سانحہ چار سدہ

IMG_20160120_223041

آج پھر آرمی پبلک اسکول کا غم تازہ ہوا۔آج پھر بہت سوں کی گود اجڑی۔بہت سے خاندان لاوارث ہوئے آج پھر میرے پاکستان کے روشن کل کو ابدی نیند سلادیا گیا۔ آج پھرسے بہت سے مائیں دہلیز پہ اپنے بچوں کے انتظار میں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔آج پھر بےشمار خاندانوں میں صف ماتم بچھی۔بہت سی مذمتیں آئیں بہت سے بیانات آئے اور آرہے ہیں لیکن کوئی مذمت کوئی بیان مرنے والے کو واپس نہ لاسکا۔ ذخموں پہ نمک چھڑکنے کیلئے یہ بیان بھی آیا کہ سیکیورٹی ایجنسیز نے بروقت کاروائی کی اور بالآخر پچیس شہادتیں پچیس خاندانوں کو ہمیشہ کیلئے سوگوار کرگئیں۔

ہمیشہ کی طرح ہم نے ایسے بیانات پڑھے کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا یہ فلاں کی کاروائی ہے یہ فلاں کی کاروائی ہے۔ہر سانحے کے بعد کی طرح ہم نے پھر سنا کہ اس سانحے نے قوم کو ایک کردیا ہے۔دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔اس ملک میں ہمیشہ کی طرح کچھ ہی دیر میں یقیناً کوئی کالعدم تنظیم اسکی ذمہ داری بھی قبول کرلےگی۔کیونکہ یہاں ذمہ داری قبول کرنے کا فرض صرف کالعدم تنظیمیں ہی پوری کرتی نظر آتی ہیں ورنہ ہمارے حکمران و قانون نافذ کرنے والے ادارے تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کیا کرتے۔آج تک بڑے بڑے واقعات ہوگئے لیکن کوئی وزیرداخلہ،وزیراعظم،کسی ادارے کے کسی سربراھ نے یہ نہیں کہا کہ ان معصوم لوگوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری تھی ہم ناکام ہوئے ہیں ہم استعفی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو انکوائری کیلئے پیش کرتے ہیں۔

بات تو تلخ ہے پر جس ملک میں داعش کے نمائندے دندناتے پھریں وزیرداخلہ کو انکی گرفتاری کیلئے ایف آئی آر ڈھونڈے سے نہ ملے جہاں نیشنل ایکشن پلان کراچی کی حدود سے ایک انچ آگے نہ بڑھ پائے جہاں عوامی نمائندے ضمانتیں کراتے پھریں جہاں جہنمی کتوں سے مذاکرات کی باتیں ہوں جہاں  خوارجیوں کو دفتر دینے کی باتیں ہوں جہاں اسلامی نظریاتی کونسل اکھاڑا بنی ہو۔جہاں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے بنائے جانے والا ادارہ نیکٹا NACTA تک غیر فعال ہو وہاں صرف ایک سانحے سے دوسرے سانحے کے بیچ  کا وقفہ ہی امن کہلاسکتا۔

ہم نے آج تک اپنے اوپر گذرے سانحات سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ہم نے غفلت کے مرتکب افراد یا اداروں کو کبھی کوئی تنبیھ تک نہیں کی۔ہمارے بجٹ کا ۸۰% حکمرانوں اور ہمارے حفاظتی اداروں کو جاتا ہے لیکن عوامی حفاظت کے نام پہ صرف نوٹ بٹورے گئے۔آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا نیشنل ایکشن پلان کےتحت بلیک جیٹ دہشت گردوں کو پکڑا جائے گا نیشنل ایکشن پلان کے تحت پکڑا گیا تو قمر منصور کو پکڑا گیا ڈاکٹر عاصم کو پکڑا گیا لیکن نہیں پکڑا گیا تو ملا عبدالعزیز کو نہیں پکڑا گیا کالعدم تنظیموں کے سربراہان کو نہیں پکڑا گیا۔

ہمارے حاکم اعلان کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں لیکن معذرت کیساتھ ہم ادھوری جنگ لڑرہے ہیں ہم نے فوج کو تو میدان میں اتاردیا لیکن نظریاتی محاذ پہ ہمارے حکماء یہ جنگ لڑنے کیلئے تیار ہی نہیں۔کوئی بھی سیاست دان(علاوہ ایک جن پہ پابندی ہے) دہشتگردی کےخلاف سوچ کو پروان چھڑھاتا نظر نہیں آرہا۔کسی کا بھی موقف واضح نہیں کوئی بھی علی الاعلان میدان عمل میں نظر نہیں آرہا پھر کیونکر ہم جیت کی توقع رکھیں۔ہمارے وزیراعظم صاحب جلد ہی پاکستان کے دورے پہ بھی تشریف لائیں گے اور شاید چارسدہ باچاخان یونیورسٹی بھی چلے جائیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حاصل ہوگا اور کیا وصول۔

وقت آچکا ہے کہ اب حکمرانوں سے لاتعلق ہوکر من حیث القوم ہم فیصلہ کریں کہ ہم کو لڑنا ہے ہر طالبانی مائنڈ سیٹ سے انکے ہر ہر سہولتکار سے ہر ہر داعشور سے ہمیں لڑنا ہے۔یہ جس روپ میں ہوں انکا صفایا کرنا ہے اپنی نئی نسلوں کو انکے ہاتھوں ہوئی تباہی بتاکر ان سے نفرت کا درس دینا ہے۔ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ عدلیہ اور فوج سخت فیصلے کرتے ہوئے گذشتہ اور موجودہ حکمرانوں پہ داعش سمیت کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے چشم پوشی پہ مقدمہ بنائیں اور سخت ترین سزا تجویز کریں تاکہ ان بےبہرہ حاکمین کو یہ احساس ہو کہ ہم انکی ذمہ داری ہیں۔آئیں آج ہم سب مل کر بشیر بلور کا قول دہرائیں کہ
:” ہم مریں گے بھی .. ان کو ماریں گے بھی  لیکن … ان کو چھوڑیں گے نہیں ” 
انشاءاللہ

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s