رارارارا کا راگ

حب الوطنی و ضمیر جگاؤ مہم کا دور دورہ ہے ۔ ایسے میں حب الوطنی کی بڑی بڑی اسناد محض اس شرط میں مل رہی ہیں کہ انڈین ایجنسی را کو اور پاکستان میں موجود انکے ایجنٹوں کو گالی دینا اور گالی لکھنا ہی واحد شرط ہو سو ہم کہاں پیچھے رہنے والے تھے ہم نے سوچا آج ہم بھی محب وطن ہونے کا بھرپور ثبوت دیں اور رارارا کا راگ لاپ کر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایلیمنٹ کو را ایجنٹ لکھ  کر گالی دے کر اپنی اسناد میں اضافہ کیا جائے۔

لیکن را اور اسکے ایجنٹوں کو گالی لکھنے سے پہلے سوچا پتہ تو کریں کہ آخر را کے کتنے اور کون کون ایجنٹ ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں یا پائے جاتے رہے ہیں کہ جن کو بھرپور لعنت ملامت کی جائے۔کتابوں کو تلاشا تو جانا کہ ہمارے یہاں جتنی بڑی تعداد میں غداری کے سرٹیفیکیٹ بٹے اتنے تو صدارتی ایوارڈ نہ بٹ پائے۔ ہم نے جانا کہ سرحدی گاندھی…. باچا خان غدار انڈین ایجنٹ…ولی خان غدار….اجمل خٹک غدار …جی ایم سید غدار انڈین ایجنٹ ….عطاو اللہ مینگل غدار …بگٹی غدار….خیر بخش مری غدار…..صمد خان اچکزئی غدار نتیجتاً اپنے گهر میں بم سے اڑا دیا گیا..خیر بخش کے ایک بیٹے کی تو لاش بهی نہیں ملی…بگٹی کے نام پر چند هڈیاں دفن کی گئیں..کیا مولا بخش…کیا علاوالدین…کیا حبیب جالب… یہاں تو غداروں کا جمعہ بازار لگ گیا تھا..

ایو خان کے دور حکومت میں بلوچ رہنما نوروز خان اور اس کے بھائيوں اور بیٹوں کو غدار قرار دے کر پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ عطاءاللہ خان مینگل ان کے بھائي نورالدین مینگل، غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری، دود ا خان زرکزئي ، اور عظیم بلوچ قوم پرست شاعر گل خان نصیر کو بھی غدار قرار دیا جاتا رہا۔ ایوب خان کے دور میں انتہا ہی ہوگئی کہ مادر ملت فاطمہ جناح تک کو انڈین ایجنٹ لکھا اور پکارا گیا۔یحیی کے ہاتھوں مجیب جبکہ ضیا کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو غدار قرار پائے ۸۰ ۔ ۹۰ کی دہائی میں ایک لابی بینظیر بھٹو کو بھی سیکیورٹی رسک قرار دیتی رہی ہے۔ بلکہ ۹۹ میں تو میاں صاحب بھی عدالتی سطح تک پہ غدار قرار پائے۔

یہ تمام لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں تو غدار انڈین ایجنٹ پکارے گئے لیکن ان کی موت کے بعد ان کے نام کی یونیورسیٹیز بنیں ان کے ناموں سے فلاحی ادارے بنے ان کے نام سے شاہرائیں منسوب ہوئیں۔ان کی غداری کے خطبات بچوں کی درسی کتب کا حصہ قرار پائے اور وقت ضرورت ارض پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ایسا بھی ہوا کہ ان کی غداری کو پس پشت ڈال کر انکو اہم عہدوں سے نوازا گیا۔عام زبان میں غدار قرار دینے والوں نے ہی محب وطن قرار دیا اور استعمال کیا۔

بھٹو کے دور میں نیپ کی پوری پارٹی کو غدار قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔نہ صرف نیپ پر پابندی لگی تھی بلکہ اس کے رہنماؤں کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی تھی۔لیکن ضیاء الحق کا دور آتے ہی یہ سارے غدار محب وطن ہوگئے۔  جنرل ضیاء کے آمرانہ دور حکومت میں غلام مصطفیٰ کھر اور جام صادق علی کو ’را کا ایجنٹ‘ بتایا گیا اور ان کے نام اٹک سازش کیس کے حوالے سے آئے۔ لیکن پھر اسی کھر اور جام صادق علی کی غداری کی سند پھاڑ کر انہیں بوقت ضرورت اعلیٰ عہدوں پر بھی بٹھایا گیا۔

سو ہماری تو سمجھ ہی نہ آیا کہ ہم مادر ملت کو ،باچاخان کو ، بےنظیر بھٹو ،خیربخش مری یا ان اکابرین کو گالی کیسے لکھیں جن کے نام کی یونیورسٹیز میں ہمارے بچے پڑھتے ہیں سو ہم نے سوچا کہ موجودہ پکارے جاتے را سے فنڈنگ لینے والے انڈین ایجنٹ الطاف حسین ہی کو برا بھلا بول کے حب الوطنی کا کچھ ثبوت دے دیں۔لیکن ہمیں پھر بریگیڈئیر امتیاز یاد آگئے کہ آئی ایس آئی سربراھ کے بھجوائے پیسے تو الطاف حسین نے واپس کردیئے پر را سے پیسے لے لیئے۔ جب یہ نہیں جچا تو ہمیں یاد آیا کہ الطاف حسین تو کارکنوں کو تربیت کیلئے بھی انڈیا بھیجا کرتے ہیں اس پہ بات کی جائے لیکن پھر ذہن منتشر ہوا کہ یہ کیسے جاہل را سے جنگی تربیت یافتہ لوگ ہیں جو مسلسل چھاپوں میں گرفتار ہوتے رہے کسی را کے تربیت یافتہ ایجنٹ نے کسی جگہ کوئی مقابلہ ہی نہیں کیا۔ اللہ جانے میڈیا کو دکھایا گیا اسلحہ انہیں استعمال کرنا آتا بھی تھا یا نہیں۔ کیونکہ جنہیں استعمال آتا ہے وہ کبھی شب قدر میں قیامت کے منظر دکھاتے ہیں کبھی قصہ خوانی بازار میں اپنی تربیت آزماتے ہیں۔ ہمیں الطاف حسین کو گالی لکھ کے حب الوطنی کا ثبوت تو دینا تھا پر ہمیں واقعی سمجھ نہ آسکا کہ یہ بھی خوب را کا ایجنٹ ہے جو بھتے بھی لیتا ہے انڈیا سے فنڈنگ بھی لیتا ہے پر خدمت خلق فاونڈیشن پاکستان میں بناتا ہے۔ جس کے تحت کے کے ایف ایمبولینس سروس و کے کے ایف میت گاڑیاں چلتی ہیں جس فاونڈیشن کے تحت نذیر حسین ہسپتال چلتا ہے جہاں پچاس روپے کی پرچی کے عیوض بڑے سے بڑے اسپیشلسٹ کو دکھایا جاسکتا ہے جس کے تحت فری خورشید بیگم میموریل کلینک چلتی ہے جس کو لاکھوں ووٹ پڑتا ہو ایسی فلاحی فاونڈیشن کے بانی کو گالی کیسے لکھ دیتا ۔ ایک جان ہے جو اللہ ہی کو لوٹانی ہے  سو ہم تو باز آئے ایسی حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ سے ہمارے قلم نے تو ہمارا ساتھ نہ دیا اور ہم ان تمام لوگوں کو بشمول الطاف حسین غدار نہ لکھ پائے۔سو آپ لوگ اب ہمیں غدار لکھ دیں

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

1 thought on “رارارارا کا راگ”

  1. جنید رضا صاحب کی یہ ایک اور بہت اچھی تحریر ہے۔ کاش ہمارے ارباب اختیار و اقتدار غدار بنانے والے یہ کارخانے بند کردیں تاکہ ہمارا ملک بھی کچھ عزت والے چہرے کے ساتھ عالمی برادری کا سامنا کرسکے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s