ایم کیو ایم اور اسکا ووٹر

بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔یہ مرحلہ ویسے تو ہر سیاسی جماعت کیلئے اہمیت رکھتا تھا لیکن کراچی میں جاری آپریشن کی وجہ سے یہ مرحلہ متحدہ قومی موومنٹ کیلئے نہایت اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ایم کیو ایم کو اپنی عوامی مقبولیت برقرار رکھنا تھی کیونکہ ایم کیو ایم مخالف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ ایم کیو ایم کا باب بند ہوچکا ہے۔لیکن حیدرآباد،میرپورخاص،نوشہرو فیروز،مٹیاری اور جامشورو میں ایم کیو ایم کی واضح فتح نے سندھ کے شہروں میں الزامات اور میڈیا ٹرائل کی سیاست کو کافی حد تک تابوت میں بند کردیا ہے اور امید ہے کہ آخری کیل ۵دسمبر کو کراچی میں ٹھوکی جائے گی۔

image

حیدرآباد،میرپورخاص سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ،میڈیا،اور دس جماعتی اتحاد سے تھا حتہ کہ تحریک انصاف اور ن لیگ میرپور خاص اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم مخالفت میں اتحاد تک بنا بیٹھے۔لیکن سندھ کے شہروں نے ایم کیو ایم کو حسب سابق واضح اکثریت دی۔میرپورخاص اور حیدرآباد تو ایم کیو ایم کے گڑھ سمجھے جاتے تھے لیکن مٹیاری،نوشہروفیروز و جامشورو سے بھی ایم کیو ایم نے سیٹ نکالی۔

ایسے وقت میں قاعد متحدہ قومی موومنٹ پہ پابندی عائد ہے ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان اٹھائے جاچکے ہیں یونٹ سیکٹر بند ہوں قانون نافذ کرنے والوں کیلئے ایم کیو ایم کا کارکن و ہمدرد ہونا اس وقت سب سے بڑا جرم ہو۔جب کہ سندھ رینجرز الطاف حسین اور انکی جماعت کے خلاف پارٹی بنی ہوئی ہو ایسے میں ایسی فتح عوام سے الطاف حسین کی اور الطاف حسین سے عوام کی محبت کی انتہا ہی تو ہے۔

لیکن محبت کی یہ انتہا کہ ہزاروں الطاف حسین پہ مرمٹے ہزاروں مرمٹنے پہ تیار ہیں۔ترجمان انکل را کا ایجنٹ بولیں یا کوئی زندہ لاشیں بولے یا کوئی کہے کہ ایم کیو ایم کے زمانے گئے لیکن ہر دفعہ ایم کیو ایم اپنے ہی عوامی پذیرائی کے ریکارڈ کو توڑتی نظر آتی ہے۔

اس تمام کامیابی کے پیچھے یقینا کچھ تو بات ہوگی جو ہر دفعہ نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ صرف ایم کیو ایم کو ووٹ دیتا نظر آتا ہے۔اور کیوں نہ دے کہ جہاں ہر سیاسی جماعت میں جعلی ڈگری والوں کی بھرمار ہو وہاں ملک کی تیسری جماعت متحدہ قومی موومنٹ میں کوئی ایک بھی جعلی ڈگری والا نہ نکلا ہو۔ جب ممکت خداداد پاکستان میں عوام ممبران قومی و صوبائی اسبلیز کے دیدار کو ترستے ہوں وہاں متحدہ قومی موومنٹ کا ایم این اے ایم پی اے عام آدمی کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اور ایم کیو ایم کو ووٹ کیوں نہ پڑتا ایم کیو ایم کا کوئی رہنما کوئی ایک ایم این اے ایم پی اے کرپشن کے کسی الزام کی زد میں کبھی نہ آیا۔حتہ کہ الیکٹرک شاکس دے کر ناکردہ گناھ بھی قبول والیئے گئے لیکن کوئی ایک کیس بھی کرپشن کا نہ بن پایا۔

ہمارے ملک میں اپنے آدمی کی کرپشن پہ اپنے آدمی کے گناہوں پہ پردہ ڈالا جاتا ہے اور خود احتسابی و عمل تطہیر کا عنصر ہی نہیں ہے۔ایسے میں اپنے ہی کارکن کا احتساب کرنا اور وقتاًفوقتاً پوری جماعت کو تطہیر کے عمل سے گذارنے والی واحد جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے۔تو ووٹ تو پڑنا ہی تھا

۱۱مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر پہ چھاپہ ہو یا صولت مرزا کی ڈیتھ سیل سے وڈیوہو یا ۸۰۔۸۰افراد کے قتل کے اقبالی بیانات جیسے میڈیا ٹرائل کو فیس کرنے کا جگرا نہ کسی اور سیاسی جماعت کی قیادت میں ہے نہ کسی اور کے کارکن میں۔میڈیا نے ایم کیو ایم پہ جتنے الزامات لگائے ہیں آج تک کوئی ایک ثابت نہ ہو پایا

اسکا مقصد یہ نہیں کہ ایم کیو ایم دودھ سے دھلے ہوئے افراد کا مجموعہ ہے نہیں بلکہ بے شمار اور ان گنت خامیاں کمیاں کوتاہیاں ہوں گی بلکہ ہیں جنہیں کہ صحیح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ خامیاں کوتاہیاں یقیناً ان خوبیوں سے کم ہیں جو ایم کیو ایم کو حاصل ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کا ووٹر اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے پہ تیار نہیں۔ ان نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے نتیجے میں ایم کیو ایم آج ملک کی تیسری اور پاکستان میں بائیں بازو کی واحد بڑی سیکیولر جماعت بن کے سامنے آئی ہے۔

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s