سیاسی شریف ایکسپریس

رمضان المبارک میں بھی پاکستانی سیاست میں ٹہراو نظر نہیں آرہا۔نوازشریف اور راحیل شریف کے دور میں جہاں جیو رمضان شریف نشر کررہا ہے اس بات کی امید جڑ پکڑتی جارہی ہے کہ کچھ عرصے میں شریف بھی ایک ذات ہوا کرے گی۔جیسے بھٹو،لغاری،ملک،چوہدری اور شاید اب شریف۔جو سندھ کی تاریخ سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سندھ میں تو ذاتوں کے نام تبدیل ہو ہی جایاکرتے ہیں۔اور خودبخود چند پشتوں بعد نئی ذاتیں جنم لیاکرتی ہیں۔جیسے بھٹی سے بھٹو،خرداری سے زرداری،کلہوڑو سے عباسی،اب شاید ایک نئی ذات کا ظہور اس پاکستان میں وقوع پذیر ہونے جارہا ہے۔لیکن دلچسپ صورتحال جب پیدا ہوگی جب مورخ شجرہ لکھے گا اس شجرہ کی شاخیں کون کون سے ممالک میں جائیں گی یہ دلچسپ بات ہوگی۔فی الحال ہر آدمی کو حسب خواہش شریف ہونا مبارک ہو۔

اس ہفتے شدید گرمی اور اوپر سے سیاسی گرماگرمی دونوں کے اثرات ٹرپنگ ہی کی صورت میں سامنے آئے۔کے الیکٹرک کے پی ایم ٹی اور چند اہم وزراء کے فیڈر ٹرپ ہوتے دیکھے گئے۔لیکن قابل افسوس بات یہ رہی ۶۸سال گذرنے کے باوجود اردو بولنے والے کو حب الوطنی کےسرٹیفیکیٹ  کی آج بھی ضرورت ہے۔ارض پاک کیلئے مسلم اقلیتی صوبوں کی بیس لاکھ جانوں کی قربانی دینے والوں کی تیسری نسل تک کو انڈین ایجنٹ ہونے کا طعنہ دیاجانا پاکستان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے شرمناک ہے۔لیکن یہ طعنہ ایک اہم سوال جنم دے گیا ہے کہ پھر پاکستانی کون ہے¿کیونکہ بلوچوں کو انڈین فنڈنگ ہےایرانی فنڈنگ ہے وہ غدار ہیں اردو بولنے والے انڈین جبکہ پشتو افغانی ایجنٹ ہیں تو پاکستانی کون ہوا۔

بی بی سی پہ لندن پولیس کے ترجمان کا بیان ہو،نائن زیرو ریڈ کے نتیجے میں پکڑے گئے افراد کی عدلیہ سے رہائی ہو یا سو ۱۰۰دن ریمانڈ کے باوجود عامرخان کی رہائی ہو ان تمام باتوں سے یہ بات سچ ہی ثابت ہوئی کہ ایم کیو ایم سچ کہ رہی تھی کہ اسکے خلاف صرف میڈیا ٹرائل ہے۔کیونکہ حقیقی ٹرائل میں تو کچھ بھی ثابت نہ ہوسکا۔یہ سب کچھ ایم کیو ایم اور اسکی قیادت کیلئے کچھ نئی بات نہیں جب جب انکی ضرورت ہوتی ہے ان سے امور سلطنت چلوالئے جاتے ہیں اظہار یکجہتی کے جلسے منعقد کروائے جاتے ہیں اور جب ضرورت نہیں ہوتی غدار وطن اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیاجاتا ہے۔سندھ کے شہری علاقوں کے اردو بولنے والے اب ان باتوں کےاتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ان پہ لگے اس طرح کے الزامات ان کے نزدیک لطیفے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ لطیفہ ہی تو ہے کہ ایک صوبائی وزراء کے گھر چھاپے پڑیں تو دو دو ارب ملیں ایک ایس بی سی اے کے ڈی جی پہ اربوں کے الزام ہوں لوگوں کی ڈالروں سے بھری لانچیں پکڑی جارہی ہوں وہاں ایم کیو ایم انڈین فنڈنگ بھی لے رہی تھی تو صرف ۸/۱۰کروڑ روپے سالانہ اس سے کہیں زیادہ تو خدمت خلق فاونڈیشن (کے کے ایف)زکوۃ جمع کرتی ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ کا تو سامان ہرسال جناح گراونڈ کے کے ایف کے پروگرامز میں بٹ جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے طارق میر صاحب اگر انڈین فنڈنگ کے بجائے اگر کے کے ایف سے ہی لون لیتے تو کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔دوسرا قابل غور لطیفہ یہ کہ انڈین ایجنسی ۹۲سے بذریعہ چیکس فنڈنگ کررہی تھی جبکہ ۲۰۰۶میں پہلی بار کوئی ملاقات یا تعارف ہوا تو انڈین ایجنسی چودہ سال کسے فنڈنگ کرتی رہی۔اور یہ دنیا کی واحد یوتھیا ایجنسی ہے جو بذریعہ چیکس فنڈنگ کرتی ہے اور جسے انڈینز فنڈنگ کرتے رہے اس کا گورنر چودہ سال سے ہر حکومت اور فوجی سربراھ کی مرضی سے اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کے طور پہ اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ لندن پولیس کے نمائندے ایلن کروکرفورڈ کے بیان کے بعد کیا وہ صحافی معافی مانگیں گے جو فوٹوشاپڈ بیان پہ ڈھائی ڈھائی گھنٹے کے پروگرامز کرتے رہے۔اوون بینٹ جونز کی اسٹوری کو جن لوگوں نے آسمانی صحیفہ مانا کیا وہ سب لوگ الطاف حسین و ایم کیو ایم سے معافی مانگیں گے یا ہمیشہ کی طرح الزامات لگانے والوں کو مقدس گائے تصور کیاجائے گا۔چند بوٹ پالشئے صحافیوں کا رویہ تو انتہائی قابل مذمت رہا ان کو ہر حال میں معافی مانگنی چاہیئے۔ جب امریکی صدر معافی مانگ سکتا ہے جھوٹ لکھے جانے کی معافی پروین سوامی مانگ سکتی ہیں الطاف حسین معافی مانگ سکتے ہیں تو ان تنخواھدار صحافیوں کو استثناء کیوں۔

image

اپنی اس لکھت کا آغاز بھی شریف تھا تو اختتام بھی شریف ہی ہونا چاہیئے تو آخری ذکر وزیراعظم نوازشریف کا ہی ہوجائے کہ حضور کراچی آئے تو لیکن آفت زدہ شہر کے بنیادی مسائل بجلی کی فراہمی امن و امان  و پانی کی منصفانہ تقسیم پہ توجہ دینے کی بجائے وزیراعلی صاحب سے ملے اور چلے گئے۔دوران اجلاس بھی ساری توجہ گرین بس سروس پہ ہی رہی۔نہ کسی سرکاری ہسپتال جاکر کسی مریض کی عیادت کی نہ ہی کسی ریلیف پیکج کی متوقع اناونسمنٹ ہوئی۔ہماری وزہراعظم سے درخواست ہے کہ بےشک کراچی کراچی شریف نہ ہوسکا لیکن پاکستان شریف کا ہی ایک شہر ہے۔شریف سرکار کا ایسا رویہ سندھ کے سیاست دانوں کے اس الزام کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ صرف پنجاب کے وزیر اعظم ہی لگتے ہیں۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s