ایک بال پہ چار وکٹیں

کراچی کا ضمنی انتخاب برائے این اے ۲۴۶ ہوہی گیا۔اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حسب روایت متحدہ قومی موومنٹ ۹۵۸۰۰ ووٹ لیکر کامیاب رہی۔تحریک انصاف کم و بیش ۲۰ہزار ووٹ لیکر دوسرے اور ۸۰۰۰ووٹ لیکے جماعت اسلامی ضمانت ضبط کراتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہی۔کراچی کے اس ضمنی انتخاب کے بارے میں کہا اور لکھا جارہا تھا کہ اس کا نتیجہ ملکی سیاست کے افق پہ انتہائی اہم کردار نبھائے گا۔

ہم نے عمران خان صاحب سے بارہا سنا ہے کہ ایک بال پہ دو دو وکٹیں گرنے والی ہیں۔حال ہی میں آپ نے میرپور آزاد کشمیر میں بھی اسی قسم کی بات کی تھی۔لیکن ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ بال تو ہوئی پر وکٹ کوئی نہ گری۔اگر ایک وکٹ بھی گرجاتی تو کم از کم  آج نواز شریف وزیر اعظم تو نہ ہوتے۔ہاں خان صاحب آوٹ ہے کی اپیل کا شور ڈالتے ائمپائر کی طرف منہ کرکے چلاتے تو پائے گئے پر ائمپائر کی انگلی کھڑی کرانے میں ہمیشہ ہی ناکام رہے۔ سیانے عمران خان کو سمجھایا کرتے تھے کہ یہ کرکٹ کی نہیں سیاست کی پچ ہے۔یہاں ایک بال پہ کئی کئی وکٹیں بھی گراکرتی ہیں لیکن آپ کے کھیلنے کا انداز ہی صحیح نہیں آپ سیاست کی پچ کے بولر ہی نہیں۔ سیاسی بالر کیسا ہونا چاہیئے یہ ہم نے  اس ضمنی انتخاب کے سیاسی گراونڈ کی پچ پہ دیکھا۔ہم سب نے دیکھا کہ ایم کیو ایم نے ایک بال پہ چار وکٹیں لیں۔پہلی وکٹ تحریک انصاف دوسری جماعت اسلامی تیسری وکٹ اسٹیبلشمنٹ اور اسی گیند پہ میڈیا بھی کلین بولڈ ہوا۔

نبیل گبول کے استعفے سے جو کہانی شروع ہوئی تھی اس کہانی میں بےشمار کردار ادا ہوئے۔الزامات و داستان امیر حمزہ شروع ہوگئی۔صولت مرزا کارڈ استعمال ہوا۔ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر پہ چھاپہ مارا گیا سو سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔حتہ کہ پوری کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو اٹھایا گیا اور کراچی میں ایک نیا دھندا شروع ہوگیا۔روزانہ رات ۸سے ۱۱ مختلف ٹی وی چینلز کا کام صولت مرزا کی تحقیق رہ گیا۔اور یہ صولت مرزا کارڈ تاثر ایسے قائم ہوا کہ ہماری جیلوں میں ایسے قیدی بھی ہیں کہ کہ جنہوں نے مخالفت مسلک کی بنیاد پہ ۱۰۰/ ۲۰۰ قتل کئے اور پھانسی کے منتظر ہیں لیکن ان کے کسی فیملی ممبر کا کوئی بیان کبھی نہیں چلا ان میں سے کسی کی ویڈیو نہیں بنی۔اس بات سے قطعی نظر کہ پھانسی کے منتظر بندے کے بیان کی قانونی حیثیت کیا ہے لیکن یہ کارڈ بھی استعمال ہوا۔حتہ´ کہ  ایم کیو ایم کے کارکن کو زندہ لاشیں اور اردو بولنے والوں کو کالا کلوٹا کہکر تضحیک کی گئی اور تیسرے درجے کے شہری ہونے کا احساس دلایا گیا۔جیب میں شناختی کارڈ نہ ہونے پہ ہندوستانی کہ کر اٹھایا گیا۔کہ کلرڈ یا فوٹو کاپی کو بھی قبول نہ کیا گیا۔اردو بولنے والوں کو ریئس امروہی مرحوم کا شعر ایسے میں ضرور یاد  آیا ہوگا کہ
’’ہر عہد کی شہریت سے محروم
ہر شہر میں بے وطن ہیں ہم لوگ ‘‘

پاکستان کی تاریخ میں یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔شہید بی بی صاحبہ نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست بھی کی اور ۸۸میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ الیکشن بھی جیتا۔میاں محمد نواز شریف بھی ۸  سال جلاوطنی کی زندگی میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہے اور ۲۰۰۲ اور ۲۰۰۷کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف پہ الیکشن بھی لڑا اور بہت زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کی۔خود ایم کیو ایم پہ یہ وقت ۹۲سے ۹۹تک رہا ہے۔لیکن آج میڈیا کچھ زیادہ ہی آزاد ہے پہلے ٹرائلز عدالتوں میں چلا کرتے تھے اب پہلے میڈیا پہ ہوا کرتے ہیں پھر کہیں اور۔

سب ہی کا ماننا ہے کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا شہر ہے یہاں کے باسی وقت کے دھارے میں نہیں بہاکرتے یہ اپنی سوچ رکھتے ہیں اور چیزوں کو پیمانوں پہ تول کے وزن دیا کرتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ووٹ کی خاطر جب میانوالی کے پٹھان بھی مہاجر بن گئے تو یہ منافقت والی سوچ رد ہوئی۔اور ویسے بھی کراچی کی تاریخ ہے کہ کراچی نے پاک فوج کیلئے اظہار یکجہتی کے جلسے تو منعقد کئے لیکن ایمپائر کی انگلی پہ کبھی ڈانس نہیں کیا۔ائمپائرکے ساتھ فکس میچ کبھی نہیں کھیلا۔جب بھی کھیلا میرٹ پہ کھیلا۔سو کراچی نے اس بار بھی اپنے آپ کو ڈی میرٹ نہیں کیا۔

اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ تبدیلی کے نعرے اور صولت مرزا کارڈ و میڈیا ٹرائل اور چھاپوں سے ایم کیو ایم کے گراف میں اضافہ ہوا ہے۔۲۰۱۳میں کاسٹ کیئے گیئے ووٹوں میں سے متحدہ کو ۷۲% کاسٹ ہوئے تھے جبکہ اس دفعہ ۷۸%ووٹ متحدہ کو پڑا۔ لگتا کچھ ایسا ہے کہ سونامی لیاقت آباد کی ندی میں بہ چکا ہے۔ اس نتیجے کے نتیجے میں اب جوڈیشل کمیشن اور اسکے فیصلے کی حیثیت ثانوی سی رہ گئی ہے۔ڈی چوک پہ وزیراعظم کو گھسیٹنے سے لیکر  پی ٹی وی حملہ اور چار حلقوں کا ڈرامہ بھی پاکستانیوں کی سمجھ آچکا ہے۔یہ منہ کی فائرنگ کا انجام سیاست میں یہی ہوا کرتا ہے جو آج تحریک انصاف کا ہے کہ ایمپائر فون اٹھانے پہ بھی تیار نہیں۔

چلتے چلتے خان صاحب اور سلیم ضیاء صاحب یاد رکھیں کہ زندہ لاشیں اور یہ کالی کلوٹی قوم کے افراد ہیں میاں محمد نوازشریف نہیں۔نہ یہ وزیراعظم ہیں نہ ان میں غلط کو برداشت کرنے کی صلاحیت انہیں زندہ لاشیں بولیں گے کالا کلوٹا بولیں گے تو ساری عمر یہ آدھے مہاجر آدھے نامعلوم کو یونہی نشان ذلت بناتے رہیں گے جب کسی کو لفظ فرعون بولو تو پھر جواباً حرام خان جیسے لفظ کو بھی  برداشت کرنا سیکھیں۔کیونکہ کراچی نے ثابت کردیا کہ

؂’’دھجیاں جیب و گریباں کی نہ اڑنےدیں گے
بے  خبر  لاکھ  سہی  پھر  بھی خبردار ہیں ہم‘‘

image

میری وزیر اعظم صاحب سے اور دیگر ن لیگی رہنماوں سے درخواست ہے کہ سلیم ضیاء اپنے القابات کی معافی مانگیں ورنہ سوچیں کہ کشمیری سرخ و سفید سیب کالے کلوٹوں کے پاس کس منہ سے آئیں گے۔اب الیکشن ختم ہوچکا ہےآپ بڑے بھائی ہیں بڑے بنیں۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s