہر طرف سے مذمتی بیانات دیئے گئے۔صدر مملکت و سرتاج عزیز صاحب نے بھی مذمتی بیانات دئے۔چالیس سربراہان مملکت پیرس پہنچ گئے اور ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا۔دنیائے صحافت نے خوب کور کیا۔اس حملے میں گستاخانہ خاکے بنانے والا چارلی بھی مارا گیا۔جی ہاں ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے۔دنیا میں کسی کو بھی کسی کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا۔لیکن کسی بھی واقعے کی بنیادی وجوہات کو ختم کئے بغیر اس کی روک تھام ممکن نہیں۔

پچھلے کافی سالوں سے مغرب پہ انتہا پسندی کا بھوت سوار ہے۔دنیا کی انتہا پسندی پے شور کرنے والا مغرب اپنی انتہا پسندی پہ چپ سادھ لیتا ہے۔ٹیری جونز ہو یا چارلی ایبڈو نامی کارٹونسٹ یا دیگر وہ تمام افراد جو گستاخانہ کارٹونز بنا کر شہرت پاتے ہیں۔ان کا نظریہ آزادی اظہار رائے ہے۔لیکن یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ جو تمام حدیں عبور کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتی ہے۔اس ہستی کا معاز اللہ خاکہ بنایا جاتا ہے مذاق بنایا جاتا ہے کہ جن پر مر مٹنے کا جذبہ ہی ایک مسلمان کا مقصد ہوتا ہے۔یہ کیسی فریڈم آف اسپیچ یہ کیسی آزادی اظہار ہے کہ ملکہ کا خاکہ نہیں بن سکتا،ہولو کاسٹ کا خاکہ نہیں بنایا جاسکتا کسی پوپ کا کسی سینٹ کا لطیفہ نہیں بن سکتا لیکنمسلمان امہ کے آقا و مولی جن پہ ہمارے ماں باپ آل  اولاد قربان ان کے خاکے بنیں گے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزواکانومسٹ نے لکھا کہ چارلی ایبڈو کا اسلام مخالفت و گستاخی مقدسہ کے حوالے سے ایک طویل ریکارڈ ہے۔دوسال قبل گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے اس میگزین نے ۵۵صفحات پہ مبنی ایک کتابچہ بھی شائع کیا تھا۔اور آج مورخہ ۱۴جنوری بروز بدھ گستاخانہ خاکوں کی تین لاکھ کاپیاں یہی ادارہ چھاپ رہاہے جو کہ بانٹی جائیں گی۔

یورپ اصل بات جانتے بوجھتے اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم امہ کو اور ان کی مقدس کتاب کو مورد الزام دے رہا ہے۔پوری دنیا کے مسلم حاکم تو بے غیرتی کے کیپسول کھا کر پڑے ہوئے ہیں لیکن مراکش کے صدر نے ملین مارچ کی دعوت کو یہ کہ کر ٹھکرادیا کہ میں نبی کے گستاخ کے حق میں اٹھنے والی آواز ہیں بن سکتا۔

سوال یہ ہے کہ اگر یورپ اپنےجذبات کو سمجتا ہے تو کیوں دوسرے کے جذبات کو جذبات نہیں سمجھتا جو آزادی اظہار یورپ کو ہے وہ آزادی اظہار مشرق کو کیوں نہیں۔یورپ نسل پرستی کے کیلئے قوانین بناسکتا ہےمنی لانڈرنگ کےقوانین ہوسکتے ہیں تو یورپی یونیئن یورپ کے مسلمانوں کا خیال کرتے ہوئے گستاخی پہ قانون کیوں نہیں  بناتی۔ایسے خاکے بنانے والوں کے خلاف جرمانہ ہو اور سزا ہو۔یورپ کو قوانین بنانے پڑیں گے۔اگر یورپ ان گستاخیوں کی روک تھام نہیں کرسکتا تو ہمیں مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ پھر ایسے واقعات بھی نہیں رک سکتے۔ہمارے حکماء بشمول ممنون حسین نے مذمتی بیان تو دے دیا لیکن یورپی عمل کی مذمت کسی صورت زبان پہ نہ آئی۔سو ان سے تو کوئی امید نہیں لیکن میری تمام پولیٹیکل پارٹیز سے درخواست ہے کہ ایک ریلی نکالی جائے کہ جس میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی جائے۔وہ مسلم لیڈران جو یورپ و امریکہ میں رہتے ہیں یا اثر رکھتے ہیں  وہ یورپ کو سمجھائیں کہ یہ عمل کا ردعمل ہے اور اگر عمل نہ روکا گیا تو ردعمل کا رکنا بھی محال ہے۔جب یورپ میں بحث ہوسکتی ہے تو ان کی مادر پدر آزادی پہ یہاں بھی بحث ہوسکتی ہے۔ہم کیوں معذرت خواہانہ  رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ہم مسلماں ہیں ہم کومرنا بھی ہے اور جان بھی اس پروردگار کو لوٹانی ہے جس کی عطاء ہے۔تو کیوں نہ ہم  وجہ کائنات ،مخر موجودات کیلئے اپنی اپنی آواز اپنے اپنے طور پہ بلند کریں کیونکہ یہ خاصہ ایمانی ہے

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s