سیاسی ایکسپریس

کافی سارے دنوں کی غیرحاضری کی معذرت کے ساتھ لکھنے کی جسارت کررہے ہیں۔۱۱مارچ ۲۰۱۵کو نائن زیرو ریڈ ہوئی اور ۱۲مارچ کو ہم اپنے ہی گھر سے اغواء ہوگئے اور تاوان کی رقم دے کر واپسی ہوئی۔ جس کے اثرات دماغ پر کم و بیش بارہ پندرہ دن تک رہے۔اس واقعے کا مفصل ذکر انشاءاللہ جلد ہی لکھیں گے۔فی الحال اس کیس پر ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ صاحب  کی ٹیم کام کررہی ہے دیکھتے ہیں کیا نتیجہ آتا ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ ایم کیو ایم کے کراچی میں کمزور ہونے سے جرائم پیشہ افراد کی چاندی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ کراچی کے حرامی (معذرت کےساتھ) اور حلالی کے بیچ میں ایک دیوار ہواکرتی ہے جسے عام آدمی ایم کیو ایم کہتا ہے۔بحرحال لیکن یہ حل نہیں ہے۔حل تو یہی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ ہم ان پہ ناز کرسکیں۔

سیاست بہت زیادہ فاسٹ فارورڈ چل رہی ہے دن بدن نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ صورتحال تبدیل ہوتی جارہی ہے۔پیپلز پارٹی سینٹ کی چیئرمین شپ کیا جیتی کہ اس دن سے ایک عجیب سا بھونچال ہے۔نائن زیرو ریڈ پھر صولت مرزا کی ویڈیو پھر اچانک عذیر بلوچ کا بیان اور مشہور ماڈل ایّان علی کا پکڑا جانا اور بہت سارے وزراء اور سابق وزراء کے ناموں کا سامنے آنا۔ تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بظاہر نظر آتی انڈراسٹینڈنگ کا ہونا اچانک سے میڈیا و سوشل میڈیا پہ ۲۰۱۵کی حقیقی بننا  اور پھر اچانک تحریک انصاف کی ٹیپ ٹیلی فون کال نہ صرف لیک ہوئی بلکہ منظر عام پہ بھی آگئی۔اور تو اور ہفتہ ۲۸مارچ کی صبح  تین بجےالطاف حسین کی طرف سے ایک ویڈیو کا دکھایا جانا اور اس کے نتیجے میں اچانک پورے ملک میں ایک خاموشی اور سکوت کی سی کیفیت کا طاری ہوجانا۔ یہ سب کچھ اتنا جلدی میں ہورہا ہے کہ ایک موضوع پہ بحث شروع بھی نہیں ہوپاتی کہ نیا موضوع تیار ہوتاہے۔

تیسری دنیا کا المیہ ہی یہ ہے کہ دنیا میں جب جب اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتیں سر اٹھایا کرتی ہیں ان کے سر کو جھکایا جاتا ہے۔ان کی پرواز کی ایک حد مقتدر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مقرر ہوتی ہے وہ حد جیسے ہی پھلانگی جاتی ہے تو ایسے ہی واقعات رونما ہوتے ہیں جیسے اب ہمارے ارض پاک میں ہورہے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پر امن کراچی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔نائن زیرو اور اسکے اطراف میں اگر مطلوب افراد تھےتو رینجرز پولیس کی ریڈ ہوتی دہشت گرد پکڑے جاتے عوام اور ایم کیو ایم والے پاکستان رینجرز زندہ آباد کے نعرے لگاتے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کیونکہ ایم کیو ایم پہ ایک مستند الزام تو یہ بھی تھا اہل سیاست کا کہ ایم کیو ایم پرو آرمی پرو اسٹیبلشمنٹ  جماعت ہے یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو پاک آرمی کیلئے اظہار یکجہتی کے جلسے منعقد کرتی ہے یہ پاکستان آرمی کے ہر آپریشن کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔لیکن ہوا اس کے برعکس۔جبکہ ان کے آپسی تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور سنہ ۲۰۰۰سے ہوئی دوستی اچانک ہی تبدیل ہوتی نظرآئی۔

اب اچانک سے ایک پراسرار سی خاموشی ہے۔آصف علی زرداری صاحب کی کوئی بہت مفصل گفتگو الطاف حسین صاحب سے ہوئی ہے جبکہ فاروق ستار کی سربراہی میں وزیراعظم سے بھی ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔عمران خان دوبارہ دھرنے کی دھمکی دے چلے ہیں۔جوڈیشل کمیشن کے نام پہ عمران خان کو مِلا این آر او بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم والا پھڈا بنیادی طور پر ساس بہو کا جھگڑا ہے۔محلے کی لگائی بجھائی کرنے والی عورت کا کردار اس وقت  جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ادا کررہی ہے کہ ائے ہائے بہن تمہاری بہو تو یہ کہتی تھی اور یہ الزامات لگاتی تھی جبکہ دوسری طرف دوسری عورت بہو کو کھ رہی ہےکہ تمہارے آنے سے تمہاری ساس خوش نہیں تھیں یہ تو ہونا ہی تھا۔لیکن انجام ایسی عورتوں کا ہمیشہ سے ہی ذلت مقدر رہا ہے کیونکہ بالآخر ساس بہو کو رہنا ایک ہی چھت کے نیچے ہوتا ہے اب ان کی مرضی لڑ کررہیں یا پیار محبت سے رہیں۔ان کو بالٓاخر مل ہی جانا ہوتا ہے۔

سب سے اہم پیش رفت جو پچھلے چار دن میں ہوئی ہے کہ میاں محمد نوازشریف کےپی کے پہنچے اور ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اور پیر صابر شاھ بہت زیادہ متحرک ہوئے۔دوسری جانب آصف علی زرداری اپنے پختون ایم پی اے  اختر جدون کے کراچی میں واقع گھر خود چل کر گئے اور مولانا فضل الرحمن سے بھی اکیلے کی مفصل ملاقات کی۔الطاف حسین نے بھی اپنے رات تین بجے والے حالیہ خطاب میں بھی پختونوں کو بار بار یاد کیا اور کہا کہ کے پی کے مجھے بلارہا ہے۔الطاف حسین کا بار بار پختونوں اور بلوچوں کی بات ایسے وقت میں کرنا جب کہ کراچی ہی غیر یقینی کا شکار ہو بہت معنی خیز ہے۔یہ تمام باتیں اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ کہیں کچھ پک رہا ہے اور جو کچھ بھی ہے اب کے ہنڈیا کےپی کے میں چڑھے گی ایک سیاسی پیشن گوئی کرتے چلیں کہ سیاسی پریشر اب شاید خیبر پختون خواھ کا گھر کرے اور ہمیں کافی سیاسی ہلچل شاید اب خیبر پختونخواھ میں نظر آئے۔

غیر متنازعہ کراچی آپریشن ناگزیر ہوچلا تھا کراچی پچھلے چھ سال سے مستقل بدامنی کا شکار رہا ہے موجودہ آپریشن کا مطالبہ تو خود ایم کیو ایم کا تھا لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ ہم نے حالیہ دور میں ابھی تک کسی اور سیاسی جماعت کے سربراھ یا مرکزی دفتر پہ کوئی چھاپا نہیں دیکھا جبکہ سپریم کورٹ کی ورڈنگ یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگزہیں لیکن ابھی تک صرف ایم کیو ایم پہ ہی برائی نظر آتی ہے باقی تو دنیاجیسی تھی ویسی ہی ہے۔ان رویوں نے آپریشن کو متنازعہ بنادیا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے وقار کو مجروح ہونے سے بچائیں اور غیر متنازعہ کردار ادا کریں اسی میں ملک و قوم کی حقیقی فلاح پوشیدہ ہے۔

چلتے چلتے زکر زندہ لاشوں کا کہ عمران کہتے ہیں الطاف حسین زہرہ شاہد کا قاتل ہےاور الطاف  کا ٹیلیفونک خطاب زندہ لاشیں سنتی ہیں لیکن دوران دھرنا خود عمران و ان کے اسپوکس مین عارف علوی صاحب اپنے مفادات کی خاطر  رات تین بجے تک اسی الطاف حسین کے فون  کا انتظار کرتے رہے تو زندہ لاش کون ہوا۔اور تو اور لندن رابطہ کمیٹی کے اراکین کی تو سالگرہ کی مبارکبادینا تک نہیں بھولتے۔کیا کہیں ہ واھ رے منافقت تیرا ہی آسراء۔ ہماری خان صاحب سے گزارش ہے کہ بڑا لقمہ کھالیا کریں لیکن بڑے بول نہ بولا کریں۔بڑے بولوں کا انجام قدرت بڑا بھیانک دکھایاکرتی ہے

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s