ووٹ کسے دیا جائے

jjjj

بالآخر این اے 246 کی انتخابی مہم اختتام پذیر ہوئی۔جتنی شدت اور حدت اس حلقے کے ضمنی انتخاب کو حاصل رہی اتنی پاکستانی تاریخ میں کسی اور حلقے کے ضمنی انتخاب کو حاصل نہ ہوئی۔اس سے قطعہ نظر اسکی وجوہات کیا تھیں اور جو تھیں وہ حقیقی تھیں یا مصنوعی لیکن اب یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا نتیجہ یقیناً بہت معنی خیز ثابت ہوگا۔اسکے اثرات پاکستانی سیاست پہ بہت گہرے ہوں گے۔

ووٹ ایک مقدس امانت ہے۔ووٹ کے ذریعے ہم اپنے مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔عمومی انتخاب ہو یا ضمنی انتخاب ووٹ لازمی کاسٹ کیا جائے تاکہ شکوے شکایتوں کا،ایوان بالا تک اپنی بات بزور پیار و بزور ناراضگی پہنچانے کا حق تو سلامت رہے۔ہمارے نزدیک جو لوگ ووٹ کو اہمیت نہیں دیتے ووٹ نہں کاسٹ کرتے انہیں کسی قسم کے شکوے کا بھی پھر حق نہیں ۔

ووٹ جیسی امانت کا حق ہے کہ اسے اسکے میرٹ پہ کاسٹ کیا جائے۔ووٹ دیتے ہوئے فرض ہے پاکستان اور اس حلقے کے جہاں انتخاب ہورہا ہے مفاد کو مقدم رکھاجائے۔پاکستان کو اسٹیٹسکو کی ضرورت ہے یا عام آدمی کی۔یہ خیال رکھا جائے کہ ووٹ اسے دیں جو دوبارہ پانچ سال کے بعد نہیں بلکہ آپ کو اپکی ضرورت کے وقت میسر ہو۔جو تعلیم یافتہ ہو جس کی سوچ تعلیم یافتہ ہو۔جو ہماری آپکی نسلوں کی ترقی کا ضامن ہو۔ووٹ دیتے ہوئے پاکستان کے مفاد کو فوقیت دی جائے کیونکہ ملکی پالیسی آپکے ووٹ کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں تشکیل دی جاتی ہے۔

انتہا پسندوں کی سیاست کو ووٹ دینے کے بعد اعتدال و بھائی چارے کی فضاءکا متلاشی بننا پاگل پن ہی کہلایا جائے گا۔اس لیئے ووٹ دیتے ہوئے سوچیں کہ ان کو ووٹ دیا جائے جنہوں نے ارض پاک و افواج  پاک  کی توہین کی یا انہیں جنہوں نے پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے اور افواج پاکستان کیلئے پنڈال سجائے۔انہیں ووٹ دیا جائے جو ہمارے بچوں کو اپنے مفادات کی جنگ میں جھوکیں جو پاکستان جیسے ملک میں بھی قتال کا درس دیں یا انہیں ووٹ دیا جائے جو روشن خیالی و برداشت کا درس دیں۔ انہیں ووٹ دیا جائے جواپنے بچوں کو تو آکسفورڈ میں پڑھائیں یا انہیں جن کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ اسکولوں میں پڑھیں۔

گر کراچی کو کراچی کرنا ہے تو ووٹ دیتے ہوئے دھیان رہے کہ کہیں ووٹ انہیں نہ پڑ جائے جو ضرب عضب کی مخالفت کرتے رہے اور ہمارے بچوں کے قاتلوں کے یار رہے۔ووٹ انہیں دیا جائے جو کرمنل کارکن کو دہشت گرد و کسی بمبار کو اپنا بچہ یا ناراض بچہ کہ کر پالنے کی سعی کرتے رہے یا انہیں جو کرمنلائزیشن کے فروغ کی نشاندہی کرتے رہے۔انہیں جو طالبانائزیشن کے حامی ہیں یا انہیں جو ان ظالموں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے لواحقین ہیں۔ووٹ دیتے ہوئے ذہن میں رکھیں کہ کس نے الیکشن کیلئے موقف بدلا ہےکس نے نہیں تاکہ مفادات کی سیاست کا پردہ چاک ہو۔ خیال رہے کہ آپ جسے ووٹ دیں وہ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو لازمی رکھے کیونکہ پاکستانی جمہوریت میں اراکین ایوان بالاء چار چار مہینے بھی غیر حاضر رہے جس سے کہ عوامی ووٹ کی توہین ہوئی۔اور ایسے اراکین ہر دور میں رہے ہیں۔

ووٹ کسی کو بھی دیں لیکن آپ کا ووٹ پاکستان اور آپکی اپنی تقدیر ہوگا جو آپ اپنے ہاتھ سے لکھیں گے۔ووٹ اس سنی کو دیں جو شیعہ جلوسوں کے گرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے حفاظتی حصار بنائے نہ کہ کہیں ووٹ انہیں پڑے جن کے خوف کی بدولت آج کراچی کے گلی کوچے میلاد مصطفی ﷺ کو ترس رہیں ہیں۔ یقینی بنائیں کہ ووٹ ان کو پڑے جو مسجدوں کیساتھ کیساتھ امام بارگاہوں جماعت خانوں گرجاگروں و مندروں کے محافظ بنیں نہ کہ وہ جو گرجا گھروں کو مندروں کو اور مخالف مسلک کی مسجد کو بھی جلادیں۔ اس پاکستان کو اعتدال پسندی و روشن خیالی کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج اعتدال پسند و روشن خیال مسلمان قیادت کی ضرورت ہے نہ کہ ایسوں کی جن کی وجہ سے اللہ کے پیارے دین کا آج چہرہ مسخ ہورہا ہے۔

ووٹ کا حقدار وہ ہے جو ماں بہن بیٹی کے تقدس کا خیال رکھے ووٹ دیتے ہوئے خیال رہے کہ ووٹ بچوں کے تحفظ کو پڑے تقدیس دختر کو پڑے حرمت اجداد کو پڑے۔ووٹ ان کو پڑے جو آرمی پبلک اسکول کے بچوں کو شہید مانیں نہ کہ حکیم اللہ محسود کو۔۔ ووٹ انہیں دیں جن کے بنائے ہسپتال و یونیورسٹیاں عام آدمی کیلئے افورڈیبل ہوں عام آدمی کی دسترس میں ہوں نہ کہ جن کے اداروں کی فیسیں تک قابل استطاعت نہ ہوں۔
ووٹ اپنے جیسے عام آدمی کو پڑے کیونکہ پاکستان کا عام آدمی ہی اٹھانوے فیصد ہے۔اور ارض پاک کی ترقی کی ضمانت بھی اسی  ۹۸فیصد کا بااختیار ہوناہے

ایم کیو ایم ،تحریک انصاف جماعت اسلامی میں سے جو جماعت اور اسکا امیدوار آپ کو اس معیار پہ پورا اترتا ملے  ووٹ اسے دیں۔

چلتے چلتے اب میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے میں ووٹ لفظ مہاجر کو پڑے گا چاہے کسی کو بھی پڑے کیونکہ تبدیلی تو آگئی کہ خان صاحب آدھے مہاجر ہونے کا اعلان کرچکے ہیں اور آج جماعت اسلامی کے امیدوار نےاپنے تعارف کے دوران میں جماعتی مہاجر ہوں کہ کر کرایا اور اسی سے ملتا جلتا سوشل میڈیا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔عجب سی بات ہےجب ووٹ ڈالنا بھی مہاجر کو ہے اور مانگنے والے بھی مہاجر کے نام پہ ووٹ مانگ رہے ہیں تو یقینا آدھے مہاجر یا جماعتی مہاجر کو ووٹ کیوں پڑے۔ کیونکہ ووٹر کو تو کوئی تبدیلی ہی نہیں ملی۔ یہاں جلسے سجانے والے رہنما ایف بی ایریا و لیاقت آباد کے ووٹر کو سندھی پاکستانی نہ کہ سکے نہ کہلواپائے بلکہ اس کیبجائے خود ہی مہاجر بن گئے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے حساب سےآدھے مہاجرازم کو جنرل الیکشن جتنے آدھے ووٹ بھی پڑتے فی الحال تو نظر نہیں آرہےآگے اللہ جانے۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s