آپریشن کلین اپ

بچوں کے اسکول میں اقبال ڈے کے حوالے سے پروگرام آرگنائز کیا جارہا تھا۔صاحبزادے تقریر کی تیاری کرتے ہوئے جملے دہرارہے تھےکہ بڑے زوردار انداز میں گویا ہوئے کہ اقبال نے سوتی ہوئی قوم کو جگایا۔اور اسکے اس انداز پہ ہم یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے کہ آخر وہ کونسی قوم تھی جسے اقبال نے جگایا تھا کیونکہ اس قوم کو تو زلزلے سیلاب نہیں جگاپارہے۔بڑے بڑے سانحات نہیں جگاپارہے یہ قوم تو بہت گہری نیند میں ہے۔یا شاید اقبال کی شاعری نےصرف اتنی دیر کیلئے جگایا ہوگا کہ ارض پاک کے حصول کے بعد پھر ایک طویل خواب غفلت نصیب ہوا ہے جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لےرہا۔

بلدیاتی انتخابات کا پہلا فیز برائے سندھ اور پنجاب مکمل ہوچکا ہے۔پی پی پی و ن لیگ اپنے اپنے صوبوں میں ابھی تک واضح اکثریت لے چکی ہیں۔لیکن دونوں کی کامیابی بہت خونریز کامیابیاں ثابت ہوئی ہیں۔خیرپور و دیگر اضلاع میں ۱۵افراد ان انتخابات کی نظر ہوئے جبکہ فیصل آباد میں ن لیگ ہی کے دو گروپوں میں جنگ چلتی رہی جس کی ایف آئی آر ایک صوبائی وزیر کے حامیوں نے وفاقی وزیر پہ کٹوادی یعنی ن لیگ بمقابلہ ن لیگ چلتا رہا ن لیگ کے کارکنان ن لیگ پہ گولیاں چلاتے رہے تو اندرون سندھ پی پی پی و فنکشنل لیگ کے مابین فساد برپارہا نتیجتاً ۱۳افراد جان سے گئے۔

قیمتی سیاسی کارکنان کی لاشیں دونوں صوبوں میں بکھری پڑی رہیں جشن منانے والے جشن مناتے رہے ماتم کرنے والے ماتم کرگئے لیکن پورے ملک میں سے کسی نے فیصل آباد یا خیرپور میں فوجی آپریشن کا مطالبہ نہیں کیا۔ معذرت کیساتھ کہیں کے ڈی جی رینجرز کے پاس کہیں سے آپریشن  کلین اپ کا آرڈر نہیں آیا۔ پی پی پی یا ن لیگ کے کسی دفتر پہ ریڈ نہیں ہوئی کہیں سے کوئی بٹ کوئی جٹ کوئی خواجہ کوئی چانڈیو کوئی مگسی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے جوڑا گیا نہ ہی کسی کو ۹۰ روزہ ریمانڈ پہ لےجایا گیا۔بلکہ ہلکی پھلکی خبریں بنیں اور باہمی رضامندی سے سب معاملات طے پاگئے۔

بالفرض محال ہمارے منہ میں خاک کوئی لیکن ذرا سوچیں ایسا واقعہ اگر کراچی میں ہوجاتا لالوکھیت یا لانڈھی میں دوران انتخاب فساد ہوجاتا تو کیا اہل زمین کا یہی رویہ ہوتا کیا عمران خان،محمود خان اچکزئی و عبدالقادر بلوچ ایسے ہی چپ رہتے یا کلین کراچی آپریشن کراچی کے نعرے لگا رہے ہوتے بلکہ شاید کراچی کی سیاسی جماعت پہ تو پابندی لگانے کی فرمائشیں چل رہی ہوتیں یہ جانے بغیر کہ ہوا کیا تھا ماجرا کیا تھا۔یہ کونسے دہرے معیار ہیں کہ کسی نے بھی نہیں قبولا کہ قتل کے احکامات کہاں سے آتے تھے۔

دوسرا فیز بھی چند دن میں ہونے جارہا ہے خدا کرے بقایا انتخابات پرامن رہیں لیکن آپریشن کی جتنی ضرورت کراچی میں ہے اس سے زیادہ اسوقت اندرون سندھ و پنجاب میں ہے۔ جتنا اسلحہ موجودہ آپریشن میں آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے برآمد  کیا ہے اس سے کہیں زیادہ تو جیالوں اور لیگی کارکنان کی جیت کے جشن میں نظر آیا۔خدا جانے وہ کونسی ن لیگ تھی جس کیلئے کراچی بدامنی کیس میں سابق چیف جسٹس لکھ کرگئے کہ صرف ن لیگ میں ملیٹنٹ ونگ نہیں۔کیونکہ فیصل آباد میں تو دو دو ملیٹنٹ ونگ سامنے آچکے ہیں جبکہ لاہور کا حال بھی اسلحے سے بھرپور ہے۔

جن باتوں کو بنیاد بناکر ۹۲اور پھر ۲۰۱۴ میں کراچی آپریشن کئے گئے وہ تمام وجوہات اسوقت اپنی تمام انتہاوں کیساتھ اندرون سندھ و پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔اغواء برائے تاوان کراچی سے کہیں زیادہ لاہور اور فیصل آباد میں ہے سیاسی قتل اندرون سندھ و پنجاب میں فی الوقت زیادہ ہیں ڈکیتی کی وارداتیں اندرون سندھ پچھلے پانچ سالوں میں سو گنا بڑھ چکی ہیں۔لیکن کسی نے آپریشن ٹائپ چیز کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

سانحہ فیصل آباد ہو یا سانحہ خیرپور یہ سب ناجائز اسلحہ کی فراوانی کے نتائج ہیں۔اسلحے سے پاک پاکستان وقت کی ضرورت ہے نہ کہ صرف اسلحے سے پاک کراچی۔وقت نے عیاں کردیا ہے کہ آج جائز ناجائز اسلحہ و ملیٹنٹ ونگز ن لیگ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں بہت زیادہ منظم ہیں۔بمقابلہ ایک سیاسی جماعت کے۔اسی لیئے اب مطالبہ بنتا ہے کراچی آپریشن کا دائرہ اب حقیقی کرمنلز کی طرف بھی موڑا جائے۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s