انتہائی معذرت کے ساتھ

کراچی آپریشن کم و بیش دو سال سے جاری ہے اور اسکو دیہی اور شہری دونوں منتخب قیادتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔۔ٹارگٹ کلنگ و دیگر جرائم کی وارداتوں سے کراچی کی روشنیاں ماند پڑتی جارہی تھیں یہ آپریشن حقیقتاً عوامی مطالبہ تھا  جسے سیاسی قیادت نے نافذ کیا۔بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے پیش نظر اسکے دورانئے میں مستقل اضافہ ہوئے چلا جارہا ہے۔

کراچی بدامنی کیس میں ورڈنگ آئی کہ علاوہ مسلم لیگ ن کے تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں جن کو فوری ختم کیا جائے۔سپریم کورٹ کے پریشر پہ پچھلے دور حکومت میں شروع ہونے والا آپریشن پیپلز پارٹی کے موجودہ دور میں اپنے شباب پہ ہے۔اس آپریشن کو ایم کیو ایم کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ہر مفاہمتی اجلاس کے بعد آپریشن کو جاری رکھنے پہ اتفاق ہوتا ہے۔
لیکن آج تک ہمیں تو اس آپریشن کالائن آف ایکشن ہی سمجھ نہ آسکا۔ ہمیشہ ہی ایسا محسوس ہوا کہ اتنے بھرپور عوامی،عدالتی مطالبے کے نتیجے میں شروع کیا گیا آپریشن  بغیر کسی حکمت عملی کے نافذ کردیا گیا۔ کچھ ایسا لگتا ہے کہ بس آپریشن شروع کرکے ہماری سیاسی قیادت نے اپنے سر سے بَّلی اتاری ہے۔(ادبی معذرت کے ساتھ)

دنیا میں جب بھی کہیں عوام الناس کی فلاح میں بضرورت امن اس طرز کے آپریشن اپنے ہی ملک میں کئے جاتے ہیں تو ان کیلئے مربوط و مضبوط حکمت عملی تیار کی جاتی ہے تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔وہ حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروے اور عوام محاذ آرائی کا شکار نہ ہوں بلکہ ملکی ادوروں کے وقار میں اضافہ ہو۔ادارے امن کے ضامن بنیں خلق خدا کے محافظ بنیں۔اداروں کے وقار اور عمل کی ذمہ داری سو فیصد صرف سیاسی قیادت کی ہوا کرتی ہے۔ ایسی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ ریاست کے ناراض لوگ قومی دھارے میں شامل ہوں ناجائز اسلحہ سرکاری تحویل میں جمع کرایا جائے۔معافیاں دی جاتی ہیں۔پیکجز اناونس ہوتے ہیں۔ابھی پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں یوسف رضا گیلانی صاحب نے حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا تھا۔جس کو بلوچ سرداروں کے آگے اس وقت کے پیپلز پارٹی کے ایم این اے نبیل گبول نے بڑی سی سفید پگ لگا کے پیش کیا تھا۔کئی اربوں کا پیکج تھا سینکڑوں نوکریاں تھیں۔معافیوں کے اعلانات تھے۔ہنرمندوں کو آسان قرضے تھے۔خود زرداری صاحب نے بلوچ قوم سے ارض پاک کی طرف  سے معافی مانگی تھی۔اور اسکے فواعد ہوئے تھے اتنے نہ ہوپائے جتنے متوقع تھے لیکن ہوئے تھے۔طلال بگٹی، شاھ زین بگٹی ، مینگل خاندان اس پیکج کے بعد ہی قومی دھارے میں شامل ہوئے۔یہ میڈیا پہ بھی نظر آنے لگے۔ان رہنماؤں کے انداز سیاست بدلے اور بی ایل اے کی کاروائیوں میں بہت حد تک کمی آئی۔ آئے دن کی گیس پائپ لائن کا دھماکے سے اڑائے جانے میں نمایاں حد تک  کمی آئی تھی۔ بزنجو صاحب بھی اسی دور میں نرم پڑے تھے۔

اسی طرح بھارت و افغانستان کی مثالیں ہیں۔بھارت نے سکھوں کی تحریک آزادی کے خلاف جب آپریشن کیا تو پہلے مراعات کا اعلان کیا لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا دیش آپکا ہے دیش کی سرکار آپکی ہے آپکو آپکا حق ملے گا۔ریاست نے اپنا اعتماد بحال کیا۔دیش بھگت فملیں بنیں جن میں ریاستی اداروں کے وقار کو بلند کیا گیا اور پھر آپریشن بھی ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت اپنے باغیوں پہ قابو پانے میں کامیاب رہا۔اور آج افغانستان بھی اپنے شدت پسندوں کو مراعات دے کر معافیوں کا اعلان کرکے ترقی کی ڈگر پہ چلتا نظر آرہا ہے۔

سب کو چھوڑیں خود میاں محمد نوازشریف نے جب ۹۲کا کراچی آپریشن شروع کیا تھا تو اس میں بھی مراعات تو نہ تھیں پر  تیس دن کا ایک وقت دیا گیا تھا کہ جو جو ناجائز اسلحہ جمع کرادے گا۔اس سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔اس میں توسیع بھی ہوئی تھی۔ایک ٹاسک تھا جو ریاست کیلئے بھی تھا اور عوام کیلئے بھی۔بے شک اس پہ عمل نہ ہوسکا اندرون سندھ کیلئے شروع کیئے جانے والا آپریشن کراچی ہی میں محدود کردیا گیا۔صوبائی سطح تک آتے آتے آپریشن متنازعہ ہوگیا۔اور بری طرح ناکام ہوا۔

ناکامی کی وجوہات ہوا کرتی ہیں۔وہ نوّے کی دہائی تھی۔اس وقت محاذ آرائی کی سیاست تھی۔بغیر صوبائی خود مختاری کے کٹپتلی صوبائی حکومتیں تھیں۔لیکن آج تو مفاہمت کی سیاست ہے۔صوبے بھی بہت حد تک خود مختار ہیں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔لیکن آج بھی کراچی آپریشن حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہے۔

خدا عقل دے مقتدر حلقوں کو جو بغیر کسی لائحہ عمل کے میدان میں کودے ہوئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام میں غلط فہمیوں اور فاصلوں کی دیوار حائل ہوتی جارہی ہے۔اداروں کا وقار مجروح ہورہا ہے اور اسکی ذمہ دار سیاسی قیادت ہے۔آج جو آبزرویشن ہے کہ ۳پیپلز امن کمیٹی کے مارے گئے تو ۳ایم کیو ایم کے کارکنوں کی لاشیں آئیں اس کے بعد ۱سنّی تحریک کا مارا گیا تو ایک امامیہ کا ماردیا گیا۔ہماری عقل سے یہ ریاستی رویّہ ماورا ہے۔

ہمارے یہاں اسکروٹنی کا کائی نظام نہیں سچ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں میں کرمنل ہیں۔اس شہر کی سیاست میں تشدّد کا عنصر بھی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں بھارت یا اسرائیل کی نہیں پاکستان کی ہی ہیں۔اس میں موجود ورکر بھی پاکستانی ہیں اور ان میں شامل کرمنلز بھی پاکستانی ہیں۔جو ادارے آپریشن میں شریک ہیں وہ بھی پاکستانی ہیں۔سیاسی ایف آئی آرز بھی ہیں اور حقیقی ایف آئی آرز بھی ہیں لیکن کوئی پلاننگ نہیں ہے۔گدھے گوڑھے ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جارہے ہیں۔جس کا نتیجہ اداروں کا وقار مجروح ہورہا ہے۔

دنیا میں گولی کے زور پہ جرائم ختم نہیں ہوا کرتے۔گولی کے نتیجے میں فرد کی موت ہوتی ہے سوچ کی نہیں۔ریاست کے موجودہ رویّوں سے غدار پیدا ہوں گے۔کرائم کو کرائم سے ختم کرنے کی پالیسی کہیں بھی کبھی بھی مستقل بنیادوں پہ کامیاب نہیں ہوئی۔خدا کی قسم دل خون کے آنسو روتا ہے جو کسی گینگ وار کے ملزم کی یا کسی ڈکیت کی بھی ماورائے عدالت قتل کی اطلاع آتی ہے۔کیونکہ  کرمنل بنتا تو ریاست ہی ذمہ دار ہوا کرتی ہے۔جتنے بھی سیاسی جماعتوں کے کرمنلز ہیں یہ ماں کے پیٹ سے کرمنل نہیں بنے۔یہ ہمارے ہی معاشرے کی دیئے زخموں و محرومیوں  کے نتائج ہیں۔اور بھلے قاتل ہی کیوں نہ ہو فسادی ہی کیوں نہ ہو زندہ ہے تو اسے سدھرنے کا حق ہے۔دنیا بھر میں بھوک ہی مجرم بناتی ہے۔اگر معاشرے کی ضروریات پوری کردی جائیں تو مجرم در مجرم بننے کے سلسلے کو روکا جاسکتا ہے۔ریاست جرم ختم کرنے کی سعی نہیں کررہی مجرم ختم کرے جارہی ہے۔

ریاست ایک پالیسی واضح کرے ناجائز اسلحہ سرکار کے پاس رضاکارانہ کیسےجمع ہو۔ کچھ سیاسی مقدمات کی معافیاں ہوں روزگار دیا جائے اور پھر دبنگ طریقے سے اعلان کیا جائے کہ تم سب کو مواقع دیئے گئے جو جو سدھر گیا قومی دھارے میں سوچ تبدیل کرکے آگیا سو بسم اللہ ورنہ اسٹیٹ کے باغی سے جنگ ہے۔ہم دیکھیں گے کہ پھر کیسے عوامی حمایت آئے گی اور اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ بحال ہوگی۔امن کی جوت جلتی نظر آئے گی۔اور نہیں تو پھر یہی ادارے اور دس سال بھی لگے رہیں مجرم تو ختم ہوتے رہیں گے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔نتیجہ تباھی سیاسی جماعتوں کی ، ریاستی اداروں کی اور پاکستان کی اس  تباہی کے ذمہ داران میں مورخ تمام سیاسی قیادت کے نام صرف سیاھ حروف میں ہی لکھےگا۔