الطاف حسین اور پابندی

image

جتنے انوکھے اور دہرے معیار ہمارے ملک میں میسر ہیں اسکی مثال کہیں اور نہیں ملاکرتی۔ہم سخی کو پاگل، عیار کو عقلمند،پیسے والے کو بڑا آدمی اور مصلح کو غدار جانتے ہیں۔اور پھر خود سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہم ترقی کیوں نہیں کرتے۔

جیسا کہ دیکھا جارہا ہے کہ آجکل پھر بہت سے حلقوں سے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جانے کا فیشن آن ہے اس سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے دو ہی شرائط نظر آتی ہیں اول پاک فوج کی بھرپور بوٹ چاٹ خوشامد دوئم قاعد ایم کیو ایم الطاف حسین کو گالی۔الطاف حسین کے بیانات کی تشہیر پہ پابندی بھی اسی فیل فیشن کی کڑی ہے۔

  
لیکن سوال یہ ہے کہ جس ملک میں آئین توڑنے والے ملک کے منتخب وزیراعظم کو کال کوٹھری دکھانے والے جرنیل پہ پابندی نہیں جس ملک میں نفرت انگیز بیانات کےباجود مولانا عبدالعزیز،احمد لدھیانوی اور امین شہیدی جیسے دہشت گردوں پہ پابندی  نہیں جس ملک کے میڈیا  کی زینت جرنیلوں کی پتلونیں گیلی کرانے والے سیاستدان ہوں۔ جہاں پرائم ٹائم میں کمانڈر صلاح الدین کا دہشت ناک بیان آن ائیر جاسکتا ہو وہاں آخر الطاف حسین نے ایسا کیا کردیا کہ انکے کسی بھی بیان کی اشاعت پہ مکمل پابندی ہے۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی تلاش کم از کم ہم کو تو ہے۔

ٹھیک ہے حب الوطنی کے ثبوت کے طور پہ ہم الطاف حسین کو برا بھلا کہنے کو غدار وطن،بھتہ خور بلکہ را کا ایجنٹ بھی کہنے کو لکھنے کو تیار ہیں لیکن اس کیلئے آپکو ہمیں قائل کرنا پڑےگا کہ یہ کیسا بھتہ خور ملک دشمن را کا ایجنٹ ہے جو ۲۵سال سے برطانیہ میں بیٹھ کر بھتہ بھی وصول کررہا ہے را سے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ بھی لے رہا ہے لیکن آج تک کہیں وزیر اعظم گیلانی کی طرح اس کی کسی مہنگے اسٹور میں شاپنگ کرتے کی کوئی خبر کیوں نہ آئی؟قمر زمان کائرہ یا نثار مورائی کی طرح برطانیہ میں کسی ہائی کمیونٹی مجرے میں نوٹ وارتے کی کوئی تصویر کیوں نہ آسکی؟ نواز شریف ، شہباز شریف اور زرداری کی طرح کوئی مہنگی پراپرٹی جو اس غدار نے خریدی کا کوئی دستاویزی ثبوت کیوں آج تک سامنے نہیں آیا؟ کیوں کوئی سرے محل یا جاتی امراءاس شخص کی میراث نہیں ؟ کیوں یہ آج تک اسی ۱۲۰گز کے مکان سے وابستہ ہے جبکہ کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ انڈیا سے ہے اور کروڑوں کا بھتہ کراچی سے ؟

ہم تو الطاف حسین کے خطاب و بیان پہ پابندی کے حق میں لکھنے کو ۱۰۰% تیار ہیں لیکن ہمیں دلیل چاہیئے کہ الطاف حسین کے کون سے بیان یا خطاب سے قتل و غارت گری پھیلی یہاں تو لوگوں نے بنکروں میں بیٹھ کر کھلم کھلا کہا کہ جو واپس جائے اسے شہید کردولیکن کوئی پابندی نہیں لگی تقاریر میں فساد کی ترغیبات دیتے حکیم اللہ کو شہید جبکہ فوج کے سپاہی کی شہادت کو حرام موت کہا گیا لیکن تقاریر پھر بھی نفرت انگیز اشتعال انگیز نہ قرار پائیں لیکن  الطاف حسین کی تقاریر پہ بیانات پہ پابندی لگی۔ 

یہ بھی خوب را کاایجنٹ ہے جو صرف یہ کہتا ہے کہ میرے کارکنوں اور قومیت کے لوگوں کو مت مارو اور بات یہاں سے شروع ہوکر نیٹو کی افواج کو دعوت اور بھارت کی مداخلت پر آجاتی ہے جو سراسر غلط ہے ، لیکن بات تو چار حلقوں سے شروع ہوئی اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر 126 دن آئین اور قوانین کی دھجیاں اڑانے پر بھی آگئی تھی۔ اوئے نواز شریف اوئے فلانے ، آگ لگادونگا جلا دونگا، اپنے ہاتھوں سے پھانسی دونگا یہ کرونگا وہ اکھاڑدونگا۔ سپریم کورٹ پر شلواریں اور جرنیلوں کی پتلونیں گیلی کرنے کی باتیں ہوئی، ان کا کیا؟کیا آئین پر حملہ ، پارلیمنٹ پر حملہ، ماڈل ٹاون میں 18 بے گناہ شہادتیں، ستر ہزار سے زاید بے گناہ لوگوں کی شہادت، بلوچستان میں 200 سے زائد ہزارہ شہدا کے مجرم الطاف حسین سے کم قصور وار ہیں؟
کیسے؟ ہمیں سمجھائیں نا؟ الطاف حسین کے بیان سے کتنی ہلاکتیں ہوئی، کتنا گھیراؤ جلاؤ ہوا ، ملک و قوم کو کتنا نقصان ہوا؟

ٹھیک ہے پابندی لگادیں لیکن یہ ضرور واضح کردیں کہ یہ کیسا را کا ایجنٹ ہے جو کہتا ہے میری جان بھی محب وطن جرنیلوں کیلئے حاضر ہے لیکن کرپٹ جرنیلوں اور انکے چمچوں کا احتساب گلے سے پکڑ کے کروں گا اور آج حال کے سابق کرپٹ جرنیلوں کی داستانیں بشمول ڈی ایچ اے اسکینڈل پرائم ٹائم کا حصہ ہیں۔ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ اس را کے ایجنٹ نے کبھی پاکستان مردہ آباد کے نعرے اپنے ساتھیوں سے لگوائے ہوں۔یا فوج کو گالی دی ہو۔بلکہ شاید اس غدارنے تو کبھی بھارتی جارحیت کے جواب میں آم یا ساڑھیاں بھی تحفتاً کبھی کسی کو نہیں بھجوائیں۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اس شخص کی کمزوری اسکے کارکنان ہیں تم اسکے کارکنان کو ماروگے تو وہ چیخے گا بھی، چلائے گا بھی اور گالی بھی دے گا کیونکہ یہ ولائتی بابا کی طرح ماڈل ٹاون میں اٹھارہ لاشیں چھوڑ کر چپ سادھ کر کینڈا نہیں جاسکتا یا آٹھ لاشوں کی موجودگی میں کنٹینر پہ دوپٹہ ڈانس کرسکتا ہے۔ یا چاچا سراج کی طرح بیس تاجروں کی لاشیں وصول کرنے کے باوجود مذاکرات مذاکرات نہیں کرسکتا۔

 
پابندی لگانی ہے تو الطاف حسین پہ ضرور لگائیں لیکن پہلے آزادی اظہار کی شق آئین سے خارج کریں اور ساتھ ہی داعش سہولتکاروں و ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں اور انکے سہولتکاروں پہ بھی تو کوئی پابندی لگائیں اور اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو صرف منہ کے فائر یا تھوک میں پکوڑے تلنے کی کوئی سعی نہ کریں کیونکہ اس قسم کی بوکھلاہٹ میں لگائی گئی پابندیاں الطاف حسین کی سوچ کو اسکی قوم کے دل و دماغ سے نہیں نکال سکتیں۔ وہ اپنے کارکن کا مان ہے اپنے کارکن کا واحد غرور ہے۔

بقول جالب کہ

‏ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری ، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم ، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s