انیس قائم خانی،سرفرازمرچنٹ اور مصطفی کمال

ایم کیو ایم کی مثال سیاسی جماعتوں میں ویسی ہی ہے جو اہل تصوف میں حسین بن منصور حلاج کی ہے … سب سے زیادہ مشہور اور سب سے زیادہ متنازع‘‘…اور متنازع بھی انالحق کے نعرے جتنی۔ ایم کیو ایم متنازع کیوں رہی یہ ایک طویل بحث ہے لیکن ایم کیو ایم کے متنازع ہونے کی انتہا ہی تو ہے کہ وہ واحد جماعت ہے جس پہ اس کے مخالف دو مختلف نوعیت کے الزامات بیک وقت لگاتے ہیں اول کہ ایم کیو ایم ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے اور دوسرا کہ ایم کیو ایم را کی ایجنٹ ہے۔

ایم کیو ایم ان الزامات کی زد میں ہی پل بڑھ کر جوان ہوئی ہے یہ الزامات ایم کیو ایم اور الطاف حسین کیلئے نئے نہیں اور اس طرح کے الزامات ماضی میں بھی مختلف رہنماؤں پہ لگتے رہے حتہ کہ پہلے مارشل لاءایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے تو مادر ملت تک کو انڈین ایجنٹ قرار دیا اس کے بعد اسی نوعیت کے الزامات ذوالفقار علی بھٹو اور انکے بچوں پہ بھی لگتے رہے۔ ایسے ہی الزامات سے بھرپور پریس کانفرنس مصطفی کمال و انیس قائم خانی نے بھی کرڈالی۔

پریس کانفرنس میں انیس قائم خانی کی موجودگی نے اس پریس کانفرنس کی قلعی کھول دی کیونکہ جتنے الزامات ایم کیو ایم اور الطاف حسین پہ مصطفی کمال نے لگائے اور جس جس دور کے الزامات لگے اس پورے عرصے میں انیس قائم خانی ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینیئر یعنی بعد از الطاف ایم کیو ایم کے مالک کل تھے۔کیا پیٹرل  پمپ کیا شادی ہال کیا ٹارگٹ کلنگ یا سانحہ بلدیہ سب انیس قائم خانی کی کنوینیئر شپ کے وقوعے ہیں اور انہی الزامات کی وجہ سے انکا نام ای سی ایل میں موجود ہے اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کئی عدالتیں جاری کرچکی ہیں۔اسوقت انیس قائم خانی تمام ایجنسیز کو مطلوب ہیں۔لیکن ایسے شخص کا دبئی سے کراچی ایئرپورٹ آنا اور معززانہ آزادانہ پریس کانفرنس کرنا کسی لطیفے سے کم نہیں۔ 

یہ پریس کانفرنس کسی طاقت ور کی بوکھلاہٹ میں کی جانے والی بڑبڑاہٹ سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوئی اور کیسے ہوتی جب کہ صولت مرزا کی پھانسی گھاٹ سے کی گئی ویڈیو بھی صرف پانی کا بلبلہ ہی ثابت ہوپائی تھی۔البتہ صولت مرزا کی ویڈیو کا یہ نتیجہ ضرور نکلا تھا کہ ایم کیو ایم کا ناراض سپورٹر بھی ایم کیو ایم کیلئے کھڑا ہوگیا کیونکہ وہ ایسی ویڈیوز اور ایسی سینکڑوں پریس کانفرنسز 92 سے 99 تک دیکھتا رہا ہے۔وقت بلیک اینڈ وائٹ سے کلرڈ اور کلرڈ سے ہائی ڈینسٹی کی طرف بڑھ چکا ہے لیکن طاقت ور کی سوچ آج بھی بلیک اینڈ وائٹ کے دور سے نکل ہی نہیں پارہی ہے۔

مشاہدہ یہی ہے کہ آج حب الوطنی کا معیار صرف ایم کیو ایم کو گالی دینے میں ہی پوشیدہ  ہے آپ کتنے ہی کرپٹ ہوں آپ پر کتنے ہی الزامات ہوں لیکن ایم کیو ایم اور الطاف   حسین کو گالی ایسا وظیفہ ہے جس سے کہ آپ کے میرے تمام گناھ  دھوئے جاسکتے ہیں۔اس کی تازہ مثالوں میں ذوالفقار مرزا،انیس قائم خانی  اور سرفراز مرچنٹ ہیں۔آج سے پندرہ سال پہلے کراچی کی شاہراہ فیصل پر سرفراز مرچنٹ نامی  فرنیچر کا ایک تاجر ہوتا تھا،یہ ایک عام درمیانے درجے کا کاروباری آدمی تھا،یہ گم نام آدمی اچانک نامور ہوگیا کیونکہ اس نے اداکارہ نیلی کے ساتھ شادی کر لی اور یوں اس کا نام اخبارات میں آیا۔ کچھ عرصے میں یہ دوبئی میں سیٹل ہو گیا،2008ء میں حارث اسٹیل مل اور بینک آف پنجاب کا ایشو سامنے آیا تو اس میں سرفراز مرچنٹ کا نام بھی آیا۔ اس پر الزام تھا،اس نے ججوں کے نام پر حارث اسٹیل مل کے مالک شیخ افضل سے دوکروڑ اسی لاکھ روپے لیے،عدالتیں بیدار ہوگئیں،نیب اور ایف آئی اے نےسرفراز مرچنٹ کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کوششیں شروع کیں لیکن مخصوص نادیدہ ہاتھوں نے نیب اور ایف آئی اے کی ہر کاوش کو ناکام بنایا اور اب جبکہ سرفراز مرچنٹ الطاف حسین کو گالی دے رہے ہیں تو معززین شہر کی طرح پرائم ٹائم میں ٹی وی ٹاک شوز کا حصہ ہیں۔

ایک عام اردو بولنے والے کی حیثیت سے ہمارا سوال مصطفی کمال سے یہ ہے کہ ایک مخصوص لابی سے خوف یا لالچ کسی بھی نتیجے میں کی جانے والی  اس پریس کانفرنس کے نتیجے میں اردو بولنے والے پہ کیا گذرے گی۔وہ کہاں کھڑا ہوگا اسے کس نظر سے دیکھا جائے گا۔ کیا اردو بولنے والوں سے محبت کے دعویداروں نے سوچا کہ آپ کے الزامات کے بعد اردو بولنے والا اپنی اور دیگر قوموں کے نزدیک کس درجے کا غدار قرار پائے گا۔اور آج خود مصطفی کمال کہاں کھڑے ہوں گے یہ بات خود مصطفی کمال بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹشو پیپرز کا استعمال کےبعد کیا انجام ہوا کرتا ہے

اتنا کچھ ہوجانے کے بعد  اردو بولنے والے کیلئے مصطفی کمال کی یہ پریس کانفرنس جھاگ بھی بنی تو پیشاب کا چند لمحات کیلئے بلبلے اور پھر بدبو ہی بدبو

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “انیس قائم خانی،سرفرازمرچنٹ اور مصطفی کمال”

  1. Again and again same game is being played with different players, when will the players realize that it does not strengthen our nation but weakens it. Stunts like these do not impress or sway people’s opinion but embolden their faith.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s