میرا بھائی عامر لیاقت

سوچنا اور لکھنا ایک تسلسل کا نام ہے اگر اس میں وقفہ آجائے تو دوبارہ قلم کی نوک سیدھی ہونے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔سو آج اسی مشکل کا شکار ہیں اور وجہ یہ ہے کہ کسی کا پیغام ایک امانت ہے اور  مجھے یہ اذن ہوا کہ یہ امانت قارئین  تک پہنچائی جائے۔

اس امانت کو تحریر کرنے سے پہلے یہ واضح کردوں کہ ہم عامر لیاقت فین کلب کا حصہ تھے اور ہیں کیوں نہ ہوں میرا عامر لیاقت حسین سے تعلق اسوقت کا ہے جب ہم اپنی نانی و نانا جنہیں ہم اماں اباجان کہا کرتے تھے اُنکی انگلی پکڑ کر طارق روڈ کمرشل ائیریا میں انکے دفتر مسلم لیگ ہاؤس جایا کرتے تھے۔ہمارا اور ہماری فیملی کا شیخ  لیاقت حسین کی فیملی سے پینتیس ۳۵سالہ محبت کا احترام کا عقیدت کا رشتہ ہے جو تازندگی انشاءاللہ برقرار  رہےگا۔

پچھلے دنوں ٹوئٹر پہ ایم کیو ایم کے ایم این اے علی رضاعابدی سے عامر بھائی کی کچھ نوک جھوک ہوگئی بات بڑھی تو دونوں طرف کے لوگ میدان میں کودے اور بات بڑھتے بڑھتے الزامات پہ آگئی۔ہم سب ٹی وی کھول کے بیٹھے تھے کہ جانے کیا ہونے والا ہے کہ عامر لیاقت نے خاندان اور قوم کا سر یہ کہ کر فخر سے بلند کردیا کہ مجھے حدیثوں میں بھی ملا اور میرے والد کی ہدایت اور تربیت یہی ہے کہ میں اپنے والد کے دوستوں اور انکی اولاد کا احترام کروں اس لیئے اخلاق عابدی(سابق ایم این اے) صاحب جو کہ میرے والد کے دوست تھے انکے بیٹے علی رضا عابدی اور میں اب بھائی بھائی ہیں میرے رویے پہ علی رضا عابدی اور اخلاق عابدی صاحب سے میں معافی کا طلبگار ہوں۔

ہم نے یہ پروگرام ری پیٹ کر کر کے اپنے بیٹوں کو دکھایا اور کہا کہ بیٹا دیکھو اور سیکھو باپ کی عزت کسے کہتے ہیں اور بیٹا ہو تو عامر لیاقت جیسا بلکہ ہم جو یہاں تک سوچ بیٹھے کہ پاک پروردگار نے گر اب بیٹا دیا تو ہم نام بھی عامر لیاقت ہی رکھیں گے۔یہی سوچتے سوچتے ہم نیند کی وادی میں کیا پہنچے کہ خواب میں ہمارے اباجان کے دوست عامرلیاقت کے والد شیخ لیاقت حسین اباجی سے ملاقات ہوئی آپ نے حال احوال لینے کے بعد پوچھا کہ میرا ایک پیغام عامر تک پہنچاؤـ تم بچپن سے ہی آدھا سودا کیوں لاتے ہو جب کبھی مسالحہ لاتے ہو تو دہی بھول جاتے ہو دہی لاؤ تو پیاز بھولنا یعنی آدھ بات پہ عمل کرنا تمہاری پرانی عادت ہے۔ بیٹا عامر کو یاد دلاؤ کہ صرف اخلاق عابدی ہی میرے دوست نہیں تھے میرے یار غار تو فاروق ستار، عامر خان بہت زیادہ تھے۔زرین مجید ،کشور زہرہ،نسرین جلیل محمودہ سلطانہ کی ہم عصر تھیں۔میرے ساتھیوں میں سبزواری خاندان بھی تھا۔اور عامر تم نے تو میرے ان تمام دوستوں کا مذاق اپنے پروگرامز میں بنایا کسی کے کردار کا کسی کی جسمانی کمزوری کا تم بھونڈے مذاق بناتے رہے۔تم میرے عزیزوں میرے دوستوں میرے ہمنواؤں پہ را ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے رہے میری تحریک جس کو ہم نے فاروق ستار نے عمران فاروق نے برے وقتوں میں پروان چڑھایا تم اسی کی کشتی ڈبونے کے انتظامات کرتے ہو۔بیٹا تم نے عابدی سے معافی مانگی یہ بڑائی کی دلیل ہے لیکن  تم میرے رفیق فاروق ستار عامر خان سے اور ان بچے بچیوں سے یعنی میرے خانوادہ ایم کیو ایم سے جب تک معافی نہ مانگو گے یہ معافی اسوقت یہاں عالم ارواح میں صرف سیاسی چھچورا پن ہی سمجھی جائےگی۔

 بیٹا جنید اس تک جاؤ اور اسے بتاؤ کہ جن لوگوں نے محمودہ سلطانہ جیسی حب الوطنی کے شاہکار کو نہ چھوڑا جنہوں نے مجھ پہ کرپشن کے جھوٹے الزامات لگائے گر تم انکی طرف گئے تو تمہاری ماں تمہیں دودھ نہیں بخشے گی۔

اسی اثناء میں ایک زوردار آواز آئی کہ اٹھو بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے  پیچھے سے ہرا مصالحہ اور دہی اور چاول لیتے ہوئے آنا ہم نے لسٹ بنائی اور تہیہ کرلیا کہ عامر بھائی کی طرح آدھا سودا نہیں لائیں گے۔

تحریر جنید رضا کراچوی

Advertisements

Author: Junaid Raza Zaidi

The Only Sologon is Pakistan First

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s